Sunan Ibne-Majah 890

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

890Sunan Ibne-Majah

رکوع اور سجدہ میں تسبیح

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثًا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ، وَإِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے رکوع میں تین بار سبحان ربي العظيم کہے، جب اس نے ایسا کرلیا تو اس کا رکوع مکمل ہوگیا، اور جب کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں تین بار سبحان ربي الأعلى کہے، جب اس نے ایسا کرلیا تو اس کا سجدہ مکمل ہوگیا، اور یہ کم سے کم تعداد ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Mas ud said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you bows, let him say In his bowing: "Subhana Rabbiyal-Azim (Glory is to my Lord, the Most Great)" three times; if he does that his bowing will be complete. And when anyone of you prostrates, let him say. in his prostration, Subhana Rabbiyal-Ala (Glory is to my Lord, the Most High)" three times; if he does that, his prostration will be complete, and that is the minimum. ", (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے کہا: مستحب ہے کہ آدمی تین بار سے کم تسبیح نہ کرے، اور ابن المبارک نے کہا کہ امام کو پانچ بار کہنا مستحب ہے، تاکہ مقتدی تین بار کہہ سکیں، اور اس سے زیادہ جہاں تک چاہے کہہ سکتا ہے، بشرطیکہ اکیلا نماز پڑھتا ہو، کیونکہ جماعت میں ہلکی نماز پڑھنا سنت ہے، تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥٤ (٨٨٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٩ (٢٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٥٣٠) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں اسحاق بن یزید الہذلی مجہول ہیں )