عباس بن سہل ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ ابو حمید ساعدی، ابواسید ساعدی، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ ؓ اکٹھے ہوئے، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا، ابوحمید ؓ نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ألله أكبر کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع کے لیے ألله أكبر کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) ، اور سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی ١ ؎۔
Abbas bin Sahl As·Sadi said: Abu Humaid, Abu Usaid As.Saidi, Sahl bin Sad, and Muhammad bin Maslamah came together and spoke about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ Abu Humaid said: I am the most knowledgeable of you about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ The Messenger of Allah ﷺ stood up and said Allahu Akbar, and raised his hands, thenhe raised them when he said Allahu Akbar for Ruku, then he stood up and raised his hands, and stood straight until every bone had returned to its place.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے، اس طرح کل چار جگہیں ہوئیں جس میں آپ رفع یدین کرتے تھے، تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت، اور تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ألله أكبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے مقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) ، اور جب دو سجدوں (یعنی رکعتوں کے بعد) اٹھتے تو اسی طرح کرتے۔
It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "When the Prophet ﷺ stood up to offer a prescribed prayer, he said Allahu Akbar and raised his hands until they were parallel to his shoulders. When he wanted to bow he did likewise; when he raised his head from bowing he did likewise; and when he stood up after the two prostrations he did likewise." (Hasan)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے۔
It was narrated from lbn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ used to raise his hands at every Takbir (saying Allahu Akbar), (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٧٢٧، ومصباح الزجاجة: ٣١٧) (صحیح) (سند میں عمر بن ریاح متروک ہے، لیکن کثرت شواہد کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابوداود: ٧٢٤ )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے (یعنی رفع یدین کرتے) ۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ used to raise his hands when he entered prayer, and when he bowed in Ruku," (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٣، ومصباح الزجاجة: ٣١٨) (صحیح) (اسناد صحیح ہے، لیکن دار قطنی نے موقوف کو صواب کہا ہے، اس لئے عبد الوہاب الثقفی کے علاوہ کسی نے اس حدیث کو مرفوعاَ حمید سے روایت نہیں کی ہے، جب کہ حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ اور ابن حبان نے کی ہے، اور البانی صاحب نے بھی صحیح کہا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٧٢٤ )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں ضرور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں، (چنانچہ ایک روز میں نے دیکھا) کہ آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف رخ کیا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا، پھر جب رکوع کیا تو (بھی) اسی طرح اٹھایا (یعنی رفع یدین کیا) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو (بھی) اسی طرح اٹھایا ١ ؎۔
It was narrated that Wail bin Hujr said: “I said: ‘I will look at the Messenger of Allah ﷺ and see how he performs the prayer.’ He stood up and faced the Qiblah, and raised his hands until they were parallel to his ears. When he bowed, he raised them likewise, and when he raised his head from Ruku’, he raised them likewise” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر ؓ دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لئے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔
ابوالزبیر سے روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ ؓ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے جاتے، یا رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور کہتے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم بن طہمان (راوی حدیث) نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں تک اٹھا کر بتایا۔
It was narrated from Abu Zubair that Jabir bin Abdullah would raise his hands when he began the prayer, and when he bowed, and when he raised (his head) from Ruku he would do likewise, and he said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ doing that." (One of the narrators) said: "Ibrahim bin Tahman (one of the narrators) raised his hands to his ears," (Hasan)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے، اور نہ نیچا رکھتے بلکہ ان دونوں کے بیچ سیدھا رکھتے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ bowed, he neither raised his head nor lowered it, rather (he did something) between that." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح کہ پیٹھ اور گردن برابر رکھتے، اور اسی طرح سے بالاجماع رکوع کرنا سنت ہے، اور اہل حدیث کے نزدیک یہ تعدیل ارکان میں داخل ہے، اور نماز میں تعدیل ارکان فرض ہے، یہی قول ائمہ ثلاثہ اور ابویوسف کا بھی ہے، لیکن ابوحنیفہ اور محمد رحمہما اللہ نے اس کو واجب کہا ہے، اہل حدیث کا بھی یہی مذہب ہے، نماز کے آداب و شروط اور سنن کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ بہت ساری نماز پڑھی جائیں جن میں سنت کا اہتمام نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو نیک عمل کی توفیق دے۔
ابومسعود (عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ انصاری) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ نماز درست نہیں ہوتی ہے جس کے رکوع و سجود میں آدمی اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ bowed, he neither raised his head nor lowered it, rather (he did something) between that."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بھی نکلتا ہے کہ تعدیل ارکان نماز میں فرض ہے، اور یہی قول ہے اہل حدیث کا اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک نفی کمال پر محمول ہے، اور ان کا یہی قاعدہ ہے، وہ اکثر حدیثوں کو جو اس مضمون کی آئی ہیں نفی کمال پر ہی محمول کرتے ہیں، جیسے لا صلاة إلا بفاتحة الکتاب وغیرہ۔
علی بن شیبان ؓ سے روایت ہے اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی قوم کے نمائندہ بن کر آئے تھے، وہ کہتے ہیں: ہم نکلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے کنکھیوں سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کر رہا تھا، جب نبی اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! اس شخص کی نماز نہیں ہوگی جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۔
It was narrated that Ali bin Shaiban, who was part of a delegation (to the Prophet ﷺ said: "We set out until we came to the Messenger of Allah ﷺ and we gave him our oath of allegiance and performed prayer behind him. He glanced out of the comer of his eye at a man who was not settling his spine when he bowed and prostrated. When the Prophet ﷺ finished the prayer, he said: O Muslims, there is no prayer for the one who does not settle his spine when bowing and prostrating. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٢٠، ومصباح الزجاجة: ٣٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣) (صحیح )
وابصہ بن معبد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی کمر برابر رکھتے یہاں تک کہ اگر آپ کی کمر پر پانی ڈال دیا جاتا تو وہ تھم جاتا ١ ؎۔
It was narrated that Rashid said: "I heard Wabisah bin Mabad saying: I saw the Messenger of Allah ﷺ performing prayer, and when he bowed he made his back so straight that if water were poured on it, it would have stayed there. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ، مکمل نماز اس کو کہتے ہیں، یہ تو ظاہری آداب ہیں اور دل کے خشوع و خضوع اور اطمینان اس کے علاوہ ہیں، بڑا ادب یہ ہے کہ نماز میں ادھر ادھر کے دنیاوی خیالات نہ آئیں، اور نمازی یہ سمجھے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، اگر یہ کیفیت نہ طاری ہو سکے تو یہی سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کی ہر ایک حرکت کو دیکھ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٩، ومصباح الزجاجة: ٣٢٢) (صحیح) (سند میں طلحہ بن زید، عثمان بن عطاء، اور ابراہیم بن محمد ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجہ ب تحقیق، د ؍ عوض الشہری، و مجمع الزوائد: ٢ / ١٢٣ )
معصب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص ؓ) کے قریب (نماز پڑھتے ہوئے) رکوع کیا تو تطبیق کی۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ہم پہلے اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں حکم دیا کہ (ہاتھ) گھٹنوں کے اوپر رکھیں۔
It was narrated that Musab bin saad said: I put my hands between my knees.He struck my hand and said: We used to do that, then we were commanded to put them on the knees." (Sahih)
Notes · وضاحت
