عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہوگیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: A man died in Al-Madinah, and he was one of those who were born in AIMadinah. The Prophet ﷺ offered the funeral prayer for him and said: "Would that he had died somewhere other than his birthplace." A man among the people said: "Why, O Messenger of Allah? ﷺ " He said: "If a man dies somewhere other than his birthplace, a space will be measured for him in Paradise (as big as the distance) from the place where he was born to the place where he died." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جنت میں ادنی جنتی کو اس دنیا کے برابر جگہ ملے گی جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے پھر اس حدیث کا مطلب کیا ہوگا۔ بعض نے کہا: یہاں جنت سے مراد قبر ہے، اس کی قبر میں اتنی وسعت ہوجائے گی۔ بعض نے کہا: یہ ثواب کا اندازہ ہے یعنی اتنا ثواب ملے گا جو پیدائش سے لے کر موت کے مقام تک سما جائے۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٨ (١٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ٨٨٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٧) (حسن) (سند میں حُيَيُّ بن عبد اللہ المعافری ضعیف ہیں، اور ان کی احادیث منکر ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever dies from a sickness dies as a martyr. He is protected from the torment of the grave and he is granted provision from Paradise morning and evening." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٦٢٧، ومصباح الزجاجة: ٥٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٤) (ضعیف جدا) (اس کی سند میں ابراہیم بن محمد سخت ضعیف ہیں، اور حدیث کو ابن الجوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردے کی ہڈی کو توڑنا زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Breaking the bones of the deceased is like breaking his bones when he is alive." (Hasan)
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مردہ کی ہڈی کے توڑنے کا گناہ زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے ۔
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ said: "Breaking the bones of the deceased is, in sin, like breaking his bones when he is alive." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢٧٧) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن زیاد مجہول ہیں، لیکن فِي الإِثْمِ کے لفظ کے علاوہ بقیہ حدیث بطریق عائشہ ؓ صحیح ہے، کماتقدم، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣ /٢١٥ )
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: اماں جان! مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی بیماری کا حال بیان کیجئے تو انہوں نے بیان کیا: آپ ﷺ بیمار ہوئے تو (اپنے بدن پر) پھونکنا شروع کیا، ہم نے آپ کے پھونکنے کو انگور کھانے والے کے پھونکنے سے تشبیہ دی ١ ؎، آپ ﷺ اپنی بیویوں کا باری باری چکر لگایا کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو بیویوں سے عائشہ ؓ کے گھر میں رہنے کی اجازت مانگی، اور یہ کہ بقیہ بیویاں آپ کے پاس آتی جاتی رہیں گی۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس دو آدمیوں کے سہارے سے آئے، اس حال میں کہ آپ کے پیر زمین پہ گھسٹ رہے تھے، ان دو میں سے ایک عباس ؓ تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا، جن کا عائشہ ؓ نے نام نہیں لیا؟ وہ علی بن ابی طالب ؓ تھے۔
It was narrated that Ubaidullah bin Abdullah said: "I asked Aisha (RA) : O mother! Tell me about the sickness of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He felt pain and started to spit (over his body), and we began to compare his spittle to the spittle of a person eating raisins. Like a person eating raisins and spitting out the seeds. He used to go around among his wives, but when he became ill, he asked them permission to let him stay in the house of Aisha (RA) and that they should come to him in turns. She said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon me, (supported) between two men, with his feet making lines along the ground. One of them was Abbas. I told Ibn Abbas this Hadith and he said: Do you know who the other man was whom Aisha (RA) did not name? He was Ali bin Abu Talib. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انگور کھانے والا منہ سے بیج نکالنے کے لیے جس طرح پھونکتا ہے اس طرح آپ پھونک رہے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٩ (٦٦٥)، ٤٦ (٦٧٩)، ٤٧ (٦٨٣)، ٥١ (٦٨٧)، ٦٧ (٧١٢)، ٦٨ (٧١٣)، ٧٠ (٧٩٦)، المغازي ٨٣ (٤٤٤٢)، الاعتصام ٥ (٧٣٠٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٢١ (٤١٨)، سنن النسائی/الإمامة ٤٠ (٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة ٢٤ (٨٣)، مسند احمد (٦/٣٤، ٩٦، ٩٧، ٢١٠، ٢٢٤، ٢٢٨، ٢٤٩، ٢٥١)، دي الصلاة ٤٤ (١٢٩٢) (صحیح) (زبیب کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ذریعہ حفاظت و عافیت کی دعا کرتے تھے أذهب الباس رب الناس . واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے، اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء تو بس تیری ہی شفاء ہے، تو ایسی شفاء عنایت فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے جب آپ ﷺ کی وہ بیماری سخت ہوگئی جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی، اور یہ کلمات کہتی جاتی تھی، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکال لیا، اور فرمایا: اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى اے اللہ! مجھے بخش دے، اور رفیق اعلیٰ سے ملا دے) یہی آخری کلمہ تھا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ used to seek refuge using the following words: (Take away the affliction, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer and there is no healing but Your healing, a healing that leaves no sickness). When the Prophet ﷺ fell sick with the sickness that would be his last, I took his hand and wiped it over his body and recited these words. He withdrew his hand from mine and said: O Allah, forgive me and let me meet the exalted companions (i.e., those who occupy high positions in Paradise). Those were the last words of his that I heard." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٤ (٤٤٣٧)، المرضی ١٨ (٥٦٧٥)، الدعوات ٢٩ (٦٣٤٨)، صحیح مسلم/الطب ١٩ (٢١٩١)، سنن الترمذی/ الدعوات ٧٧ (٣٤٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٦)، مسند احمد (٦/٤٤، ٤٥، ١٠٩، ١٢٧)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: ٣٥٢٠) (صحیح) (صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یعوذ کے لفظ سے ہے، اور وہی محفوظ ہے)۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو نبی بھی بیمار ہوا اسے دنیا یا آخرت میں رہنے کا اختیار دیا گیا جب آپ ﷺ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ کو ہچکی آنے لگی، میں نے سنا آپ ﷺ کہہ رہے تھے: مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے احسان کیا، انبیاء، صدیقین شہداء، اور صالحین میں سے تو اس وقت میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no Prophet ﷺ who fell sick but he was given the choice between this World and the Hereafter. She said: When he became sick with the illness that would be his last, (his voice) became hoarse and I heard him say, "In the company of those on whom Allah has bestowed His grace, of the Prophets, the true believers, the martyrs, and the righteous." Then I knew that he had been given the choice." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٤ (٤٤٣٥، ٤٤٣٦)، تفسیر سورة النساء ١٣ (٤٥٨٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٧٦، ٢٠٥، ٢٦٩) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی، اتنے میں فاطمہ ؓ آئیں، ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال کی طرح تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: میری بیٹی! خوش آمدید پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر چپکے سے آپ ﷺ نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتی، میں نے کہا: آج جیسی خوشی جو غم سے قریب تر ہو میں نے کبھی نہیں دیکھی، جب فاطمہ روئیں تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کوئی خاص بات تم سے فرمائی ہے، جو ہم سے نہیں کہی کہ تم رو رہی ہو، اور میں نے پوچھا: آخر آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز فاش کرنے والی نہیں، رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے بعد میں نے ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پہلے آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کراتے تھے اب کی سال دو بار دور کرایا، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے، اور تم میرے رشتہ داروں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی، اور میں تمہارے لیے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں یہ سن کر میں روئی پھر آپ ﷺ نے آہستہ سے مجھ سے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہوگی، یہ سن کر میں ہنسی ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The wives of the Prophet ﷺ gathered together and not one of them lagged behind. Fatimah came, and her gait was like that of the Messenger of Allah