عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جہنم میں ہیں اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو اس کے بعد وہ اعرابی (دیہاتی) مسلمان ہوگیا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔
It was narrated from Salim that his father said: "A Bedouin came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, my father used to uphold the ties of kinship, and so and so forth, where is he? He said: In the Fire. It was as if he found that difficult to bear. Then he said: O Messenger of Allah. Where is your father? The Messenger of Allah ﷺ said: Whenever you pass by the grave of an idolater, give him the tidings of Hell-fire. The Bedouin later became Muslim, and he said: The Messenger of Allah ﷺ gave me a difficult task. I never passed the grave of an idolater but I gave him the tidings of Hell-fire. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨٠٣، ومصباح الزجاجة: ٥٦٤) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٨ )
حسان بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ١ ؎۔
It was narrated from ,Abdur-Rahman bin Hassan bin Thabit that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed women who visit graves." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اور اس معنی کی دوسری احادیث سے یہ امر قوی ہوتا ہے کہ عورتوں کو قبروں کی زیارت کرنا منع ہے، اس حدیث میں زوارات مبالغہ کا صیغہ ہے، اس لئے عام عورتوں کے لئے زیارت قبور کی اجازت اوپر کی (حدیث نمبر ١٥٧١ ) سے حاصل ہے، جس میں رسول اکرم ﷺ نے ممانعت کے بعد مسلمانوں کو زیارت قبور کا اذن عام دیا ہے، تاکہ وہ اس سے عبرت و موعظت حاصل کریں، اور عورتیں بھی اس سے عبرت و موعظت کے حصول میں مردوں کی طرح محتاج اور حقدار ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد احادیث بھی ہیں۔ ١ ۔ ام المومنین عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو قبروں کی زیارت کی اجازت دی۔ (سنن الاثرم ومستدرک الحاکم) ٢ ۔ صحیح مسلم میں ام المومنین عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب میں قبروں کی زیارت کروں تو کیا کہوں؟۔ آپ ﷺ نے یوں فرمایا: کہو السلام على أهل الديار من المؤمنين۔ ٣ ۔ حاکم نے روایت کی ہے کہ فاطمہ الزہراء ؓ اپنے چچا حمزہ ؓ کے قبر کی زیارت ہر جمعہ کو کیا کرتیں تھیں۔ ٤ ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک عورت پر سے گزرے جو ایک قبر پر رو رہی تھی، لیکن آپ ﷺ نے اس پر قبر کی زیارت کی وجہ سے نکیر نہیں فرمائی۔ اجازت اور عدم اجازت میں یوں مطابقت ہوسکتی ہے کہ ان عورتوں کے لئے ممانعت ہے جو زیارت میں مبالغہ سے کام لیں، یا زیارت کے وقت نوحہ وغیرہ کریں، اور ان عورتوں کے لئے اجازت ہے جو خلاف شرع کام نہ کریں۔ قرطبی نے کہا کہ لعنت ان عورتوں سے خاص ہے جو بہت زیادہ زیارت کو جائیں، کیونکہ حدیث میں زوارات القبور مبالغہ کا صیغہ منقول ہے، اور شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ جب عورت اکثر زیارت کو جائے گی تو مرد کے کاموں اور ضرورتوں میں خلل واقع ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٠٣، ومصباح الزجاجة: ٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٢، ٤٤٣) (حسن) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed women who visit graves" (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٨٢ (٣٢٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٢ (٣٢٠)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٤ (٢٠٤٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٩، ٣٢٤، ٣٣٧) (حسن) (سابقہ حدیث سے یہ حسن ہے، لیکن زائرات کے لفظ کی روایت ضعیف ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed women who visit graves." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦٢ (١٠٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٧، ٣٥٦) (حسن) (شواہد و متابعات کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن طالب مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧٦٢ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا اسے اٹھاؤ گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ ۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ went out and saw some women silting, and he said: What are you silting here for? They said: We are waiting for the funeral. He said: Are you going to wash the deceased? They said: No. He said: Are you going to lower him into the grave? They said: No. He said: Then go back with a burden of sin and not rewarded. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢٦٩، ومصباح الزجاجة: ٥٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں دینار ابو عمر اور اسماعیل بن سلمان ضعیف ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو العلل المتناہیہ میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: ١ لضعیفہ: ٢٧٤٢ )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت کریمہ: ولا يعصينک في معروف (سورة الممتنحة: 12) نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: اس سے مراد نوحہ ہے ١ ؎۔
It was narrated from Umm Salamah from the Prophet ﷺ regarding: "And that they will not disobey you in Marut (all that that is good in Islam);" he said: "(It is about) wailing." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: نوحہ کہتے ہیں چلا چلا کر میت پر رونے، اور اس کے فضائل بیان کرنے کو، یہ جاہلیت کی رسم تھی، اور اب تک جاہلوں میں رائج ہے اس لئے نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا، لیکن آہستہ سے رونا جو بےاختیاری اور رنج کی وجہ سے ہو وہ منع نہیں ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٦٠ (٣٣٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٢٠) (حسن )
معاویہ ؓ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نوحہ (چلّا کر رونے) سے منع فرمایا ہے۔
[arir, the freed slave of Mu`awiyah, said: "Muawiyah delivered a sermon in Hims, and in his sermon he mentioned that the Messenger of Allah ﷺ ! Forbade wailing." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٠٣، ومصباح الزجاجة: ٥٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠١) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” عبد اللہ بن دینار “ ضعیف اور حریز مجہول راوی ہیں )
