جنازوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 8 · 206 hadiths · Page 11 of 11

1632Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور تدفین کا تذکرہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ، وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "We used to be guarded in our speech even with our wives at the time of the Messenger of Allah ﷺ fearing that Quran may be revealed amongst us, bu t when the Messenger of Allah ﷺ died, we began to speak freely." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٨٠ (٥١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٧١٥٦) (صحیح )
1633Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور تدفین کا تذکرہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْعِجْلِيُّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا وَجْهُنَا وَاحِدٌ، فَلَمَّا قُبِضَ نَظَرْنَا هَكَذَا وَهَكَذَا.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ہم سب ایک رخ تھے، لیکن جب آپ کا انتقال ہوگیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے۔

It was narrated that Ubayy bin Kab said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ and we all had a single focus, but when he passed away we started to look here and there (i.e., have different interests)." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١، ومصباح الزجاجة: ٥٩٣) (ضعیف) (اس کی سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز اس سند میں حسن بصری اور ابی بن کعب ؓ کے درمیان انقطاع ہے )
1634Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور تدفین کا تذکرہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِي مُحَمَّدُ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الْمُصَلِّي يُصَلِّي، لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ قَدَمَيْهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ جَبِينِهِ، فَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ عُمَرُ، فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ الْقِبْلَةِ، وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَكَانَتِ الْفِتْنَةُ فَتَلَفَّتَ النَّاسُ يَمِينًا وَشِمَالًا.

ام المؤمنین ام سلمہ بنت ابی امیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے نماز پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقام سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابوبکر ؓ کی وفات کے بعد عمر ؓ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان ؓ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کردیا۔

It was narrated that Umm Salamah bint Abi Umayyah the wife of the Prophet ﷺ said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ if a person stood to pray, his gaze would not go beyond his feet. When the Messenger of Allah ﷺ died, if a person stood to pray, his gaze would not go beyond the place where he put his forehead when prostrating. Then Abu Bakr (RA) died and it was Umar (the caliph). So, when any person stood to pray his gaze would not go beyond the Qiblah. Then came the time of Uthman bin Affan, and there was Fitnah (tribulation, turmoil), and the people started to look right and left." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢١٣، ومصباح الزجاجة: ٥٩٤) (ضعیف) (اس کی سند میں موسیٰ بن عبداللہ مجہول ہیں )
1635Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور تدفین کا تذکرہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ؟، قَالَتْ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، قَالَ: فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ، فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد عمر ؓ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن (بر کہ) ؓ سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ ان سے ملنے جایا کرتے تھے، انس ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن ؓ کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہوگیا، انس ؓ نے کہا: تو ام ایمن ؓ نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "After the Messenger of Allah ﷺ had died, Abu Bakr (RA) said to Umar (RA) : Let us go and visit Umm Ayman as the Messenger of Allah ﷺ used to visit her: He said: When we reached her she wept.: They said: Why are you weeping? What is with Allah is better for His Messenger. She said: I know that what is with Allah is better for His Messenger, but I am weeping because the Revelation from heaven has ceased. She moved them to tears and they started to weep with her."(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر ؓ نے اپنی خلافت میں نبی کریم ﷺ کے طرز عمل سے ذرہ برابر بھی انحراف کرنا گوارا نہ کیا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ جن لوگوں سے ملنے جاتے ابوبکر ؓ بھی ان سے ملنے گئے، پس ابوبکر ؓ کی خلافت گویا زمانہ نبوت کی تصویر تھی اور یہی وجہ تھی کہ ابوبکر ؓ نے فدک اور بنو نضیر وغیرہ سے حاصل مال کو فاطمہ ؓ کی طلب پر ان کے حوالہ نہیں کیا بلکہ جس طرح نبی کریم ﷺ ان اموال کو خرچ کرتے تھے اسی طرح خرچ کرتے رہے، اور ذرہ برابر آپ ﷺ کے طریق کار کو بدلنا گوارا نہ کیا، اصل بات یہ ہے، نہ وہ کہ ابوبکر ؓ نے معاذ اللہ طمع و لالچ سے ایسا کیا، اور فاطمہ ؓ کو تکلیف پہنچائی، یہ سب لغو اور بیہودہ الزام ہے، ابوبکر ؓ دنیا کی ایک بڑی حکومت کے سربراہ تھے، خود انہوں نے نبی کریم ﷺ پر اپنا سارا مال نچھاور کردیا، اور آپ کی محبت میں جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا، کیا ایسے شخص کے بارے میں یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ کھجور کے چند درختوں کو ناحق لے لے گا اور نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی کو ناراض کرے گا؟
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٢، ومصباح الزجاجة: ٥٩٥) (صحیح )
1636Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور تدفین کا تذکرہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ، يَعْنِي: بَلِيتَ؟، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ.

اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود (صلاۃ وسلام) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے ۔

It was narrated from Aws bin Aws that the Messenger of Allah ﷺ said: The best of your days is Friday. On it Adam was created; on it shall be the Najakhah}l on it all creation will swoon. So send a great deal of blessing upon me on this day, for your blessing will be presented to me. A man said: "O Messenger of Allah ﷺ How will our blessing be presented to you when you have disintegrated?" He said: "Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٧ (١٠٤٧)، ٣٦١ (١٥٣١)، سنن النسائی/الجمعة ٥ (١٣٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٦ (١٦١٣) (صحیح )
1637Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور تدفین کا تذکرہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، قَالَ: قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ، قَالَ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ.

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu- Darda that the Messenger of Allah ﷺ said. "Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them." A man said: "Even after death?" He said: "Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet ﷺ of Allah is alive and receives provision."(Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنت کے کھانے ان کو کھلائے جاتے ہیں جو روحانی ہیں، یہاں زندگی سے دنیوی زندگی مراد نہیں ہے۔ اس لئے کہ دنیاوی زندگی قبر کے اندر قائم نہیں رہ سکتی، یہ برزخی زندگی ہے جس میں اور دنیاوی زندگی میں فرق ہے، مگر ہر حال میں نبی کریم ﷺ اپنی قبر شریف کے پاس درود وسلام سنتے ہیں، بلکہ یہ برزخی زندگی بہت باتوں میں دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی اور بہتر ہے، صلے اللہ علیہ وسلم وآلہ و اصحابہ و بارک وسلم تسلیما کثیراً
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٧، ومصباح الزجاجة: ٥٩٦) (حسن) (سند میں زید بن ایمن اور عبادہ کے درمیان نیز عبادہ اور ابو الدرداء ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن اکثر متن حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١ / ٣٥، تراجع الألبانی: رقم: ٥٦٠ )