اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 6 of 32

903Sunan Ibne-Majah

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہوگیا، لیکن درود کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم کہو: اللهم صل على محمد عبدک ورسولک کما صليت على إبراهيم و بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على إبراهيم اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ( ﷺ ) پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل فرمائی ہے، اور محمد ( ﷺ ) اور ان کے اہل و عیال پہ برکت اتار جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اتاری ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "We said: O Messenger of Allah ﷺ We know what it means to send greetings upon you, but what does it mean to send peace and blessings upon you? He said: Say: Allahumma salli ala Muhammadin abdika wa Rasulika kama salayta ala Ibrahima, wa barik ala Muhammad (wa ala ali Muhammadin) kama barakta ala lbrahima [O Allah, send Your grace, honor and mercy upon Muhammad, Your slave and Messenger, as You sent Your (grace, honour and mercy) upon Ibrahim, and send Your blessings upon Muhammad (and the family of Muhammad) as You sent Your blessings upon Ibrahim.

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ (درود) کے حدیث میں کئی الفاظ وارد ہیں جو چاہے پڑھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب ١٠ (٤٧٩٨)، الدعوات ٣٢ (٦٣٥٨)، سنن النسائی/السہو ٥٣ (١٢٩٤)، (تحفة الأشراف: ٤٠٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧) (صحیح )
904Sunan Ibne-Majah

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَة، فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ ؓ ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہوگیا، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ کہو: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! محمد ( ﷺ ) اور ان کے اہل و عیال پہ رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد ( ﷺ ) اور آپ کے اہل و عیال پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے ۔

It was narrated that Hakam said: "I heard Ibn Abi Laila say: Kab bin Ujrah met me and said: "Shall I not give you a gift? The Messenger of Allah ﷺ came out to us and we said: We know what it means to send greetings on you, but what does it mean to send peace and blessings upon you? He said: Say: Allahumma salli ala Muhammadin wa ala ali Muhammadin, kama sallayta ala Ibrahima, innaka Hamidum Majid; Allahumma barik ala Muhammadin wa Iala ali Muhammadin kama bar akt a ala Ibrahim a . Innaka Hamidum Majid (O Allah, send Your grace, honor and mercy upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent Your grace, honor and mercy upon Ibrahim, You are indeed Praiseworthy, Most Glorious. O Allah, send Your blessings upon Muhammad and the family of Muhammad, as You sent Your blessings upon Ibrahim, You are indeed Praiseworthy, Most Glorious). (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٧٠)، تفسیر الأحزاب ١٠ (٤٧٩٧)، الدعوات ٣٢ (٦٣٥٧)، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٦)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٣ (٩٧٦، ٩٧٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٤ (٤٨٣)، سنن النسائی/السہو ٥١ (١٢٨٨، ١٢٨٩)، (تحفة الأشراف: ١١١١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤١، ٢٤٤)، سنن الدارمی/ الصلاة ٨٥ (١٣٨١) (صحیح )
905Sunan Ibne-Majah

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنا

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمِرْنَا بِالصَّلَاةِ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

ابو حمید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم و بارک على محمد وأزواجه وذريته كما بارکت على آل إبراهيم في العالمين إنک حميد مجيد اے اللہ! محمد ( ﷺ ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل فرمائی ہے اور محمد ( ﷺ ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے ۔

It was narrated from Abu Humaid As-Sadi that they said: "O Messenger of Allah ﷺ We have been commanded to send peace and blessings upon you. How should we send peace and blessings upon you?" He said: "Say: Allahumma salli ala Muhammadin wa azwajihi wa dhurriyatihi , kama sallayta ala Ibrahim; wa barik. ala Muhammadin wa azwajihi wa dhurriyatihi kama barakta ala ali Ibrahim fil-alamin, innaka Hamidum Majid (O Allah, send Your grace, honor and mercy upon Muhammad and his wives and offspring, as You sent Your grace, honor and mercy upon Ibrahim. O Allah, send Your blessings upon Muhammad and his wives and offspring, as You sent Your blessings upon the family of Ibrahim among the nations, You are indeed Praiseworthy, Most Glorious)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٦٩)، الدعوات ٣٣ (٦٣٦٠)، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٧)، سنن ابی داود/الصلاة (٩٧٩)، ١٨٣ (١٢٩٣)، سنن النسائی/السہو ٥٤ (١٢٩٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصرالصلاة ٢٢ (٦٦)، مسند احمد (٥/٤٢٤) (صحیح )
906Sunan Ibne-Majah

