Sunan Ibne-Majah 863

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

863Sunan Ibne-Majah

رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَاسْتَوَى حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ.

عباس بن سہل ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ ابو حمید ساعدی، ابواسید ساعدی، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ ؓ اکٹھے ہوئے، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا، ابوحمید ؓ نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ألله أكبر کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع کے لیے ألله أكبر کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) ، اور سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی ١ ؎۔

Abbas bin Sahl As·Sadi said: Abu Humaid, Abu Usaid As.Saidi, Sahl bin Sad, and Muhammad bin Maslamah came together and spoke about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ Abu Humaid said: I am the most knowledgeable of you about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ The Messenger of Allah ﷺ stood up and said Allahu Akbar, and raised his hands, thenhe raised them when he said Allahu Akbar for Ruku, then he stood up and raised his hands, and stood straight until every bone had returned to its place.(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے، اس طرح کل چار جگہیں ہوئیں جس میں آپ رفع یدین کرتے تھے، تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت، اور تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٣٣، ٧٣٤)، التشہد ١٨١ (٩٦٦، ٩٦٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٨ (٢٦٠)، ٨٦ (٢٧٠)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٢)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ٧٠ (١٣٤٦) (صحیح )