Sunan Ibne-Majah 857

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

857Sunan Ibne-Majah

آواز سے آمین کہنا۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو مُسْهِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ صُبَيْحٍ الْمُرِّيُّ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَسَدَتْكُمْ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ، مَا حَسَدَتْكُمْ عَلَى آمِينَ، فَأَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ آمِينَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا آمین کہنے پر کیا، لہٰذا تم آمین کثرت سے کہا کرو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "The jews do not envy you for anything more than they envy you for the Salam and (saying) Amin, so say Amin a great deal." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٩٧، ومصباح الزجاجة: ٣١٤) (ضعیف جدا) (سند میں طلحہ بن عمرو متروک ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث بغیر آخری ٹکڑے فأکثروا من قول آمين کے ثابت ہے )