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنا

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسِنُوا الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالُوا لَهُ: فَعَلِّمْنَا، قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ، وَرَحْمَتَكَ، وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ، وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ، وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، إِمَامِ الْخَيْرِ، وَقَائِدِ الْخَيْرِ، وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ ﷺ پہ درود (صلاۃ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم ﷺ پر پیش کیا جائے، عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجئیے، انہوں نے کہا: کہو: اللهم اجعل صلاتک ورحمتک وبرکاتک على سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدک ورسولک إمام الخير وقائد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الأولون والآخرون اللهم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! اپنی عنایتیں، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد ( ﷺ ) پر نازل فرما، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، خیر کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں، اے اللہ! ان کو مقام محمود پر فائز فرما، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے، اے اللہ! محمد ﷺ اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد ﷺ اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ١ ؎۔

Aswad bin Yazid narrated that "Abdullah bin Masud said: "When you send peace and blessings upon the Messenger of Allah ﷺ then do it well, for you do not know, that may be shown to him." They said to him: "Teach us." He said: "Say: (O Allah, send Your grace honor, mercy and blessings upon the leader of the Messengers, the Imam of the pious and the seal of the Prophets, Muhammad, Your slave and Messenger, the Imam of the good (and the leader) of the good, and the Messenger of mercy. O Allah, raise him to a station of praise and glory that will be the envy of the first and the last. O Allah, send Your grace, honor and mercy upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent Your grace, honor and mercy upon Ibrahim, You are indeed Praiseworthy, Most Glorious. O Allah, send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon Ibrahim and the family of Ibrahim, You are Praiseworthy, Most Glorious). (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: بعضوں نے کہا بہتر درود وہی ہے جو صحیح روایت سے آپ ﷺ سے مروی ہے، اور بعضوں نے کہا جس کے الفاظ زیادہ جامع اور زیادہ عمدہ ہوں، اور یہ جو عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: شاید آپ ﷺ پر تمہارا درود پیش کیا جائے، حالانکہ دوسری حدیث میں ہے کہ تمہارا درود میرے اوپر پیش کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس درود میں اخلاص اور صدق نہ ہو وہ قبول نہیں ہوتا، اور جب قبول نہ ہو تو پیش بھی نہ کیا جائے گا، بلکہ درود بھیجنے والے پر واپس کیا جائے گا جیسے تحفہ جب قبول نہیں ہوتا تو واپس کردیا جاتا ہے، شیخ البانی نے صفۃ صلاۃ النبی ﷺ میں صحیح سندوں سے ثابت درود (صلاۃ) کے سارے صیغوں اور الفاظ کو جمع کردیا ہے، جس سے مکمل طور پر استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١٦٨ ومصباح الزجاجة: ٣٢٩) (ضعیف) (مسعودی اختلاط کے شکار روای ہیں، اس لئے متروک الحدیث ہیں )
907Sunan Ibne-Majah

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنا

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا صَلَّى عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ، أَوْ لِيُكْثِرْ.

عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے ۔

It was narrated that Asim bin "Ubaidullah said: "I heard Abdullah bin Amir bin Rabi ah narrating from his father that the Prophet ﷺ said: "There is no Muslim who sends peace and blessings upon me, but the angels will send peace and blessings upon him as long as he sends peace and blessings upon me. So let a person do a little of that or a lot." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٣٩، ومصباح الزجاجة: ٣٣٠) (حسن) (سند میں عاصم بن عبید اللہ منکر الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة و الترغیب والترھیب للمنذری ٢ /٥٠٠ )
908Sunan Ibne-Majah

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنا

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا، وہ جنت کا راستہ بھول گیا ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever forgets to send peace and blessings upon me, then he has missed the road to Paradise:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٩١، ومصباح الزجاجة: ٣٣١) (حسن صحیح) (سند میں جبار بن مغلس ضعیف ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣٣٧ ، وفضل الصلاة علی النبی ﷺ: ص ٤٦ )
909Sunan Ibne-Majah

تشہد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کن الفاظ میں درود پڑھے ( دعا بعد ازدرود)۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْأَخِيرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص آخری تشہد (تحیات اور درود) سے فارغ ہوجائے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت و حیات کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے فتنے سے ١ ؎۔

