Sunan Ibne-Majah 1631

جنازوں کا بیان

1631Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور تدفین کا تذکرہ

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَمَا نَفَضْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِيَ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا، اور ہم لوگوں نے ابھی آپ کے کفن دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑا تھا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلہ ہوا پایا۔

It was narrated that Anas said: "On the day when the Messenger of Allah ﷺ entered Al-Madinah, everything was lit up, and on the day when he died, everything went dark, and no sooner had we dusted off our hands (after burying him) but we felt that our hearts had changed: (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ١ (٣٦١٨)، (تحفة الأشراف: ٢٦٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة ١٤ (٨٩) (صحیح )