Sunan Ibne-Majah 1579

جنازوں کا بیان

1579Sunan Ibne-Majah

نوحہ کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الصَّهْبَاءِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12، قَالَ: النَّوْحُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت کریمہ: ولا يعصينک في معروف (سورة الممتنحة: 12) نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: اس سے مراد نوحہ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Umm Salamah from the Prophet ﷺ regarding: "And that they will not disobey you in Marut (all that that is good in Islam);" he said: "(It is about) wailing." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: نوحہ کہتے ہیں چلا چلا کر میت پر رونے، اور اس کے فضائل بیان کرنے کو، یہ جاہلیت کی رسم تھی، اور اب تک جاہلوں میں رائج ہے اس لئے نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا، لیکن آہستہ سے رونا جو بےاختیاری اور رنج کی وجہ سے ہو وہ منع نہیں ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٦٠ (٣٣٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٢٠) (حسن )