جنازوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 8 · 206 hadiths · Page 9 of 11

1593Sunan Ibne-Majah

میّت پر نوحہ کی وجہ سے اس کو عذاب ہوتا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Umar bin Khattab that the Prophet ﷺ said: "The deceased is punished for the wailing over him." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: میت پر آواز کے ساتھ رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔ یہ عذاب اس شخص پر ہوگا جو اپنے ورثاء کو اس کی وصیت کر کے مرا ہو یا اس کا عمل بھی زندگی میں ایسا ہی رہا ہو اور اس کی پیروی میں اس کے گھر والے بھی اس پر نوحہ کر رہے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٣ (١٢٩٢)، صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٢٧)، سنن النسائی/الجنائز ١٥ (١٨٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٣٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٢٤ (١٠٠٢)، مسند احمد (١/٢٦، ٣٦، ٤٧، ٥٠، ٥١، ٥٤) (صحیح )
1594Sunan Ibne-Majah

میّت پر نوحہ کی وجہ سے اس کو عذاب ہوتا ہے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْمُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ إِذَا قَالُوا: وَاعَضُدَاهُ، وَاكَاسِيَاهُ، وَانَاصِرَاهُ، وَاجَبَلَاهُ، وَنَحْوَ هَذَا يُتَعْتَعُ، وَيُقَالُ: أَنْتَ كَذَلِكَ أَنْتَ كَذَلِكَ، قَالَ أَسِيدٌ: فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ، يَقُولُ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، قَالَ: وَيْحَكَ، أُحَدِّثُكَ أَنَّ أَبَا مُوسَى، حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَرَى أَنَّ أَبَا مُوسَى كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ تَرَى أَنِّي كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب لوگ کہتے ہیں: واعضداه واکاسياه . واناصراه واجبلاه ہائے میرے بازو، ہائے میرے کپڑے پہنانے والے، ہائے میری مدد کرنے والے، ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور اور اس طرح کے دوسرے کلمات، تو اسے ڈانٹ کر کہا جاتا ہے: کیا تو ایسا ہی تھا؟ کیا تو ایسا ہی تھا؟ اسید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: ولا تزر وازرة وزر أخرى کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا تو انہوں (موسیٰ ) نے کہا: تمہارے اوپر افسوس ہے، میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بیان فرمائی، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ابوموسیٰ ؓ نے نبی اکرم ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے؟ یا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے ابوموسیٰ ؓ پر جھوٹ باندھا ہے؟۔

It was narrated from Asid bin Abu Asid, from Musa bin Abu Musa Ashari, from his father that the Prophet ﷺ said: "The deceased is punished for the weeping of the living. If they say: O my strength, O he who clothed us, O my help, O my rock: and soon, he is rebuked and it is said: Were you really like that? Were you really like that? Asid said: "I said: Subhan-Allah! Allah says: "And no bearer of burdens shall bear anothers burden."He said: "Woe to you, I tell you that Abu Musa narrated to me from the Messenger of Allah ﷺ , and you think that Abu Musa was telling lies about the Prophet ﷺ ?Or do you think that I am telling lies about Abu Musa?" (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٣١، ومصباح الزجاجة: ٥٧٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٢٤ (١٠٠٣)، مسند احمد (٤/ ٤١٤) (حسن )
1595Sunan Ibne-Majah

میّت پر نوحہ کی وجہ سے اس کو عذاب ہوتا ہے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّمَا كَانَتْ يَهُودِيَّةٌ مَاتَتْ، فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكُونَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَإِنَّ أَهْلَهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا تُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت کا انتقال ہوگیا، تو نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا، تو فرمایا: اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "A Jewish woman had died, and the Prophet ﷺ heard them weeping for her. He said: Her family is weeping for her, and she is being punished in her grave. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٥٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٣٢ (١٢٨٩)، صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٣٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٢٥ (١٠٠٤)، سنن النسائی/الجنائز ١٥ (١٨٥٧)، موطا امام مالک/الجنائز ١٢ (٣٧)، مسند احمد (٦/١٠٧، ٢٥٥) (صحیح )
1596Sunan Ibne-Majah

