Sunan Ibne-Majah 1586

جنازوں کا بیان

1586Sunan Ibne-Majah

چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑ نے کی مما نعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَيَذْكُرُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وأبى بردة، قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى، أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ فَأَفَاقَ، فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُحَدِّثُهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ، وَسَلَقَ، وَخَرَقَ.

عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری ؓ کی بیماری شدید ہوگئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ ؓ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ١ ؎۔

Abdur-Rahman bin Yazid and Abu Burdah said. "When Abu Musa fell sick his wife Umm Abdullah started to wail loudly. e woke up and said to her: Do you not know that I am innocent of :hose whom the Messenger of Allah ﷺ declared innocence of? And he told her that the Messenger of Allah ﷺ said: I am innocoent of those who shave theheads, raise their voices and tear their garments (at times of calamity). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے جاہلوں کی عادت ہوتی ہے، بلکہ ہندوؤں کی رسم ہے کہ جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کے غم میں سر بلکہ داڑھی مونچھ بھی منڈوا ڈالتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٤)، سنن النسائی/الجنائز ٢٠ (١٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ٩٠٢٠، ٩٠٨١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٢٩ (٣١٣٠)، مسند احمد (٤/٣٩٦، ٤٠٤، ٤٠٥، ٤١١، ٤١٦) (صحیح )