Muhammad bin Abi Aisha (RA) said: "I heard Abu Hurairah (RA) say that Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you finishes the last Tashuh-hud, let him seek refuge with Allah from four things: From the torment of Hell, from the torment of the grave, from the trials of life and death, and from the Fitnah (tribulation) of Masihud-Dajjal. (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: زندگی کا فتنہ یہ ہے کہ دنیا میں مشغول ہو کر اللہ سے غافل ہوجائے، یا گناہوں میں مبتلا ہوجائے، اور موت کا فتنہ یہ ہے کہ معاذ اللہ خاتمہ برا ہو، شیطان کے بہکاوے میں آجائے، کلمہ توحید اخیر وقت نہ پڑھ سکے، اور دجال کا فتنہ تو مشہور ہے، اور اس کا ذکر قیامت کی نشانیوں میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ، غرض یہ ہے کہ تشہد اور درود کے بعد یہ دعا پڑھے: اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال، اور بعض روایتوں میں زیادہ ہے: اللهم إني أعوذ بک من المأثم والمغرم، اور بعض روایتوں میں یہ دعاء وارد ہے: اللهم إني ظلمت نفسي ظلما کثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندک وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم، اور بعض روایتوں میں یہ دعا وارد ہے: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت، ان سب دعاؤں میں سے جو دعا چاہے پڑھے، اور جو چاہے دعا کرے اور اللہ سے مانگے، کچھ ممانعت نہیں ہے لیکن پہلے تشہد کی دعائیں پڑھے، پھر جو چاہے مانگے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٨٨)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٤ (٩٨٣)، سنن النسائی/السہو ٦٤ (١٣١١)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٨٧ (١٢٧٧)، مسند احمد (٢/ ٢٣٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٦ (١٣٨٣) (صحیح )
910Sunan Ibne-Majah

تشہد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کن الفاظ میں درود پڑھے ( دعا بعد ازدرود)۔

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟، قَالَ: أَتَشَهَّدُ، ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا: تم نماز میں کیا کہتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح نہیں سمجھتا ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: ہم بھی اسی کے گرد گنگناتے ہیں ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said to a man: What do you say during your salat? He said: The Tashan-hud, then I ask Allah for Paradise, and I seek refuge with Him from Hell, but I do not understand what you and Muadh murmur (during Salat). He said: Our murmuring revolves around the same things:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ اور معاذ دھیمی آواز میں دعاء مانگا کرتے تھے۔ ٢ ؎: یعنی جنت کے سوال اور جہنم سے پناہ مانگنے جیسی دعائیں ہماری بھی ہوتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٣٦٣، ومصباح الزجاجة: ٣٣٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٢٧ (٧٩٢)، مسند احمد (٣/٤٧٤، ٥/٧٤) (صحیح) (حدیث مکرر ہے، ملاحظہ کریں: ٣٨٤٧ )
911Sunan Ibne-Majah

تشہد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کن الفاظ میں درود پڑھے ( دعا بعد ازدرود)۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِصَامِ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاةِ وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ.

نمیر خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر نماز میں رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Malik bin Numair Al Khuzai that his father said: "I saw the Prophet ﷺ putting his right hand on his right thigh during prayer, and pointing with his finger." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اور اس باب میں وارد دوسری احادیث سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ شروع ہی سے آپ ﷺ اسی طرح انگلی کے اشارہ کی شکل پر بیٹھتے تھے، نہ یہ کہ جب أشهد أن لا إله کہتے تھے تو اٹھال یتے، اور إلا الله کہتے تو گرا دیتے، جو لوگ ایسا کہتے ہیں ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٨٦ (٩٩١)، سنن النسائی/السہو ٣٦ (١٢٧٢)، (تحفة الأشراف: ١١٧١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧١) (صحیح) (آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
912Sunan Ibne-Majah