تطبیق کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ملا کر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر رانوں کے درمیان ہاتھ رکھے جائیں۔ رکوع کا یہ طریقہ منسوخ ہوچکا ہے۔ جو حکم منسوخ ہوچکا ہو، اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ رکوع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ گھٹنوں پر اس طرح رکھے جائیں جس طرح گھٹنوں کو پکڑا جاتا ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سمع الله لمن حمده کہہ لیتے تو ربنا ولک الحمد کہتے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اور کئی دوسری حدیثوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ امام سمع الله لمن حمده کہے اور اس کے بعد ربنا ولک الحمد کہے اور مقتدی امام کے ربنا ولک الحمد کہنے کے بعد یہ کلمات کہے، علماء کے درمیان امام اور مقتدی دونوں کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا دونوں ہی یہ دونوں کلمات کہیں یا صرف امام دونوں کلمات کہے اور مقتدی ربنا ولک الحمد پر اکتفاء کرے، یا امام سمع الله لمن حمده پڑھے اور مقتدی ربنا ولک الحمد، شافعیہ اور بعض محدثین کا مذہب ہے کہ امام دونوں کلمات کہے اور مقتدی صرف ربنا ولک الحمد پڑھے، امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک امام صرف سمع الله لمن حمده کہے، اور مقتدی صرف ربنا ولک الحمد، ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو، لیکن اس سے یہ کہاں نکلتا ہے کہ امام ربنا ولک الحمد نہ کہے، یا مقتدی سمع الله لمن حمده نہ کہے، دوسری متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دونوں کلمے کہتے تھے، اسی لئے امام طحاوی حنفی نے بھی اس مسئلہ میں ابوحنیفہ (رح) کے قول کو نہیں لیا، اور ب اتباع حدیث یہ حکم دیا ہے کہ امام دونوں کلمے کہے، اب رہ جاتا ہے کہ کیا مقتدی دونوں کلمے کہے یا صرف دوسرے کلمے پر اکتفاء کرے، جب کہ روایت ہے کہ إن النبي ﷺ کان يقول: إنما جعل الإمام ليؤتم به ... وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا ولک الحمد يسمع الله لکم فإن الله تبارک وتعالى قال على لسان نبيه ﷺ: سمع الله لمن حمده (صحیح مسلم، ابوعوانہ، مسند احمد، سنن ابی داود) نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ امام تو صرف اسی لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا ولک الحمد کہو اللہ تمہاری سنے گا، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بات کہی ہے کہ اللہ کی جس نے حمد کی اللہ نے اس کی حمد سن لی، محدث عصر امام البانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مقتدی سمع الله لمن حمده کہنے میں امام کے ساتھ شرکت نہ کرے، جیسے اس میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ امام مقتدی کے قول ربنا ولک الحمد میں اس کا شریک نہیں ہے، اس لیے کہ اس رکن میں امام اور مقتدی کیا کہیں اس کے لیے یہ حدیث نہیں وارد ہوئی ہے بلکہ یہ واضح کرنے کے لیے یہ حدیث آئی ہے کہ مقتدی امام کے سمع الله لمن حمده کہنے کے بعد ربنا ولک الحمد کہے، ایسے ہی حدیث: صلوا کما رأيتموني أصلي کے عموم کا تقاضا ہے کہ مقتدی بھی امام کی طرح سمع الله لمن حمده وغیرہ کہے، (صفۃ صلاۃ النبی ﷺ، والاختیارات الفقہیہ للإمام الالبانی ص ١٢٥ -١٢٦)، خلاصہ یہ کہ امام اور مقتدی دونوں دونوں کلمات کہیں اور مقتدی امام کے سمع الله لمن حمده کہنے کے بعد ربنا ولک الحمد کہے، واللہ اعلم۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لک الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد، اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے آسمانوں اور زمین بھر کر حمد ہے، اور اس کے بعد اس چیز بھر کر جو تو چاہے ۔
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس مال و دولت کا ذکر چھیڑا، آپ نماز میں تھے، ایک شخص نے کہا: فلاں کے پاس گھوڑوں کی دولت ہے، دوسرے نے کہا: فلاں کے پاس اونٹوں کی دولت ہے، تیسرے نے کہا: فلاں کے پاس بکریوں کی دولت ہے، چوتھے نے کہا: فلاں کے پاس غلاموں کی دولت ہے، جب رسول اللہ ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور آخری رکعت کے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:اللهم ربنا ولک الحمد ملئ السموات وملئ الأرض وملئ ما شئت من شيئ بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منک الجد اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد اس چیز بھر جو تو چاہے، اے اللہ! نہیں روکنے والا کوئی اس چیز کو جو تو دے، اور نہیں دینے والا ہے کوئی اس چیز کو جسے تو روک لے، اور مالداروں کو ان کی مالداری تیرے مقابلہ میں نفع نہیں دے گی ، رسول اللہ ﷺ نے جَدّ کہنے میں اپنی آواز کو کھینچا تاکہ لوگ جان لیں کہ بات ایسی نہیں جیسی وہ کہہ رہے ہیں۔
It was narrated that Abu Umar said: "I heard Abu Juhaifah say: Good fortune was mentioned in the presence of the Messenger of Allah ﷺ while he was performing prayer. A man said: So-and-sos fortune is in horses. Another man said: S0-and-sos fortune is in camels. another man said: So-and-sos fortune is in sheep. Another man said: So-and-sos fortune is in slaves. While the Messenger of Allah ﷺ was finishing his prayer, he raised his head at the end of the last Rakah and said: (Allah hears those who praise Him. a Allah! A our Lord! To You is the praise as much as fills the heavens, as much as fills the earth and as much as You will after that Allah, there is none who can withhold what You give, and none who can give what You withhold, and the good fortune of any fortunate person is to no avail against You). The Messenger of Allah ﷺ elongated the word add (fortune) so that they would know that it was not as they had said." (Daif)…..