ﷺ . He said, Welcome to my daughter: Then he made her sit to his left, and he whispered something to her, and Fatimah wept. Then he whispered something to her, and she smiled. I said to her: What made you weep? She said: I will not disclose the secret of the Messenger of Allah ﷺ I said: I never saw joy so close to grief as I saw today: When she wept I said: Did the Messenger of Allah ﷺ teU you some special words that were not for us, then you wept? And I asked her about what he had said. She said: I will not disclose the secret of the Messenger of Allah ﷺ After he had died [ asked her what he had said, and she said: He told me that Jibrail used to review the Quran with him once each year, but he had reviewed it with rum twice that year, (and he said:) "I do not think but that my time is near. You will be the first of my family to join me, and what a good predecessor I am for you." So I wept. Then he whispered to me and said: "Will you not be pleased to be the leader of the believing women, or the women of this Ummah?" So I smiled:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں یوں ہے کہ جب آپ نے فرمایا: میری وفات ہونے والی ہے تو میں روئی، آپ نے پھر فرمایا: تم سب سے پہلے مجھے ملو گی تو میں ہنسی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٢٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٥ (٢٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو موت کے وقت دیکھا، آپ ﷺ کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ when he was dying, and there was a bowl of water next to him. He put his hand in the vessel and wiped his face with the water, and said: O Allah, help me to bear the agonies of death. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٨ (٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٤، ٧٠، ٧٧، ١٥١) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن سرجس مستور ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری دیدار مجھے دوشنبہ کے دن ہوا، آپ نے (اپنے حجرہ کا) پردہ اٹھایا، میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا، تو گویا مصحف کا ایک ورق تھا، لوگ اس وقت ابوبکر ؓ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، ابوبکر ؓ نے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ ﷺ نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا، پھر اسی دن کی شام کو آپ کا انتقال ہوگیا ١ ؎۔
It was narrated that Zuhri heard Anas bin Malik (RA) say: "The last glance that I had of the Messenger of Allah ﷺ was when he drew back the curtain on Monday, and I saw his face as if it was a page of the Mushaf (Quran), and the people were praying behind Abu Bakr. He (Abu Bakr) wanted to move, but he (the Prophet ﷺ ) gestured to him to stand firm. Then he let the curtain fall, and he died at the end of that day." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ہرچند نماز میں التفات کرنا (یعنی ادھر ادھر دیکھنا) منع ہے، لیکن صحابہ کرام ؓ کو نبی اکرم ﷺ سے اس قدر محبت تھی کہ نماز کی حالت میں بےاختیاری کی وجہ سے آپ کے دیدار میں محو ہوگئے، دوسری روایت میں یوں ہے کہ قریب تھا کہ ہم فتنہ میں پڑجائیں، یعنی نماز بھول جائیں آپ کے دیدار کی خوشی میں، سبحان اللہ۔ ایمان صحابہ ہی کا ایمان تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں ایسے غرق تھے جیسے حدیث شریف میں وارد ہے کہ کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک نبی کریم ﷺ کی محبت ماں باپ اور تمام اعزہ و اقارب سے زیادہ نہ ہو، افسوس اس زمانہ میں ایسے کامل الایمان لوگ کہاں ہیں؟ اب تو دنیا کے حقیر فائدہ کے لئے اور ادنی ادنی امیروں اور نوابوں کو خوش کرنے کے لئے سنت نبوی سے اعراض اور تغافل کرتے ہیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اس مرض میں کہ جس میں آپ کا انتقال ہوگیا، فرما رہے تھے: الصلاة وما ملکت أيمانکم نمسش کا، اور لونڈیوں اور غلاموں کا خیال رکھنا آپ برابر یہی جملہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی زبان مبارک رکنے لگی ١ ؎۔