مصیبت پر صبر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو ۔

It was narrated from Anas bin Maik that the Messenger of Allah ﷺ said: Patience should come with the first shock." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٣ (٩٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٣١ (١٢٨٣)، ٤٢ (١٣٠٢)، الأحکام ١١ (٧١٥٤)، صحیح مسلم/الجنائز ٨ (٩٢٦)، سنن ابی داود/الجنائز ٢٧ (٣١٢٤)، سنن النسائی/الجنائز ٢٢ (١٨٧٠)، مسند احمد (٣/١٣٠، ١٤٣، ٢١٧) (صحیح )
1597Sunan Ibne-Majah

مصیبت پر صبر کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدمی! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو، اور ثواب کی نیت رکھو، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا ۔

It was narrated from Abu Umãmah that the Prophet ﷺ said: “Allah says: ‘O son of Adam! If you are patient and seek reward at the moment of first shock, I will not approve of any reward for you less than Paradise.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩١١، ومصباح الزجاجة: ٥٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٨) (حسن) (شواہد کی بنا پر حسن ہے )
1598Sunan Ibne-Majah

مصیبت پر صبر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ، فَيَفْزَعُ إِلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ مِنْ قَوْلِهِ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعُضْنِي مِنْهَا، إِلَّا آجَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا وَعَاضَهُ خَيْرًا مِنْهَا، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، ذَكَرْتُ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي هَذِهِ فَأْجُرْنِي عَلَيْهَا، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: وَعِضْنِي خَيْرًا مِنْهَا، قُلْتُ فِي نَفْسِي: أُعَاضُ خَيْرًا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، ثُمَّ قُلْتُهَا، فَعَاضَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآجَرَنِي فِي مُصِيبَتِي.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوسلمہ ؓ نے ان سے بیان کیا: انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے: إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندک احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا، تو مجھے اس میں اجر دے، اور مجھے اس کا بدلہ دے جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا ۔ ام سلمہ ؓ کہتی ہیں: جب (میرے شوہر) ابوسلمہ ؓ کا انتقال ہوگیا، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی، جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی، چناچہ میں نے کہا: إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندک احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها اور جب وعضني خيرا منها مجھے اس سے بہتر بدلا دے کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا: کیا مجھے ابوسلمہ ؓ سے بہتر بدلہ دیا جاسکتا ہے؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد ﷺ کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا۔

It was narrated from Umm Salamah that Abu Salamah told her that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no Muslim who is stricken with a calamity and reacts by saying as Allah has commmanded: (Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return. a Allah, with You I seek reward for my calamity, so reward me for it and compensate me). but Allah will reward him for that and compensate him with something better than it." She said: "When Abu Salamah died, I remembered what he had told me from the Messenger of Allah ﷺ and I said: lnna lillahi, wa inna ilayhi rajiun.(Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return. O Allah, with You I seek reward for my calamity, so reward me lor it). But when I wanted to say wa awwidni minha. (and compensate me with better), I said to myself: How can I be compensated with something better than Abu Salamah? Then I said it, and Allah compensated me with Muhammad ﷺ and rewarded me for my calamity." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٨٤ (٣٥١١)، (تحفة الأشراف: ٦٥٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٧) (صحیح) (سند میں عبد الملک بن قدامہ ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے )
1599Sunan Ibne-Majah

مصیبت پر صبر کرنا

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، أَوْ كَشَفَ سِتْرًا، فَإِذَا النَّاسُ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَى مِنْ حُسْنِ حَالِهِمْ، رَجَاءَ أَنْ يَخْلُفَهُ اللَّهُ فِيهِمْ بِالَّذِي رَآهُمْ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي، فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مرض الموت میں) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر ؓ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا، اور فرمایا: اے لوگو! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہوگی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ opened a door that was between him and the people or drew back a curtain and he saw the people praying behind Abu Bakr. He praised Allah for what he saw of their good situation and hoped that Allah succeed him by what he saw in them. He said: O people, whoever among the people or among the believers is stricken with a calamity, then let him console himself with the loss of me, for no one among my nation will be stricken with any calamity worse than my loss:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ مومن وہی ہے جس کو نبی کریم ﷺ کی محبت اولاد اور والدین اور سارے رشتہ داروں سے زیادہ ہو، پس جب وہ نبی کریم ﷺ کی وفات کو یاد کرے گا تو ہر طرح کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کی موت اس کے سامنے بےحقیقت ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٤، ومصباح الزجاجة: ٥٧٨) (صحیح) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٠٦ )
1600Sunan Ibne-Majah

مصیبت پر صبر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَذَكَرَ مُصِيبَتَهُ، فَأَحْدَثَ اسْتِرْجَاعًا وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَهُ يَوْمَ أُصِيبَ.