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٠، ومصباح الزجاجة: ٣٢٥) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو عمرو مجہول ہیں، اس بناء پر یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن حدیث میں مذکور دعاء اللهم ربنا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح مسلم عن ابن عباس ؓ، ومصباح الزجاجة )
ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلو سے الگ رکھتے کہ اگر ہاتھ کے بیچ سے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
It was narrated from Maimunah that when the Prophet ﷺ prostrated, he would hold his forearms away from his sides, such that if a lamb wanted to pass under his arms, it would be able to do so. (Sahih)
عبداللہ بن اقرم خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا، مجھ سے میرے والد نے کہا: تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے پوچھوں (کہ کون لوگ ہیں) ، وہ کہتے ہیں: میرے والد گئے، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہیں، میں نماز میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، جب جب رسول اللہ ﷺ سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا ٢ ؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: لوگ عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں، اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ لوگ عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں۔
It was narrated from (Ubaidullah bin Abdullah) bin Aqram Al-Khuzai that his father said: "I was with my father on the plain in Namiraha when some riders passed us and made their camels kneel down at the side of the road. My father said to me: Stay with your lambs until I go to those people and see what they want. He said: Then he (my father) went out and I come, (i.e, I came near.) then there was the Messenger of Allah ﷺ and the time for prayer came so I prayed with them, and I was looking at the whiteness of the armpits of the Messenger of Allah ﷺ every time he prostrated." (Sahih) Ibn Majah said: The people say Ubdaidullah bin Abdullah, but Abu Bakr (RA) bin Abu Shaibah said: "The people say ,Abdullah bin Ubaidullah." Muhammad bin Bashshar said: "Abdur-Rahman bin Mahdi, Safwan bin Eisa and Abu Dawud all said: Dawud bin Qais narrated to us, from "Ubaidullfih bin Abdullah bin Aqram, from his father, from the Prophet ﷺ ﷺ with similar wording. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: نمرہ: عرفات سے متصل ایک جگہ کا نام ہے، جو عرفات سے پہلے پڑتا ہے۔ ٢ ؎: سجدے میں آپ ﷺ دونوں بازوؤں کو پسلی سے اس قدر دور رکھتے کہ بغل صاف نظر آتی۔
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٨٩ (٢٧٤)، سنن النسائی/التطبیق ٥١ (١١٠٩)، (تحفة الأشراف: ٥١٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥) (صحیح )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے ١ ؎۔
It was narrated that Wail bin Hujr said: "I saw the Prophet ﷺ when he prostrated and put his knees on the ground before his hands, and when he stood up after prostrating, he took his hands off the ground before his knees." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو عاصم سے شریک کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے، اور شریک تفرد کی صورت میں قوی نہیں ہیں، علامہ البانی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے متن کو عاصم بن کلیب سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز کو شریک کی نسبت زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اس کے باوجود ان ثقہ راویوں نے سجدہ میں جانے اور اٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث میں شریک کو وہم ہوا ہے، اور یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے جو قطعاً قابل استدلال نہیں، اور صحیح حدیث ابوداود میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے جس میں ہے کہ دونوں ہاتھ کو دونوں گھٹنوں سے پہلے رکھے، علامہ ابن القیم نے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کو مقلوب کہا ہے کہ اصل حدیث یوں ہے: وليضع رکبتيه قبل يديه یعنی نمازی دونوں ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے، لیکن محدث عبدالرحمن مبارکپوری، علامہ احمد شاکر، شیخ ناصر الدین البانی نے ابن القیم کے اس رائے کی تردید کی ہے، اور ابن خزیمہ نے کہا ہے کہ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے والی روایت کو منسوخ کہنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ سعد بن ابی وقاص ؓ کی یہ روایت: كنا نضع اليدين قبل الرکبتين فأمرنا بالرکبتين قبل اليدين یعنی: پہلے ہم گھٹنوں سے قبل ہاتھ رکھتے تھے، پھر ہمیں ہاتھوں سے قبل گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا انتہائی ضعیف ہے، اور قطعاً قابل استدلال نہیں۔ مسئلے کی مزید تنقیح اور کے لیے ہم یہاں پر اہل علم کے اقوال نقل کرتے ہیں: اہل حدیث کا مذہب ہے کہ سجدے میں جانے کے لیے گھٹنے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھا جائے گا، یہی صحیح ہے اس لیے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے فعل اور حکم دونوں سے ثابت ہے، رہا فعل تو ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو گھٹنے سے پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھتے اس حدیث کی تخریج ایک جماعت نے کی ہے جن میں حاکم بھی ہیں، حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، اور جیسا کہ ان دونوں نے کہا ایسا ہی ہے، اس کی تصحیح ابن خزیمہ ( ٦٢٧ ) نے بھی کی ہے (ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل ٢ /٧٧-٧٨)، رہ گیا امر نبوی تو وہ ابوہریرہ ؓ کی مرفوع حدیث سے ثابت ہے: إذا سجد أحدکم فلا يبرك كما يبرک البعير و ليضع يديه قبل رکبتيه یعنی: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کے بیٹھنے کی طرح زمین پر نہ بیٹھے، گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھے، اس حدیث کی تخریج ابوداود، نسائی اور جماعت نے کی ہے، اور اس کی سند نووی اور زرقانی کے بقول جید ہے، اور یہی حافظ ابن حجر کا قول ہے، اور ان دونوں حدیثوں کے معارض صرف وائل بن حجر کی حدیث ہے، اور یہ راوی حدیث شریک بن عبداللہ القاضی کی وجہ سے ضعیف ہے، اس لیے کہ وہ سیٔ الحفظ (کمزور حافظہ کے) ہیں، تو جب وہ تفرد کی حالت میں ناقابل حجت ہیں تو جب ثقات کی مخالفت کریں گے تو کیا حال ہوگا، اسی لیے حافظ ابن حجر بلوغ المرام میں فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ کی حدیث وائل کی حدیث سے زیادہ قوی ہے، اور اس کو عبدالحق اشبیلی نے ذکر کیا ہے۔ طحاوی شرح معانی الآثار ( ١ /١٥٠) میں فرماتے ہیں کہ اونٹ کے گھٹنے اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، ایسی ہی دوسرے چوپایوں کے اور انسان کا معاملہ ایسے نہیں تو ارشاد نبوی ہوا کہ نمازی اپنے گھٹنوں پر نہ بیٹھے جو کہ اس کے پاؤں میں ہوتے ہیں، جیسا کہ اونٹ اپنے گھٹنوں پر (جو اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں) بیٹھتا ہے، لیکن بیٹھنے کی ابتداء ایسے کرے کہ پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے جس میں اس کے گھٹنے نہیں ہیں پھر اپنے گھٹنوں کو رکھے تو اپنے اس فعل میں وہ اونٹ کے بیٹھنے کے خلاف کرے گا، البانی صاحب کہتے ہیں کہ اس سنت میں وارد حکم بظاہر واجب ہے، ابن حزم نے محلی میں اس کو واجب کہا ہے ( ٤ /١٢٨)، واجب کہنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کے الٹا ناجائز ہے، اور اس میں اس اتفاق کی تردید ہے جس کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فتاویٰ میں نقل کیا ہے کہ دونوں طرح جائز ہے، (فتاوی ابن تیمیہ ١ /٨٨)، البانی صاحب کہتے ہیں کہ اس متروک سنت پر تنبیہ ہونی چاہیے تاکہ اس پر عمل کرنے کا اہتمام ہو، اور یہی چیز ابوحمید ساعدی ؓ کی دس صحابہ رسول کے ساتھ حدیث میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ زمین کی طرف جاتے تھے اور آپ کے دونوں ہاتھ پہلو سے دور ہوتے تھے پھر سجدہ کرتے تھے، اور سبھی نے ابوحمید سے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا، نبی اکرم ﷺ ایسے ہی نماز پڑھتے تھے، اس کی روایت ابن خزیمہ (صحیح ابن خزیمہ ١ /٣١٧-٣١٨) وغیرہ نے صحیح سند سے کی ہے۔ جب آپ کو یہ معلوم ہوگیا اور آپ نے میرے ساتھ لفظ هوى کے معنی پر غور کیا جس کے معنی یہ ہیں کہ پہلو سے دونوں ہاتھ کو الگ کرتے ہوئے زمین پر جانا تو آپ پر بغیر کسی غموض کے یہ واضح ہوجائے گا کہ ایسا عادۃً اسی وقت ممکن ہے جب کہ دونوں ہاتھ کو آدمی زمین پر لے جائے نہ کہ گھٹنوں کو اور اس میں وائل ؓ کی حدیث کے ضعف پر ایک دوسری دلیل ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، ابن حزم اور ایک روایت میں احمد کا ہے، (ملاحظہ ہو: الاختیارات الفقہیہ للإمام الالبانی، ٩٠ -٩١) البانی صاحب صفۃ صلاۃ النبی ﷺ میں دونوں ہاتھوں کو زمین پر سجدہ کے لیے آگے کرنے کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سجدہ میں جاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھتے تھے، اور اس کے کرنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھے۔ پہلی حدیث کی تخریج میں فرماتے ہیں کہ اس کی تخریج ابن خزیمہ، دارقطنی اور حاکم نے کی ہے، اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، اور اس کے خلاف وارد حدیث صحیح نہیں ہے، اس کے قائل مالک ہیں، اور احمد سے اسی طرح مروی ہے کمافی التحقیق لابن الجوزی، اور مروزی نے مسائل میں امام اوزاعی سے صحیح سند سے یہ روایت کی ہے کہ میں نے لوگوں کو اپنے ہاتھ زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھتے پایا ہے۔ اور دوسری حدیث جس میں دونوں ہاتھوں کو پہلے زمین پر رکھنے کا حکم ہے، اس کی تخریج میں لکھتے ہیں: ابوداود، تمام فی الفوائد، سنن النسائی صغریٰ و کبریٰ صحیح سند کے ساتھ، عبدالحق نے احکام کبریٰ میں اس کی تصحیح کی ہے اور کتاب التہجد میں کہا کہ یہ اس سے پہلی یعنی اس کی مخالف وائل والی حدیث کی سند سے زیادہ بہتر ہے، بلکہ وائل کی حدیث اس صحیح حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ سند کے اعتبار سے بھی ضعیف ہے، اور اس معنی کی جو حدیثیں ہیں، وہ بھی ضعیف ہیں جیسا کہ میں نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ ( ٩٢٩ ) اور ارواء الغلیل ( ٣٥٧ ) میں اس کی کی ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جان لیں کہ اونٹ کی مخالفت کی صورت یہ ہے کہ سجدے میں جاتے وقت دونوں ہاتھوں کو زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھا جائے، کیونکہ سب سے پہلے اونٹ بیٹھتے وقت اپنے گھٹنے کو جو اس کے ہاتھوں (یعنی اس کے دونوں پیر) میں ہوتے ہیں، زمین پر رکھتا ہے، جیسا کہ لسان العرب وغیرہ میں آیا ہے، اور امام طحاوی نے مشکل الآثار اور شرح معانی الآثار میں ایسے ہی ذکر کیا ہے، اور ایسے ہی امام قاسم سرقسطی (رح) کا قول ہے، چناچہ انہوں نے غریب الحدیث میں صحیح سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کوئی شخص نماز میں اڑیل اونٹ کی طرح قطعاً نہ بیٹھے، (امام سرقسطی کہتے ہیں کہ یہ سجدہ میں جانے کی صورت میں ہے) یعنی وہ اپنے آپ کو زمین پر اس طرح نہ پھینکے جس طرح اڑیل اونٹ بےاطمینانی سے بیٹھتا ہے، بلکہ اطمینان کے ساتھ نیچے جائے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے، پھر اس کے بعد اپنے گھٹنوں کو، اس سلسلے میں ایک مرفوع حدیث مروی ہے جس میں یہ تفصیل موجود ہے، پھر قاسم سرقسطی نے اوپر والی حدیث ذکر کی، ابن القیم کا یہ کہنا عجیب ہے کہ یہ بات عقل سے دور ہے، اور اہل زبان کے یہاں غیر معروف بھی ہے۔ ہم نے جن مراجع کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کے علاوہ دوسرے بہت سارے مراجع میں ان کی تردید ہے، جس کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے، ہم نے اس مسئلہ کو شیخ حمود تویجری پر اپنے رد میں تفصیل سے بیان کیا ہے (ملاحظہ ہو: صفۃ الصلاۃ، ١٤٠ -١٤١ )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤١ (٨٣٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٥ (٢٦٨)، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨١)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٤ (١٣٥٩) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، نیز: ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣٥٧ ، و ضعیف أبی داود: ١٥١ )