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ used to say, during the illness that would be his last: "The prayer; and those whom your right hands possess."!: And he kept on saying it until his tongue could no longer utter any words. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو نماز کا بڑا خیال تھا کیونکہ نماز توحید باری تعالیٰ کے بعد اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے، اسی لئے وفات کے وقت بھی آپ نے اس کے لئے وصیت فرمائی، مطلب یہ تھا کہ نماز کی محافظت کرو، وقت پر پڑھو، شرائط اور ارکان کے ساتھ ادا کرو، دوسرا اہم مسئلہ لونڈی اور غلام کا تھا، آپ کی وصیت کا مقصد یہ تھا کہ لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور ان پر ظلم نہ کریں۔ جو لوگ غلامی کی وجہ سے اسلام پر تنقید کرتے ہیں ان کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ درحقیقت غلامی کیا ہے گویا فرزندی میں لینا ہے اور اپنی اولاد کی طرح ایک بےوارث شخص کی پرورش کرنا ہے، اس میں عقلاً کون سی قباحت ہے؟ بلکہ قیدیوں کے گزارے کے لئے اس سے بہتر دوسری کوئی صورت عقل ہی میں نہیں آتی، البتہ اس زمانہ میں بعض جاہل لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کرتے تھے تو یہ بری بات ہے، مگر دین اسلام پر یہ تنقید صحیح نہیں ہے کیونکہ اسلام نے تو ایسے برتاؤ سے منع کیا ہے، اور ان کے ساتھ بار بار نیک سلوک کرنے کی وصیت کی ہے یہاں تک نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک اسی پر بےقابو ہوگئی، اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ﷺ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨١٥٤، ومصباح الزجاجة: ٥٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١١، ٣١٥، ٣٢١) (صحیح )
اسود کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بیان کیا کہ علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے وصی تھے، تو عائشہ ؓ نے کہا: آپ نے ان کو کب وصیت کی؟ میں تو آپ کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی، یا گود میں لیے ہوئے تھی، آپ ﷺ نے طشت منگوایا، پھر آپ میری گود میں لڑھک گئے، اور وفات پا گئے، مجھے محسوس تک نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کب کی؟۔
It was narrated that Aswad said: "They said in Aisha (RA) s presence that Ali was appointed (by the Prophet ﷺ before he died),I! and she said: When was he appointed? He (the Prophet ﷺ ) was resting against my bosom, or in my lap, and he called for a basin, then he became limp in my lap and died, and I did not realize it. So when did he ﷺ appoint him?" (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو اس وقت ابوبکر ؓ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم ﷺ کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہوگیا ہے، آخر ابوبکر ؓ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے ١ ؎، قسم اللہ کی! رسول اللہ ﷺ وفات پاچکے ہیں، اس وقت عمر ؓ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ مرے نہیں ہیں، اور نہ آپ مریں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، آخر ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے، منبر پر چڑھے اور کہا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، مرا نہیں، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے، (پھر یہ آیت پڑھی) : وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابکم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاکرين (سورة آل عمران: 144) محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے، اگر آپ کا انتقال ہوجائے یا قتل کر دئیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا ۔ عمر ؓ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ passed away, Abu Bakr (RA) was with his wife, the daughter of Kharijah, in villages surrounding Al-Madinah. They started to say: The Prophet ﷺ has not died, ra ther he has been overcome with what used to overcome him at the time of Revelation. Then Abu Bakr (RA) came and uncovered his (the Prophets) face, kissed him between the eyes and said: You are too noble before Allah for Him to cause you to die twice. By Alla h, the Messenger of Allah ﷺ has indeed died. Umar was in a corner of the Masjid saying: By Allah, the Messenger of Allah ﷺ has not died and he will never die until the hands and feet of most of the hypocrites are cut off. Then Abu Bakr (RA) stood up, ascended the pulpit and said: Whoever used to worship Allah, Allah is alive and will never die. Whoever used to worship Muhammad, Muhammad is dead. "Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then tum back on your heels (as disbelievers)? And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful." Umar said: It was as if I had never read (that Verse) before that day." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کہہ کر ابوبکر ؓ نے ان لوگوں کا رد کیا جو کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ پھر دنیا میں لوٹ کر آئیں گے، اور منافقوں کے ہاتھ پیر کاٹیں گے کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کے بعد پھر وفات ہوگی، اس طرح دو موتیں جمع ہوجائیں گی۔ اور بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اب آپ ﷺ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی، ایک دنیا کی موت تھی جو ہر بشر کو لازم تھی وہ آپ کو بھی ہوئی نیز اس کے بعد پھر آپ کو راحت ہی راحت ہے۔ اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ آپ کا نام اور آپ کا دین ہمیشہ قائم رہے گا، کبھی ختم ہونے والا نہیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کا بوسہ لینا جائز ہے، اور میت کو موت کے بعد ایک چادر سے ڈھانپ دینا چاہیے تاکہ لوگ اس کی صورت دیکھ کر گھبرائیں نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣ (١٢٤١)، المغازي ٨٣ (٤٤٥٢)، سنن النسائی/الجنائز ١١ (١٨٤٢)، (تحفة الأشراف: ٦٦٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١٧) (صحیح) (البانی صاحب کہتے ہیں کہ وحی کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابوعبیدہ بن جراح ؓ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابوطلحہ ؓ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام ؓ نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے، اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابوطلحہ ؓ ملے، اور ان کو لایا گیا، ابوعبیدہ بن جراح ؓ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم ﷺ کے لیے بغلی قبر کھودی گئی، عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوگئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہوگئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہوگئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابوبکر ؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام ؓ نے یہ حدیث سن کر آپ ﷺ کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ ﷺ کے غلام شقران ؓ اترے۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ ؓ نے علی بن ابی طالب ؓ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاصل ہے، (مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں) تو علی ؓ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کردیا اور کہا: قسم اللہ کی! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چناچہ اسے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دفن کردیا گیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbás said: “When they wanted to dig a grave for the Messenger of Allah ﷺ , they sent for Abu ‘Ubaidah bin Jarrâh, who used to dig graves hi the manner of the people of Makkah, and they sent for Abu Talhah, who used to dig graves for the people of Al Madinah, and he used to make a niche in the grave. They sent two messengers to both of them, and they said: ‘O Allah, choose what is best for Your Messenger.’ They found Abu Talhah and brought him, but they did not find Abu ‘Ubaidah. So he dug a grave with a niche for the Messenger of Allah When they had finished preparing him, on Tuesday, he was placed on his bed in his house. Then the people entered upon the Messenger of Allah ﷺ in groups and offered the funeral prayer for him, and when they finished the women entered, and when they finished the children entered, and no one led the people in offering the funeral prayer for the Messenger of Allah… The Muslims differed concerning the place where he should be buried. Some said that he should be buried in his mosque. Others said that he should be buried with his Companions. Then Abu Bakr (RA) said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “No Prophet ﷺ ever passed away but he was buried where he died.” So they lifted up the bed of the Messenger of Allah ﷺ , on which he had died, and dug the grave for him, then he was buried in the middle of Tuesday night. ‘Ali bin Abu Tâ FadI bin ‘Abbâs and his brother Qutham, and Shuqrân the freed slave of the Messenger of AllAh went down in his grave. Aws bin Khawli, who was Abu Laila, said to ‘All bin Abi Talib: ‘I adjure you by Allah Give us our share of the Messenger of Allah ﷺ ‘ So ‘Ali said to him: ‘Come down.’ Shuqran, his freed slave, had taken a Qatifah which the Messenger of Allah ﷺ , used to wear. He buried it in his grave and said, ‘By Allah, no one will ever Wear it after you.’ So it was buried With the Messenger of Allah ﷺ .“ (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٢٢، ومصباح الزجاجة: ٥٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨، ٢٦٠، ٢٩٢) (ضعیف) (سند میں حسین بن عبد اللہ متروک ہے، لیکن شقاق اور لاحد کا قصہ ثابت ہے، اور ایسے ہی مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ کا لفظ ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: ١٣٧ - ١٣٨ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطمہ ؓ کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف ١ ؎، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہوگی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہوگی ٢ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ suffered the agonies of death that he suffered, Fatimah said: O my father, what severe agony! The Messenger of Allah ﷺ said: Your father will suffer no more agony after this day. There has come to your father that which no one can avoid, the death that everyone will encounter until the Day of Resurrection." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: فاطمہ ؓ کے یہ الفاظ نوحہ میں داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ الفاظ اس وقت کے ہیں جب آپ ابھی زندہ تھے، اور جان کنی کے عالم میں تھے جیسا کہ اس سے پہلے کی روایت سے ظاہر ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ میت میں جو خوبیاں فی الواقع موجود رہی ہوں ان کو بیان کرنا نوحہ نہیں ہے، بلکہ نوحہ میت میں ایسی خوبیاں ذکر کرنے کا نام ہے جو اس میں نہ رہی ہوں۔ ٢ ؎: حالانکہ ملاقات مرنے کے بعد ہی عالم برزخ میں ہوجاتی ہے جیسا کہ دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، پھر اس کا کیا مطلب ہوگا؟ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے، اور ممکن ہے کہ ملاقات سے دنیا کی طرح ہر وقت کی یکجائی اور سکونت مراد ہو اور یہ قیامت کے بعد ہی جنت میں ہوگی جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ایک بار نبی کریم ﷺ فاطمہ ؓ کے مکان میں تشریف لے گئے، علی ؓ کو سوتا پایا، ارشاد ہوا کہ یہ سونے والا، اور میں اور تو جنت میں ایک مکان میں ہوں گے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علی ؓ کا درجہ آخرت میں بہت بلند ہوگا کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک مکان میں رہیں گے، اور ظاہر ہے نبی کریم ﷺ کا مقام جنت الفردوس میں سب سے بلند ہوگا، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٠، ومصباح الزجاجة: ٥٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ٨٣ (٤٤٤٨)، مسند احمد (٣/١٤١) (حسن صحیح) (سند میں عبد اللہ بن الزبیر مقبول ہیں، اور مسند احمد میں مبارک بن فضالہ نے ان کی متابعت کی ہے، اصل حدیث صحیح البخاری میں ہے، صحیح البخاری میں:إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ کا جملہ نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٣٨ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ ؓ نے کہا: اے انس! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالو؟
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "Fatimah said to me: O An as, how did you manage to scatter dust on the Messenger of Allah ﷺ ?" And Thabit narrated to us from Anas that Fatimah said: "When the Messenger of Allah ﷺ passed away: O my father! To Jibrail we announce his death; a my father, how much closer he is now to his Lord; a my father, the Paradise of Firdaws is his abode; a my father, he has answered the call of his Lord." (Sahih) (One of the narrators) Hammad said: "I saw Thdbit, when he narrated this Haditn, weeping until I could see his ribs moving up and down."
انس ؓ نے کہا: جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، تو فاطمہ ؓ نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرائیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہوگئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔ حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد ا ٓ پ کی صاحبزادی فاطمہ ؓ کا انتقال ا ٓ پ کی پیش گوئی کے مطابق ہوگیا، اور چہیتی بیٹی اپنے باپ سے جا ملیں، اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ فاطمہ ؓ نے جو یہ کلمات سخت رنج کی حالت میں فرمائے یہ نیاحت میں داخل ہیں جب کہ وہ منع ہے واضح رہے کہ نیاحت وہ ہے جو چلا کر بلند ا ٓ واز سے ہو، نہ وہ جو ا ٓ ہستہ سے کہا جائے، اور اگر یہ نیاحت ہوتی تو فاطمہ ؓ اسے ہرگز نہ کرتیں۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا، اور ہم لوگوں نے ابھی آپ کے کفن دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑا تھا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلہ ہوا پایا۔
It was narrated that Anas said: "On the day when the Messenger of Allah ﷺ entered Al-Madinah, everything was lit up, and on the day when he died, everything went dark, and no sooner had we dusted off our hands (after burying him) but we felt that our hearts had changed: (Hasan)