عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات (اعضاء) پر سجدہ کروں، اور بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ (وہ سات اعضاء یہ ہیں) : دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں قدم، اور وہ پیشانی و ناک کو ایک شمار کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ said: "I have been commanded to prostrate on seven, and not to tuck up my hair or my garment." (Sahih) Ibn Tawus said: My father used to say: The two palms, two knees and two feet, and he used to count the forehead and nose as one.
عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم ۔
It was narrated from Abbas bin Abdul-Muttalib that he heard the Prophet ﷺ say: "When a person prostrates, seven parts of his body proslrate with him: His face, his two hands, his two knees, and his two feet." (Sahih)
صحابی رسول احمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں (اور بازوؤں) کو پہلووں سے اتنا دور کرتے کہ ہمیں (اس مشقت کی کیفیت کو دیکھ کر) ترس آتا۔
Ahmar, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ narrated to us: “We used to feel sorry for the Messenger of Allah ﷺ because he took pains to keep his arms away from his sides when he prostrated.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ الگ رکھنے کی وجہ سے آپ کو کافی مشقت اٹھانی پڑتی تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥٨ (٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٢، ٥/٣١) (صحیح )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: فسبح باسم ربک العظيم نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: اسے اپنے رکوع میں کہا کرو ، پھر جب سبح اسم ربک الأعلى نازل ہوئی تو ہم سے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کہا کرو ١ ؎۔
Uqbah bin Amir Al-juhani said: "When the following was revealed: So glorify the Name of your Lord, the Most Great, the Messenger of Allah ﷺ said to us: Say this in your Ruku. And when the following was revlealed: Glorify the Name of your Lord, the Most High. pI the Messenger of Allah ﷺ said to us: Say this in your prostrations. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رکوع میں سبحان ربي العظيمِ اور سجدہ میں سبحان ربي الأعلى کہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥١ (٨٧٥، ٨٧٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٩ (١٣٤٤) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن ایوب منکر الحدیث، اور ایاس بن عامر غیر قوی ہیں اس لئے یہ ضعیف ہے )
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو رکوع میں سبحان ربي العظيم تین بار، اور سجدہ میں سبحان ربي الأعلى تین بار کہتے سنا۔
It was narrated from Hudhaifah bin Al-Yaman that he heard the Messenger of Allah ﷺ say when he bowed: "Subhiina Rabbiyal-Azim (Glory is to my Lord, the Most Great)" three times, and when he prostrated he said: " Subhana Rabbiyal-Ala (Glory is to my Lord the Most High)" three times. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ادنی درجہ ہے، کم سے کم تین بار کہنا چاہیے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں سبحانک اللهم وبحمدک اللهم اغفر لي اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! تو مجھے بخش دے پڑھتے ١ ؎۔
It was narrated that Alshah said: "The Messenger of Allah ﷺ often used to say when bowing and prostrating: Subhanaka Allahumma wa bihamdika , Allahummaghfir li (Glory is to You, o Allah, and praise; O Allah forgive me): following the command given by the Quran: (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن شریف میں ہے فسبح بحمد ربک واستغفره، اس کا مطلب یہی ہے کہ نماز میں یوں کہو: سبحانک اللهم وبحمدک اللهم اغفرلي، اور جو لفظ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے اس کا اہتمام بہتر ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رکوع اور سجدے میں دعا کرنا درست ہے، اور نماز میں جہاں تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور دعا ہو سکے کرے، اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگے، اور جو دعائیں حدیث میں وارد ہیں ان کے سوا بھی جو دعا چاہے کرے کوئی ممانعت نہیں ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے رکوع میں تین بار سبحان ربي العظيم کہے، جب اس نے ایسا کرلیا تو اس کا رکوع مکمل ہوگیا، اور جب کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں تین بار سبحان ربي الأعلى کہے، جب اس نے ایسا کرلیا تو اس کا سجدہ مکمل ہوگیا، اور یہ کم سے کم تعداد ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Mas ud said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you bows, let him say In his bowing: "Subhana Rabbiyal-Azim (Glory is to my Lord, the Most Great)" three times; if he does that his bowing will be complete. And when anyone of you prostrates, let him say. in his prostration, Subhana Rabbiyal-Ala (Glory is to my Lord, the Most High)" three times; if he does that, his prostration will be complete, and that is the minimum. ", (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے کہا: مستحب ہے کہ آدمی تین بار سے کم تسبیح نہ کرے، اور ابن المبارک نے کہا کہ امام کو پانچ بار کہنا مستحب ہے، تاکہ مقتدی تین بار کہہ سکیں، اور اس سے زیادہ جہاں تک چاہے کہہ سکتا ہے، بشرطیکہ اکیلا نماز پڑھتا ہو، کیونکہ جماعت میں ہلکی نماز پڑھنا سنت ہے، تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥٤ (٨٨٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٩ (٢٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٥٣٠) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں اسحاق بن یزید الہذلی مجہول ہیں )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کا کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال سے کرے ١ ؎، اور اپنے دونوں بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you prostrates let him be balanced in prostration, and not spread his arms as a dog does." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے، اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھائے رکھے، اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، حافظ ابن حجر نے کہا: بازوؤں کو بچھانا مکروہ ہے کیونکہ خشوع اور آداب کے خلاف ہے، البتہ اگر کوئی دیر تک سجدے میں رہے تو وہ اپنے گھٹنے پر بازو ٹیک سکتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ صحابی نے نبی اکرم ﷺ سے سجدے کی مشقت کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: گھٹنوں سے مدد لو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المواقیت ٨٩ (٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٣١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣١٥، ٣٨٩) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سجدوں میں اعتدال کرو، اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح بچھا کر سجدہ نہ کرے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "Be balanced in prostration; none of you should prostrate with his arms spread out like a dog." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ raised his head from bowing, he would not prostrate until he had stood up straight. When he prostrated, he would raise his head and not prostrate again until he had sat up straight. And he used to spread ou t his left leg." (Sahih)
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو ١ ؎۔
It was narrated that Ali said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: "Do not squat between the two prostrations." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اقعاء: دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے سرین اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں، اور دونوں قدم کھڑا کر کے اس پر بیٹھنے کو بھی اقعاء کہا جاتا ہے، ممانعت پہلی صورت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٩٣ (٢٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٢، ١٤٦) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں الحارث روای ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٧٨٧ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: يا علي لا تقع إقعاء الکلب ١ ؎۔
It was narrated that Ali said: "The Prophet ﷺ said: O Ali, do not squat like a dog.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح نماز میں بیٹھنا ہمیشہ مکروہ ہے، کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا ڈر ہوتا ہے، اگر یہ ڈر نہ ہو تو نماز کے باہر مکروہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث أبي اسحاق عن الحارث تقدم فيحدیث (٨٩٤)، وحدیث أبي موسیٰ عن الحارث، قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٢٨) (حسن) (شواہد کے بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں أبو مالک ضعیف ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو کتے کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ اپنی سرین اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھو، اور اپنے قدموں کے اوپری حصہ کو زمین سے ملا دو ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ said to me: When you raise your head from prostration, do not squat like a dog. Put your buttocks between your feet and let the tops of your feet touch the ground.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢١، ومصباح الزجاجة: ٣٢٦) (موضوع) (علاء بن زید انس ؓ سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٦١٤ )
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان (جلسہ میں) رب اغفر لي رب اغفر لي اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے پڑھتے تھے۔
It was narrated from Hudhaifah that the Prophet ﷺ used to say between the two prostrations: "Rabbighfir u, Rabbighfir li (O Lord forgive me, o Lord forgive me)." (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز میں دونوں سجدوں کے درمیان رب اغفر لي وارحمني واجبرني وارزقني وارفعني اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھ کو ضائع شدہ چیزوں کا بدلہ دیدے، مجھے رزق دے، اور مجھے بلندی عطا فرما پڑھتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "When praying at night (Qiydmul-Lail), the Messenger of Allah ﷺ used to say between the two prostrations: RabbighfirIi war hamni wajburni warzuqni warfani (O Lord, forgive me, have mercy on me, i.mprove my situation, grant me provision and raise me in status). (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٧٥، ومصباح الزجاجة: ٥٢٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٤٥ (٨٥٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٥ (٢٨٤، ٢٨٥)، مسند احمد (١/٣١٥، ٣٧١) (فلم يقولا: في صلاة الليل وقالا: اهدني بدل وارفعني ) (صحیح ابی داود: ٧٩٦) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: السلام على الله قبل عباده السلام على جبرائيل وميكائيل وعلى فلان وفلان سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، اور سلام ہو جبرائیل و میکائیل اور فلاں فلاں پر ، اور وہ مراد لیتے تھے (فلاں اور فلاں سے) فرشتوں کو، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کہتے سنا تو فرمایا: تم السلام على الله نہ کہو، کیونکہ اللہ ہی سلام ہے، لہٰذا جب تم تشہد کے لیے بیٹھو تو کہو التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين عمدہ آداب و تسلیمات اللہ کے لیے ہیں اور نماز اور اچھی باتیں سب اسی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلام ہو، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی جب بندہ یہ کہتا ہے تو یہ دعا ہر اس نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے جو آسمان و زمین میں ہے، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "When we performed prayer with the Prophet ﷺ we said: Peace be upon Allah from His slaves, peace be upon Jibrail and Mikail and so-and-so and so-and-so. The Messenger of Allah ﷺ heard us and said: Do not say peace (Salam) be upon Allah, for He is As-Salam. When you sit (during prayer) say: At-Tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibatu; assalamu alayka ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu; assalamu alayna wa ala ibadillahissalihin (All compliments, prayers and good words are due to Allah; peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah)." For if you say that it will reach every righteous slave in the heavens and on earth. (Then say:) "Ashhadu an la ilaha ….iilallah wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa Rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, and I bear witness that Muhammad ﷺ : His slave and Messenger). (Sahih) (Another chain) with similar wording. (Another chain) that Abdullah bin Masud said: "The Prophet ﷺ used to teach us the Tashah-hud." And he mentioned similarly.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٨ (٨٣١)، ١٥٠ (٨٣٥)، العمل في الصلاة ٤ (٢٣٩٧)، الاستئذان ٣ (٦٢٣٠)، ٢٨ (٦٢٦٠)، الدعوات ١٧ (٦٣٢٨)، التوحید ٥ (٧١٢٩)، صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٢ (٩٦٨)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٠ (١١٦٣)، السہو ٤١ (١٢٧٨)، ٤٣ (١٢٨٠)، ٥٦ (١٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٩٢٤٢، ٩٢٤٥، ٩٢٩٦، ٩٣١٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٠٠ (٢٨٩)، النکاح ١٦ (١١٠٥)، مسند احمد (١/٣٧٦، ٣٨٢، ٤٠٨، ٤١٣، ٤١٤، ٤٢٢، ٤٢٣، ٤٢٨، ٤٣١، ٤٣٧، ٤٣٩، ٤٤٠، ٤٥٠، ٤٦٤، ٤٦٩) (صحیح )
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ انہیں تشہد سکھاتے تھے، پھر آگے پہلی حدیث کے مانند بیان کیا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله بابرکت دعائیں اور پاکیزہ نمازیں سب اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ used to teach us the Tashah-hud as he used to teach us a Surah of the Quran. He used to say: At-Tahiyyatul-Mubarakatus salawatut-tayyibatu lillah ; Assalamu alayka ayyuhan-Nabiyyu wa rahmaiullahi wa barakdtuhu ; assalamu alayna wa ala ibadillahissalihin. Ashhadu an la ilaha illaliah wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa Rasuluhu (All blessed compliments and good prayers are due to Allah: peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that none has the righ t to be worshiped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger). (Sahih)
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، اس میں آپ نے ہمارے لیے طریقے بیان فرمائے، اور ہمیں ہماری نماز سکھائی، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز ادا کرو اور تشہد میں بیٹھو تو بیٹھتے ہی سب سے پہلے یہ پڑھو: التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله آداب بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور نماز اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ، یہ سات کلمے نماز کا سلام ہیں ۔
It was narrated from Abu Musa Al-Ashari: "The Messenger of Allah ﷺ addressed us and explained the Sunnah for us, and he taught us our prayer. He said: When you perform prayer, and you are sitting, let the first thing you say be: (All compliments, good words and prayers are due to Allah; peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah and bear witness that Muhammad is His slave and Messenger). Seven phrases which are the greeting of the prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٧ ومصباح الزجاجة: ٣٢٨)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٤)، دون قولہ: سبع کلمات، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٢ (٧٢ ٩، ٩٧٣)، دون طرفہ الآخر، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٣١)، التطبیق ٢٣ (١٠٦٥)، مسند احمد (٤/٤٠٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٤ (١٣٧٩) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد ایسے سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے: التحيات لله والصلوات والطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل الله الجنة وأعوذ بالله من النار اللہ کے نام اور اس کی مدد سے، آداب بندگیاں اللہ کے لیے ہیں، اور نماز اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت، اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے، اور رسول ہیں، میں اللہ سے جنت کا طلبگار ہوں، اور جہنم سے پناہ چاہتا ہوں ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ used to teach us the (In the Name of Allah and by the grace of Allah, All compliments are due to Allah and all prayers and good words are due to Allah. Peace be upon you, o Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah . I bear witness that none has the right to be Worshiped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger. I ask Allah for Paradise and I seek refuge with Allah from the Fire).(Daif)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ١٠٤ (١١٧٦)، السہو ٤٥ (١٢٨٢)، (تحفة الأشراف: ٢٦٦٥، ومصباح الزجاجة: ٣٢٩) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣٧٢ )