Sunan Ibne-Majah 849

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

849Sunan Ibne-Majah

جب امام قرأت کرے تو خاموش ہو جاؤ

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: فَسَكَتُوا بَعْدُ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الْإِمَامُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، اس کے بعد پہلی جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے: پھر لوگوں نے جہری نماز میں خاموشی اختیار کرلی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer: and he mentioned a similar report, and added to it, and he said: "And after that they were quiet in the prayers in which the lmdm. Recites aloud." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جہری نماز میں لوگوں نے آواز سے پڑھنا چھوڑ دیا، یا سورت کا پڑھنا ہی چھوڑ دیا، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ سورت فاتحہ کا پڑھنا بھی چھوڑ دیا جیسا حنفیہ نے سمجھا ہے کیونکہ اس کے بغیر تو نماز ہی نہیں ہوتی، واضح رہے کہ حدیث کا آخری ٹکڑا فسکتوا مدرج ہے، زہری کا کلام ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٤) (صحیح )