تشہد میں اشارہ۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَلَّقَ الإِبْهَامِ وَالْوُسْطَى، وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهِمَا يَدْعُو بِهَا فِي التَّشَهُّدِ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنایا، اور ان دونوں سے متصل (شہادت کی) انگلی کو اٹھایا، اس سے تشہد میں دعا کر رہے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Wail bin Hujr said: "I saw the Prophet ﷺ making a circle with his thumb and middle finger, and raising the one next to it (the index finger), supplicating with it during the Tashah-hud" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: احادیث میں تشہد کی حالت میں داہنے ہاتھ کے ران پر رکھنے کی مختلف ہیئتوں (کیفیتوں) کا ذکر ہے انہیں میں سے ایک ہیئت یہ بھی ہے کہ خنصر (چھوٹی انگلی) اور بنصر (اس کے بعد کی انگلی) کو بند کرلے اور شہادت کی انگلی کو کھلی چھوڑ دے، اور انگوٹھے اور بیچ والی انگلی سے حلقہ بنا لے، یہ کیفیت زیر نظر وائل بن حجر کی حدیث میں ہے، علامہ طیبی (رح) نے کہا ہے کہ فقہاء نے اس حلقے کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا کہ ( ٥٣ ) کی شکل بنائے، وہ یہ ہے کہ خنصر اور بنصر اور وسطیٰ یعنی سب سے چھوٹی اور اس کے بعد والی اور درمیانی انگلی ان تینوں کو بند کرلے، اور شہادت کی انگلی کو چھوڑ دے، اور انگوٹھے کو شہادت کی انگلی کی جڑ سے لگائے، یہ ابن عمر ؓ سے منقول ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے کو بیچ کی انگلی سے ملائے، اور بیچ کی انگلی بھی بند رہے، ( ٤٣ ) کی شکل پر، عبداللہ بن زبیر ؓ سے ایسا ہی منقول ہے، تیسرا طریقہ یہ ہے کہ خنصر اور بنصر کو بند کرے اور کلمے کی انگلی کو چھوڑ دے اور انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ بنا لے، جیسے وائل بن حجر ؓ سے منقول ہے، اور یہ آخری طریقہ مختار ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٦، ومصباح الزجاجة: ٣٣٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١١٦ (٧٢٦)، ١٨٠ (٩٥٧)، سنن النسائی/الافتتاح ١١ (٨٩٠)، السہو ٣٤ (١٢٦٩)، مسند احمد (٤/٣١٦، ٣١٨) (صحیح )
913Sunan Ibne-Majah

تشہد میں اشارہ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّض النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ فَيَدْعُو بِهَا، وَالْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے متصل انگلی کو اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے، اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پہ پھیلا کر رکھتے۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ used to sit during prayer, putting his hands on his knees and raising his right finger which was next to his thumb, supplicating with it, and with his left hand (spread out) on his knee. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢١ (٥٨٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٥ (٢٩٤)، سنن النسائی/السہو ٣٥ (١٢٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٢ (٤٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٣ (١٣٧٨) (صحیح )
914Sunan Ibne-Majah

سلام کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور آپ کہتے: السلام عليكم ورحمة الله۔

It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ used to say the Salam to his right and his left, until the whiteness of his cheek could be seen (saying): "As-saldmu alaikum Wa raltmatullah (Peace be upon you and the mercy of Allah)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٨٩ (٩٩٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٦ (٢٩٥)، سنن النسائی/السہو ٧٠ (١٣٢٣، ١٣٢٤)، (تحفة الأشراف: ٩٥٠٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٢ (٥٨٢)، مختصرا، مسند احمد (١/٣٩٠، ٤٠٦، ٤٠٨، ٤٠٩، ٤١٤، ٤٤٤، ٤٤٨، سنن الدارمی/ الصلاة ٨٧ (١٣٨٥) (صحیح )
915Sunan Ibne-Majah

سلام کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے۔

It was narrated from Amir bin Sad, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ used to say the Salam to his right and to his left. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٢ (٥٨٢)، سنن النسائی/السہو ٦٧ (١٣١٧، ١٣١٨)، (تحفة الأشراف: ٣٨٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٢، ١٨١)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٧ (١٣٨٥) (صحیح )
916Sunan Ibne-Majah

سلام کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی، اور کہتے: السلام عليكم ورحمة الله . السلام عليكم ورحمة الله۔

It was narrated that Ammar bin Yasir said: "The Messenger of Allah ﷺ used to say the Salam to his right and to his left, until the whiteness of his cheek could be seen (saying): As-salamu alaikum Wa rahmatullah, as-salamu alaikum wa rahmatullah ," (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٥، ومصباح الزجاجة: ٣٣٤) (صحیح) (یہ سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، سند کی تحسین بوصیری نے کی ہے )
917Sunan Ibne-Majah

سلام کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْأَبِي مُوسَى، قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلِيٌّ يَوْمَ الْجَمَلِ صَلَاةً ذَكَّرَنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَسِينَاهَا، وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ تَرَكْنَاهَا، فَسَلَّمَ عَلَى يَمِينِهِ وَعَلَى شِمَالِهِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے ہمیں جنگ جمل کے دن ایسی نماز پڑھائی کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کی یاد تازہ ہوگئی، جسے یا تو ہم بھول چکے تھے یا چھوڑ چکے تھے، تو انہوں نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Musa said: " Ali led us in prayer on the day of (the battle of) the Camel, in a way that reminded us of the prayer of the Messenger of Allah ﷺ Either we had forgotten it or we had abandoned it. He said the Salam to his right and to his left." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: جنگ جمل: جمادی الآخرہ ٣٦ ھ میں علی ؓ اور عثمان ؓ کے قاتلین کے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں کے درمیان یہ جنگ بصرہ میں واقع ہوئی۔ ٢ ؎: اہل حدیث کے نزدیک نماز سے باہر آنے کے لئے سلام پھیرنا واجب ہے، اور دوسری حدیث میں ہے کہ نماز کی تحلیل (یعنی اس کے ختم کرنے اور اس سے باہر جانے کا راستہ) سلام ہے، اب صحیح اور مشہور یہی ہے کہ دائیں اور بائیں طرف دو سلام کرے، ابن القیم نے کہا کہ پندرہ صحابہ ؓ نے دو سلام نقل کئے ہیں، ان میں سے ابن مسعود، سعد، جابر، ابوموسی، عمار بن یاسر، عبداللہ بن عمر، براء، وائل، ابو مالک، عدی، طلق، اوس اور ابورمثہ ؓ ہیں، ان میں سے بعض روایتیں صحیح ہیں، بعض حسن ہیں، ان کی مخالف پانچ حدیثیں ہیں، جن میں ایک سلام مذکور ہے، اور ان کی صحت میں اختلاف ہے، ابن مسعود ؓ کی ایک روایت میں وبرکاتہ کا لفظ زیادہ ہے جس کو ابوداود نے وائل بن حجر کی روایت سے نقل کیا ہے، اور امام مالک (رح) کا قول یہی ہے کہ ایک ہی سلام کرنا کافی ہے سلام کے سلسلے میں مختلف روایات ثابت ہیں، اس لئے سب صورتیں صحیح ہیں، اور ثابت شدہ تمام احادیث پر عمل کرنا مشروع و مسنون ہے، ہاں جس کیفیت پر رسول اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب زیادہ رہا کرتے تھے اس کو زیادہ کرنا اولیٰ ہے، نیز ان کیفیات کے لئے، (ملاحظہ ہو: صفۃ صلاۃ النبی ﷺ للألبانی، ص ١٨٧ ، ١٨٨ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٢، ومصباح الزجاجة: ٣٣٥) (منکر) (یہ حدیث ابوبکر بن عیاش اور ابو اسحاق کی وجہ سے منکر ہے، لیکن یہ ٹکڑا فسلم على يمينه وعلى شماله صحیح ہے، کیونکہ اس سے پہلے والی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے، صحیح ابن خزیمہ )
918Sunan Ibne-Majah

ایک سلام پھیرنا

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدِينِيُّ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَلَّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ.

سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرا۔

Abdul-Muhaimin bin Abbas bin Sahl bin Sad As-Saidi narrated from his father , from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ O said one Taslim to the front. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٧٩٨، ومصباح الزجاجة: ٣٣٦) (صحیح) (اس کی سند میں عبد المہیمن ضعیف ہیں، دوسری صحیح سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة مع تعلیقات الشہری )
919Sunan Ibne-Majah

ایک سلام پھیرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرتے تھے۔

It was narrated from Hlsham bin Uwrah from his faher, from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to say one Salam, to the front. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المواقیت ١٠٦ (٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣٦) (صحیح )
920Sunan Ibne-Majah

ایک سلام پھیرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى، فَسَلَّمَ مَرَّةً وَاحِدَةً.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے نماز پڑھی تو ایک مرتبہ سلام پھیرا۔

It was narrated that Salama BIN Akwa’ said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ perfoning the prayer, and he said one Salam” (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٣، ومصباح الزجاجة: ٣٣٧) (صحیح) (یہ حدیث پہلی والی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں یحییٰ بن راشد ضعیف ہیں )
921Sunan Ibne-Majah

امام کے سلام کا جواب دینا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَرُدُّوا عَلَيْهِ.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب امام سلام پھیرے تو تم اس کے سلام کا جواب دو ۔

It was narrated from Samurah bin jundub that the Prophet ﷺ said: "When the Imam says the Salam, then respond to him." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٩٠ (١٠٠١)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٧) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابوبکر الہذلی متروک ہیں، نیز حسن بصری کا سماع سمرہ ؓ سے حدیث عقیقہ کے سوا ثابت نہیں ہے )
922Sunan Ibne-Majah

امام کے سلام کا جواب دینا

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَلِّمَ عَلَى أَئِمَّتِنَا، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو اور باہم ایک دوسرے کو سلام کریں۔

It was narrated that Samurah bin jundab said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to greet our Imam with Salam, and to greet one another with Salam." (Daif)

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف )