Sunan Ibne-Majah 819

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

819Sunan Ibne-Majah

نماز فجر میں قرآت

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِنَا، فَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقْصِرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Qtafaah said:"The Messenger of Allah ﷺ used to lead us in prayer, and he would lengthen the first Rakah of the Zulhr and shorten the second Rakah, and he would do likewise in the Subh." (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: پہلی رکعت میں قراءت کو طول دینا بہ نسبت دوسری رکعت کے مستحب ہے، اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کو جماعت مل جائے، اور پہلی رکعت نہ چھوٹے، اور بعضوں نے کہا یہ نماز فجر کے لیے خاص ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢١١٦، ١٢١٤٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٩٦ (٧٥٩)، ٩٧ (٧٦٢)، ١٠٧ (٧٧٦)، ١٠٩ (٧٧٨)، ١١٠ (٧٧٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٢٩ (٧٩٩)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٦ (٩٧٥)، مسند احمد (٤/٣٨٣، ٥/٢٩٥، ٣٠٠، ٣٠٥، ٣٠٧، ٣٠، ٣١٠، ٣١١)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٣ (١٣٣٠) (صحیح )