حسین بن علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے کوئی مصیبت پیش آئی ہو، پھر وہ اسے یاد کر کے نئے سرے سے: إنا لله وإنا إليه راجعون کہے، اگرچہ مصیبت کا زمانہ پرانا ہوگیا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس دن لکھا تھا جس دن اس کو یہ مصیبت پیش آئی تھی ١ ؎۔

It was narrated from Fatimah bint Husain that her father said: The Prophet ﷺ said: "Whoever was stricken with a calamity and when he remember it he says Inna lillahi, wa inna Iilayhi rajiun. (Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return): even though it happened a long time ago, Allah will record for him a reward like that of the day it befell him: (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً نبی کریم ﷺ کی وفات کی مصیبت یاد کرکے ہم اس وقت إنا لله وإنا إليه راجعون کہیں تو وہی ثواب ہم کو ملے گا جو صحابہ کو نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت ملا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ حدیث خاص ہے اس مصیبت سے جو خود اسی شخص پر گزر چکی ہو۔ واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤١٤، ومصباح الزجاجة: ٥٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠١) (ضعیف جدا) (سند میں ہشام بن زیاد متروک اور ان کی والدہ مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٥٥١ )
1601Sunan Ibne-Majah

مصیبت زدہ کو تسلی دیئے کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَزِّي أَخَاهُ بِمُصِيبَةٍ إِلَّا كَسَاهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مِنْ حُلَلِ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

محمد بن عمرو بن حزم ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا ۔

Qais, Abu Umarah. The freed slave of the Ansar, said: "I heard Abdullah bin Abu Bakr (RA) bin Muhammad bin Amr bin Hazm narrating from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ said: There is no believer who consoles his brother for a calamity, but Allah will clothe him with garments of honor on the Day of Resurrection:" (Daif)

Takhrij · تخریج
(ابو عمارہ قیس میں کلام ہے، اور عبد اللہ بن أبی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبیہ عن جدہ میں جد (دادا) محمد بن عمر و بن حزم ہیں، جن کو رویت حاصل ہے، لیکن صرف صحابہ کرام سے ہی سماع ہے، رسول اکرم ﷺ سے سماع نہیں ہے، لیکن انس ؓ کے شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧٦٤، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٩٥، تراجع الألبانی: رقم: ٥٥ )
1602Sunan Ibne-Majah

مصیبت زدہ کو تسلی دیئے کا ثواب

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا (جتنا مصیبت زدہ کو ملے گا) ۔

It was narrated that ,Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever consoles a person stricken by calamity will have a reward equal to his. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٧٢ (١٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٩١٦٦) (ضعیف) (سند میں علی بن عاصم ضعیف ہے، ابن الجوزی نے اس حدیث کو الموضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧٦٥ )
1603Sunan Ibne-Majah

جس کا بچہ مرجائے اس کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَمُوتُ لِرَجُلٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا مگر قسم پوری کرنے کے لیے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "No man who loses three of his children will ever enter the Fire, except in fulfillment of the oath (of Allah)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے، وَإِن مِّنكُمْ إِلا وَارِدُهَا (سورة مريم: 71) یعنی کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے جس کا گزر جہنم سے نہ ہو، اور یہ وعدہ تب ہے کہ وہ ان بچوں کی موت پر صبر کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٦ (١٢٥١)، الأیمان والنذور ٩ (٦٦٥٦)، صحیح مسلم/البروالصلة ٤٧ (٢٦٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٦٤ (١٠٦٠)، سنن النسائی/الجنائز ٢٥ (١٨٧٦)، موطا امام مالک/الجنائز ١٣ (٣٨)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٧٦، ٤٧٣، ٤٧٩) (صحیح )
1604Sunan Ibne-Majah

جس کا بچہ مرجائے اس کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ، قَالَ: لَقِيَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ السُّلَمِيُّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ.

عتبہ بن عبد سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس مسلمان کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مرجائیں، تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے استقبال کریں گے، جس میں سے چاہے وہ داخل ہو ١ ؎۔

Utbah bin Abd Sulami said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no Muslim, three of whose children die before reaching the age of puberty, but they will meet him at the eight gates of Paradise and whichever one he wants he will enter through it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی باپ کو اختیار ہوگا کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازہ سے چاہے اندر جائے، اس کے چھوٹے بچے جو بچپن میں مرگئے تھے اس کو اندر لے جائیں گے، اور اس دروازہ پر اپنے باپ سے ملیں گے، سبحان اللہ اولاد کا مرنا بھی مومن کے لئے کم نعمت نہیں ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے بچے جنتی ہیں، نووی کہتے ہیں کہ معتبر اہل اسلام نے اس پر اجماع کیا ہے، اور بعض نے اس کے بارے میں توقف کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٥٤، ومصباح الزجاجة: ٥٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٣، ١٨٤) (حسن) (لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، شرحبیل بن شفعہ مجہول ہیں )
1605Sunan Ibne-Majah

جس کا بچہ مرجائے اس کا ثواب

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان مرد و عورت کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مرجائیں، تو اللہ تعالیٰ ایسے والدین اور بچوں کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "There are no two Muslims (mother and father), three of whose children die before reaching the age of puberty, but Allah will admit them to Paradise by virtue of His mercy towards them," (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٦ (١٢٤٨)، ٩١ (١٣٨١)، سنن النسائی/الجنائز ٢٥ (١٨٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥٢) (صحیح )
1606Sunan Ibne-Majah

جس کا بچہ مرجائے اس کا ثواب

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ، قَالَ: وَاثْنَيْنِ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ أَبُو المُنْذرِ كَعْبٍ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ قَدَّمْتُ وَاحِدًا، قَالَ: وَوَاحِدًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے تین نابالغ بچے آگے بھیجے، تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہوں گے ابوذر ؓ نے کہا: میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں، آپ نے فرمایا: اور دو بھی ، پھر قاریوں کے سردار ابی بن کعب ؓ نے کہا: میں نے تو ایک ہی آگے بھیجا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اور ایک بھی ۔

It was narrated from ,Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever sends forth three of his children who had not reached the age of poberty, they will be a strong fortification for him against the Fire." Abu Dharr (RA) said: "I sent forth two:" He said: And two." Ubayy bin Kab, the chief of the reciters, said: "I sent forth one." He said: "Even one" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦٥ (١٠٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٥، ٤٢٩، ٤٥١) (ضعیف) (سند میں ابو محمد مجہول ہیں )
1607Sunan Ibne-Majah

جس کسی کا حمل ساقط ہوجائے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَسِقْطٌ أُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَيَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ فَارِسٍ أُخَلِّفُهُ خَلْفِي.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: A miscarried fetus sent before me is dearer to me than a horseman whom I leave behind." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: عربی میں سقط اس ادھورے اور ناقص بچے کو کہتے ہیں جو مدت حمل تمام ہونے سے پہلے پیدا ہو اور اس کے اعضاء پورے نہ بنے ہوں، اکثر ایسا بچہ پیدا ہو کر اسی وقت یا دو تین دن کے بعد مرجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٣١، ومصباح الزجاجة: ٥٨٢) (ضعیف) (یزید بن رومان کا سماع ابوہریرہ ؓ سے نہیں ہے، اور یزید بن عبد الملک ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٣٠٧ )
1608Sunan Ibne-Majah

جس کسی کا حمل ساقط ہوجائے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق أَبُو بكر البكائي، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ، عَنْالْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّهُ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْهِ النَّارَ، فَيُقَالُ: أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهُ أَدْخِلْ أَبَوَيْكَ الْجَنَّةَ فَيَجُرُّهُمَا بِسَرَرِهِ حَتَّى يُدْخِلَهُمَا الْجَنَّةَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ساقط بچہ اپنے رب سے جھگڑا کرے گا ١ ؎، جب وہ اس کے والدین کو جہنم میں ڈالے گا، تو کہا جائے گا: رب سے جھگڑنے والے ساقط بچے! اپنے والدین کو جنت میں داخل کر، وہ ان دونوں کو اپنی ناف سے کھینچے گا یہاں تک کہ جنت میں لے جائے گا ١ ؎۔ ابوعلی کہتے ہیں: يُراغم ربه کے معنی (یغاضب ) یعنی اپنے رب سے جھگڑا کرنے کے ہیں۔

It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The miscarried fetus will plead with his Lord if his parents are admitted to Hell. It will be said: "O fetus who pleads with your Lord! Admit your parents to Paradise." So he will drag them out with his umbilical cord until he admits them to Paradise:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: جھگڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے با اصرار سفارش کرے گا، اور اپنے والدین کو بخشوانے کی جی جان سے کوشش کرے گا یہاں تک کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٢، ومصباح الزجاجة: ٥٨٣) (ضعیف) (اس کی سند میں مندل بن علی ضعیف ہیں )
1609Sunan Ibne-Majah

جس کسی کا حمل ساقط ہوجائے ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ساقط بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف سے جنت میں کھینچے گا جب کہ وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے ۔

It was narrated from Muadh bin Jabal that the Prophet ﷺ said: "By the One in Whose Hand is my soul! The miscarried fetus will drag his mother by his umbilical cord to Paradise, if she (was patient and) sought reward (for her loss)." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٣٣٠، ومصباح الزجاجة: ٥٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٤١) (صحیح) (لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں یحییٰ بن عبید اللہ بن موھب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٥٩٧ )
1610Sunan Ibne-Majah

میّت کے گھر کھانا بھیجنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ، أَوْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ.

عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ جعفر کی موت کی جب خبر آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، اس لیے کہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے جس نے ان کو مشغول کردیا ہے، یا ان کے پاس ایسا معاملہ آپڑا ہے جو ان کو مشغول کئے ہوئے ہے ۔

It was narrated that Abdullah bin Jafar said: "When news of the death of jafar was brought, the Messenger of Allah ﷺ said: Prepare food for the family of Jafar, for there has come to them that which is keeping them busy or something Which is keeping them busy." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٢٦ (٣١٣٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٢١ (٩٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٢١٧) (حسن )
1611Sunan Ibne-Majah

میّت کے گھر کھانا بھیجنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ عِيسَى الْجَزَّارِ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَوْنٍ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ: إِنَّ آلَ جَعْفَرٍ قَدْ شُغِلُوا بِشَأْنِ مَيِّتِهِمْ، فَاصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَمَا زَالَتْ سُنَّةً حَتَّى كَانَ حَدِيثًا فَتُرِكَ.

اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ جب جعفر ؓ قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس آئے، اور فرمایا: جعفر کے گھر والے اپنی میت کے مسئلہ میں مشغول ہیں، لہٰذا تم لوگ ان کے لیے کھانا بناؤ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ یہ طریقہ برابر چلا آ رہا تھا یہاں تک کہ اس میں بدعت آ داخل ہوئی، تو اسے چھوڑ دیا گیا ١ ؎۔

Asma bint Umais said "When )afar was killed, the Messenger of Allah ﷺ went to his family and said: The family of )afar are busy with the matter of their deceased, so prepare food for them. (Daif) (One of the narrators) Abdullah said: "That continued to be the Sunnah, until innovations were introduced, then it was abandoned."

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ میت والوں کو کھانا بھیجنا پہلے سنت تھا پھر لوگوں نے اس میں فخر و مباہات کے جذبہ سے تکلف شروع کیا اور بلاضرورت انواع و اقسام کے کھانے پکا کر بھیجنے لگے، دوسرے یہ کہ میت والوں کے پاس ساری برادری اور کنبے والوں نے جمع ہونا شروع کیا، اور کھانا بھیجنے والوں کو ان سب لوگوں کے موافق کھانا بھیجنا پڑا۔ اس لئے یہ امر بدعت سمجھ کر ترک کردیا گیا، چناچہ امام احمد اور ابن ماجہ نے باسناد صحیح جریر ؓ سے روایت کی ہے کہ ہم میت والوں کے پاس جمع ہونا، اور میت کے دفن کے بعد کھانا بھیجنا دونوں کو نوحہ میں شمار کرتے تھے، اس پر بھی صحابی یا تابعی کا قول حدیث مرفوع کے مقابل نہیں ہوسکتا، اور محدثین نے میت والوں کے پاس کھانا بھیجنا مستحب رکھا ہے۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦، ومصباح الزجاجة: ٥٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٧٠) (حسن) (سند میں ام عیسیٰ اور ام عون مجہول ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے )
1612Sunan Ibne-Majah

میّت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے کی ممانعت اور کھانا تیار کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: كُنَّا نَرَى الِاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنْعَةَ الطَّعَامِ مِنَ النِّيَاحَةِ.

جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کہتے ہیں کہ ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے لیے ان کے گھر کھانا تیار کرنے کو نوحہ سمجھتے تھے۔

It was narrated that Jarir bin Abdullah AI,Bajali said: "We used to think that gathering with the family of the deceased and preparing food was a form of wailing." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٠، ومصباح الزجاجة: ٥٨٦)، مسند احمد (٢/٢٠٤) (صحیح )