Sunan Ibne-Majah 858

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

858Sunan Ibne-Majah

رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھانا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْسَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ ان دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے مقابل لے جاتے، اور جب رکوع میں جاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، (تو بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے رفع یدین کرتے) اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ ہاتھ نہ اٹھاتے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn e Umar said: I saw the Messenger of Allah ﷺ raising his hands until they were parallel to his shoulders when he started the prayer, and when he bowed in Ruku, and when he raised his head from Ruku, but he did not raise them between the two prostrations.(sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا مسنون ہونا ثابت ہوگیا ہے، جو لوگ اسے منسوخ یا مکروہ کہتے ہیں ان کا قول درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٩ (٧٢١)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٦ (٢٥٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٦ (٨٧٥)، سنن النسائی/الافتتاح ١ (٨٧٧)، التطبیق ١٩ (١٠٥٨)، ٢١ (١٠٦٠)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٨٣ (٧٣٥)، ٨٤ (٧٣٦)، ٨٥ (٧٣٨)، ٨٦ (٧٣٩)، موطا امام مالک/الصلاة ٤ (١٦)، مسند احمد (٢/٨، ١٨، ٤٤، ٤٥، ٤٧، ٦٢، ١٠٠، ١٤٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٤١ (١٢٨٥)، ٧١ (١٣٤٧) (صحیح )