ابو مالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نوحہ (ماتم) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ (ماتم) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مرگئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول (ڈامر) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا ۔
It was narrated from Abu Malik Ashari that the Messenger of Allah ﷺ said: Wailing is one of the affairs of the Days of Ignorance, and if the woman who wails dies without having repented, Allah will cut a garment of pitch (tar) for her and a shirt of flaming fire. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٦٠، ومصباح الزجاجة: ٥٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز ١٠ (٩٢٤)، مسند احمد (٥/٣٤٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مرجائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہوگی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی ۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Wailing over the dead is one of the affairs of the Days of Ignorance and if the woman who wails does not repent before she dies, she will be resurrected on the Day of Resurrection wearing a shirt of pitch (tar), over which she will wear a shirt of flaming fire." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢٤٧، ومصباح الزجاجة: ٥٦٩) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” عمر بن راشد “ ضعیف راوی ہے، اور اس کی حدیث یحییٰ بن ابی کثیر سے مضطرب ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو ۔
It was narrated that Ibn Umar said. "The Messenger of Allah ﷺ forbade following a funeral that was accompanied by a wailing woman." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٠٥، ومصباح الزجاجة: ٥٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٢) (حسن) (لیث نے مجاہد سے روایت کرنے میں ابویحییٰ القتات کی متابعت کی ہے، اس لئے یہ حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٥٢٨ )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (نوحہ میں) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "He is not one of us who tears his garments, strikes his cheeks, and cries with the cry of the Days of Ignorance. (Sahih)
Takhrij · تخریج
حدیث علی بن محمد ومحمد بن بشار قد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٣٥ (١٢٥٤)، سنن الترمذی/الجنائز ٢٢ (٩٩٩)، سنن النسائی/الجنائز ١٧ (١٨٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٥٥٩)، وحدیث علی بن محمد وابو بکربن خلاّد قد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٨ (٣٥١٩)، الجنائز ٣٨ (١٢٩٧)، ٣٩ (١٢٩٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٣)، سنن النسائی/الجنائز ١٧ (١٨٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٥٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٦، ٤٣٢، ٤٤٢، ٤٦٥) (صحیح )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا (نوحہ میں) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah ﷺ cursed the woman who scratches her face and rends her garment an crres t at s e IS doomed (i.e. because of the death of this person). (Hasan)
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری ؓ کی بیماری شدید ہوگئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ ؓ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ١ ؎۔
Abdur-Rahman bin Yazid and Abu Burdah said. "When Abu Musa fell sick his wife Umm Abdullah started to wail loudly. e woke up and said to her: Do you not know that I am innocent of :hose whom the Messenger of Allah ﷺ declared innocence of? And he told her that the Messenger of Allah ﷺ said: I am innocoent of those who shave theheads, raise their voices and tear their garments (at times of calamity). (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے جاہلوں کی عادت ہوتی ہے، بلکہ ہندوؤں کی رسم ہے کہ جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کے غم میں سر بلکہ داڑھی مونچھ بھی منڈوا ڈالتے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک جنازہ میں تھے، عمر ؓ نے ایک عورت کو (روتے) دیکھا تو اس پر چلائے، یہ دیکھ کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمر! اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے، جان مصیبت میں ہے، اور (صدمہ کا) زمانہ قریب ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ was attending a funeral. Umar saw a woman and shouted at her, but the Prophet ﷺ said, "Leave her alone, 0 Umar, for the eye weeps and the heart is afflicted, and the bereavement is recent." (Daif) Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے ابھی صدمہ پہنچا ہے اور ایسے وقت میں دل پر اثر بہت ہوتا ہے اور رونا بہت آتا ہے، آدمی مجبور ہوجاتا ہے خصوصاً عورتیں جن کا دل بہت کمزور ہوتا ہے، ظاہر یہ ہوتا ہے کہ یہ عورت آواز کے ساتھ روئی ہوگی، لیکن بلند آواز سے نہیں، تب بھی عمر ؓ نے اس کو منع کیا تاکہ نوحہ کا دروازہ بند کیا جاسکے جو منع ہے اور نبی کریم ﷺ خود اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر روئے اور فرمایا: ” آنکھ آنسو بہاتی ہے، اور دل رنج کرتا ہے، لیکن زبان سے ہم وہ نہیں کہتے جس سے ہمارا رب ناراض ہو “ اور امام احمد نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحب زادی زینب وفات پا گئیں تو عورتیں رونے لگیں، عمر فاروق ؓ ان کو کوڑے سے مارنے لگے، نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ان کو پیچھے ہٹا دیا، اور فرمایا: ” عمر ٹھہر جاؤ! “ پھر فرمایا: ” عورتو! تم شیطان کی آواز سے بچو … “ اخیر حدیث تک۔
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی معنی کی حدیث آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ١٦ (١٨٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١٠، ٢٧٣، ٣٣٣، ٤٠٨، ٤٤٤) (ضعیف) (کیونکہ اس کی سند میں محمد بن عمرو بن عطاء اور ابوہریرہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، جیسا کہ بعد والی حدیث کی سند سے واضح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٦٠٣ )
