عورتوں کا جنازہ میں جانا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا.
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کردیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ١ ؎۔
It was narrated that Umm Atiyyah said: "We were prevented from following the funeral, but that was not made binding on us." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی جنازہ میں نہ جانا زیادہ بہتر ہے، جمہور علماء کا یہی قول ہے، اور بعضوں کے نزدیک یہ امر حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢٩ (١٢٧٨)، صحیح مسلم/الجنائز ١١ (٩٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٤٤ (٣١٦٧)، مسند احمد (٦/٤٠٨) (صحیح )