انظر ماقبلہ (ضعیف) (اس کی سند میں سلمہ بن أزرق مجہول الحال ہیں )
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ ﷺ کو بلا بھیجا تو آپ ﷺ نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا: جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں لڑکی نے آپ ﷺ کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ ﷺ ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ ﷺ اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت ؓ بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم ﷺ کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، (راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا:) گویا وہ پرانی مشک ہے (اور اس میں پانی ہل رہا ہے) : یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ رو پڑے، عبادہ بن صامت ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ١ ؎۔
Usamah bin Zaid said: "The son of one of the daughters of the Messenger of Allah ﷺ was dying. She sent for him, asking him to come to her, and he sent word to her, saying: To Allah Him belongs what He has given. Everything has an appointed time with Him, so be patient and seek reward. But she sent for him again, adjuring him to come. So the Messenger of Allah ﷺ got up. and I got up with him, as did Muadh bin Jabal, Ubayy bin Kab and Ubadahh bin Samit. When we entered they handed the child to the Messenger of Allah ﷺ , and his soul was rattling in his chest." I think he said that it was like a water skin. "The Messenger of Allah ﷺ wept, and Ubadahh bin Samit said to him: What is this, O Messenger of Allah? ﷺ He said: It is the compassion which Allah has created in the son of Adam.Allah only shows mercy to those of His slaves who are compassionate. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ رونا اور رنج کرنا خلاف شرع نہیں ہے بلکہ یہ دل کے نرم اور مزاج کے معتدل ہونے کی نشانی ہے، اور جس کسی کو ایسے موقعوں پر رنج بھی نہ ہو اس کا دل اعتدال سے باہر ہے اور وہ سخت دل ہے، اور یہ کچھ تعریف کی بات نہیں ہے کہ فلاں بزرگ اپنے بیٹے کے مرنے سے ہنسنے لگے، واضح رہے کہ عمدہ اور افضل نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے۔
اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے (وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر ؓ) کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Asma bint Yazid said: "When Ibrahim the son of the Messenger of Allah ﷺ led, the Messenger of Allah ﷺ Wept. The one who was consoling him, either Abu Bakr (RA) or Umar, said to him: You are indeed the best of those who glorify Allah with what is due to him. The Messenger of Allah ﷺ said: The eye weeps and the heart grieves, but we do not say anything that angers the Lord.Were it not that death is something that inevitably comes to all, and that the latter will surely join the former, then we would have been more sad for you, O Ibrahim than we are, verily we grieve for you. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ آنکھ سے آنسوں کا نکلنا اور غمزدہ ہونا صبر کے منافی نہیں بلکہ یہ رحم دلی کی نشانی ہے البتہ نوحہ اور شکوہ کرنا صبر کے منافی اور حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٧٧٢، ومصباح الزجاجة: ٥٧٢) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں کلام ہے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٣٢ )
حمنہ بنت حجش ؓ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا: آپ کا بھائی قتل کردیا گیا ہے تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، إنا لله وإنا إليه راجعون ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں لوگوں نے بتایا: آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا: ہائے غم، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا ۔
It was narrated from Hamnah bint [ahsh that it was said to her: "Your brother has been killed." She said: "May Allah have mercy on him. lnnii lillaihi wa inna ilayhi rajiun (Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return)." They said: "Your husband has been killed." She said: "O grief!" The Messenger of Allah ﷺ said: "The woman has a strong love for her husband, which she does not have for anything else." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٢ ومصباح الزجاجة: ٥٧٣) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد اللہ بن عمرالعمری ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (قبیلہ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں ، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ ؓ پر رونے لگیں، رسول اللہ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا: ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ passed by some women of Abdul-Ashhal who were weeping for their slain on the Day of Uhud. The Messenger of Allah ﷺ said: "But there is no one to weep for Hamzah." So the women of Ansar started to weep for Hamzah. The Messenger of Allah ﷺ woke up and said, Woe to them, have they not gone home yet? Tell them to go home and not to weep for anyone who dies after this day:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٩١، ومصباح الزجاجة: ٥٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠، ٨٤، ٩٢) (حسن صحیح) (اسامہ بن زید ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade eulogies."(Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: جاہلیت میں دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کے عزیز و اقارب اس کی موت پر مرثیہ کہتے یعنی منظوم کلام جس میں اس کے فضائل بیان کرتے اور رنج و غم کی باتیں کرتے، اسلام میں اس کی ممانعت ہوئی، لیکن جاہل اس سے باز نہیں آئے، اب تک مرثیے کہتے، مرثیے سناتے اور سنتے ہیں إنا لله وإنا إليه راجعون۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٥٣، ومصباح الزجاجة: ١٥٧٥) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہیں )