ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بہ نسبت ٣٠ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: (The months in which) We fasted twenty-nine days at the time of the Messenger of Allah ﷺ were more than (the months in which) we fasted thirty days. (Sahih)
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ١ ؎۔
It was narrated that from "Abdur-Rahrnan bin Abu Bakrah,from his father, that the Prophet ﷺ said: "Two months of Eid whose reward cannot be reduced (even if they are twenty-nine days): Ramadan and Dhul-Hijjah." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں مہینے ٢٩ دن کے نہیں ہوتے، اگر ایک ٢٩ کا ہوتا ہے، تو دوسرا تیس کا، اور بعض نے کہا: مطلب یہ ہے کہ گو ان مہینوں کے دن کم ہوں لیکن اجر و ثواب کم نہیں ہوتا، تیس دن کا ثواب ملتا ہے اور یہی صحیح ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "AI-Fitr is the day ,when you break your fast and AI- if Adha is the day when you offer sacrifices." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان عید کریں تو ہر ایک کو اس میں شریک ہوجانا چاہیے، جماعت سے الگ رہ کر اپنی عید علیحدہ کرنا اور چاند کی تحقیق میں مبالغہ کرنا ضروری نہیں ہے، ہماری عید جماعت کی عید کے ساتھ پوری ہوجائے گی، اور جس نے جھوٹ بولا یا جھوٹی گواہی دی اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٢٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ٥ (٢٣٢٤)، سنن الترمذی/الصوم ١١ (٦٩٧) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے، اور نہیں بھی رکھا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ fasted while he was traveling. and he broke his fast." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اختیار ہے چاہے رکھے یا نہ رکھے، اور آگے جو باب آ رہا ہے اس کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ حمزہ اسلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میں روزہ رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "Hamzah Al-Aslami asked the Messenger of Allah ﷺ I am fasting, should I fast while traveling? The Messenger of Allah ﷺ said: If you wish, then fast, and if you wish, then break your fast. (Sahih)
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا، اور لوگوں میں رسول اللہ ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔
It was narrated that Abu Darda said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ on one of his journeys on a hot day, and it was extremely hoI. A man would put his hand over his head because of the intense heal. No one among the people was fasting except for the Messenger of Allah ﷺ and Abdullah bin Rawahah." (Sahih)
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہے جیسے کہ حضر میں روزہ نہ رکھنے والا ۔ ابواسحاق کہتے ہیں: یہ حدیث کچھ نہیں ہے۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin "Awf that the Messenger of Allah ﷺ said: The one who fasts Ramadan while traveling is like one who breaks his fast when not traveling. " (Daif)Abu Ishaq said: "This Hadith is of no significance."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٣٠، ومصباح الزجاجة: ٦٠٤) (ضعیف) (ابوسلمہ کا اپنے والد عبدالرحمن سے سماع نہیں ہے، اور اسامہ بن زید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٩٨ )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنی عبدالاشہل کے اور علی بن محمد کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عبداللہ بن کعب کے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے سوار ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا، اور آپ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: قریب آ جاؤ اور کھاو ٔ میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹھو میں تمہیں روزے کے سلسلے میں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کردی ہے، اور مسافر، حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی) سے روزہ معاف کردیا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم ﷺ نے یہ دونوں باتیں فرمائیں، یا ایک بات فرمائی، اب میں اپنے اوپر افسوس کرتا ہوں کہ میں نے آپ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھایا ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that a man from the tribe of Banu "Abduf-Ashhal, while (one narrator) Ali bin Muhammad said (he was) a man from the tribe of Banu Abdullah bin Kab, said: "The cavalry of the Messenger of Allah ﷺ attacked us, so I came to the Messenger of Allah ﷺ and he was eating a meal. He said: Come and eat. said: I am fasting. He said: Sit and I will tell you about fasting. Allah has relieved the traveler of half of the prayer, and He has relieved the traveler, the pregnant, and the nursing mothers of the duty to fast. By Allah, the Prophet ﷺ said them, both, or one of them, and now I feel so disappointed that I had not eaten of the food of the Messenger of Allah ﷺ ." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا دودھ پینے والے بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں، اور بعد میں ان کی قضا کریں۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حاملہ کو جسے اپنی جان کا ڈر ہو، اور دودھ پلانے والی عورت کو جسے اپنے بچے کا ڈر ہو، رخصت دی کہ وہ دونوں روزے نہ رکھیں۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ granted a concession to pregnant women who fear for themselves, allowing them not to fast, and to nursing mothers who fear for their infants." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٠) (ضعیف جدا) (اس کی سند میں ربیع بن بدر متروک راوی ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہوتے تھے میں ان کی قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آجاتا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Salamah said: "I heard Aisha (RA) say: I used to owe fasts from the month of Ramadan, and I would not make them up for until Shaban came. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جب شعبان کا مہینہ آتا تو نبی اکرم ﷺ بھی اس مہینہ میں بہت روزے رکھتے، ام المومنین عائشہ ؓ بھی قضا کرتیں، اور قضا میں دیر کرنے کی وجہ یہ ہوتی کہ نبی کریم ﷺ کو عائشہ ؓ کی محبت بہت تھی، پہلے روزے رکھنے سے اندیشہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کو تکلیف ہوگی۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے پاس حیض آتا تھا تو آپ ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیتے تھے۔
It was narrated that Aisha (RA) said. "We used to menstruate at the time of the Prophet ﷺ , and he would orde us to make up for the (missed) fasts." (Hasan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں ہلاک ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کردیا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، اس نے کہا: میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تو دو مہینے لگاتار روزے رکھو ، اس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے کہا: مجھے اس کی بھی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا، اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آگیا، اس ٹوکرے کو عرق کہتے تھے، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: جاؤ اسے صدقہ کر دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: A man came to the Prophet ﷺ and said: I am doomed. He said: Why are you doomed? He said: I had intercourse with my wife in Ramadan. The Prophet ﷺ said: Free a slave. He said:I cannot. He said: Fast for two consecutive months. He said: I cannot. He said: Feed sixty poor persons. He said: I cannot. He said: Sit down. So he sat down, and while doing so a basketful of da tes was brought. The Prophet ﷺ said: Go and give this in charity. He said: ,O Messenger of Allah, by the One Who sent you with the truth, there is no household between its two lava fields (i.e., in AI-Madinah) that is more in need of it than us. He said: Then go and feed your family. (Sahih) Another chain from Abu Hurairah (RA) with the additional words: "Then he (the Prophet ﷺ ) said: And fast a day in its place."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ رمضان کا صیام قصداً توڑنے سے ظہار کا سا کفارہ لازم ہے، سبحان اللہ اس شخص کی بھی کیا قسمت تھی کہ روزے کا کفارہ بھی ساقط اور کھجور کا ٹوکرہ مفت ہاتھ آیا، علماء نے کہا ہے کہ یہ اس شخص کے ساتھ خاص تھا اگر دوسرا کوئی رمضان کا روزہ قصداً توڑے تو غلام آزاد کرے، اگر یہ نہ ہو سکے تو تو دو مہینے لگا تار روزے رکھے، اگر یہ نہ ہو سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ٹھہرا رہے جب روزے کی طاقت آجائے یا مال ملے تو کفارہ ادا کرے، بہر حال اپنے بال بچوں کے کھلا دینے سے کفارے کا ادا ہوجانا اس شخص کے ساتھ خاص تھا، واللہ اعلم
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے ایسے ہی بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی جگہ پر ایک دن کا روزہ رکھ لو ۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت کے چھوڑ دے تو اسے پورے سال کے روزے (بھی) کافی نہ ہوں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever does not fast one day in Ramadan without having a concession allowing that, fasting for a lifetime will not make up for that." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٣٨ (٢٣٩٦)، سنن الترمذی/الصوم ٢٧ (٧٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٦، ٤٤٢، ٤٥٨)، سنن الدارمی/الصوم ١٨ (١٧٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابن المطوس لین الحدیث اور والد مطوس مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٤١٣ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بھول کر کھالیا اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کرلے (توڑے نہیں) اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever eats out of forgetfulness, when he is fasting, let him complete his fast, for it is Allah Who has fed him and given him to drink." (Sahih)
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں روزہ افطار کرلیا، پھر سورج نکل آیا، ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا: پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہوگا؟، انہوں نے کہا: یہ تو ضروری ہے ١ ؎۔
It was narrated that Asma bint Abu Bakr (RA) said: "We broke our fast on a cloudy day at the time of the Messenger of Allah ﷺ then the sun appeared." (Sahih) (one of the narrators) said to Hisham: "Were they commanded to make up for that day?" He said: "It had to be made up." (According to Hishams opinion).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قضا تو کرنا ضروری ہے ایسی حالت میں اس پر سب کا اتفاق ہے کہ جب دھوکہ سے روزہ کھول ڈالے بعد میں معلوم ہو کہ دن باقی تھا اور سورج نہیں ڈوبا تھا تو قضا لازم آئے گی، لیکن کفارہ لازم نہ ہوگا۔
فضالہ بن عبید انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس ایک ایسے دن میں آئے جس میں آپ روزہ رکھا کرتے تھے، آپ نے ایک برتن منگوایا اور پانی پیا، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دن تو آپ کے روزے کا ہے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، لیکن آج میں نے قے کی ہے ۔
It was narrated that Abu Masruq said: "I heard Fadalah bin Ubaid Al-Ansari narrating that the Prophet ﷺ came out to them on a day when he was fasting. He called for a vessel and drank. We said: O Messenger of Allah, you were fasting today. He said: Yes, but I vomited. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٤١، ومصباح الزجاجة: ٦٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨، ١٩، ٢١، ٢٢) (ضعیف) (اس میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ابو مرزوق کا سماع فضالہ ؓ سے ثابت نہیں ہے، اس لئے اس کی سند میں انقطاع بھی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے خود بہ خود قے آجائے اس پر روزے کی قضاء نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر روزے کی قضاء ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet; ﷺ said: "Whoever unintentionally vomits, he does not have to make up for the fast, but whoever makes himself vomit, has to make up for the fast." (Daif)
Takhrij · تخریج
حدیث عبید اللہ عن علی قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥١٩) وحدیث عبید اللہ عن الحکم قد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ٣٢ (٢٣٨٠)، سنن الترمذی/الصوم ٢٥ (٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٩٨)، سنن الدارمی/الصوم ٢٥ (١٧٧٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزے دار کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "One of the best actions of the fasting person is using the tooth stick." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: روزے دار کے لئے مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے، کسی بھی وقت میں ہو، شروع دن میں یا اخیر دن میں، بلکہ سنت ہے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، بعض لوگوں نے زوال کے بعد مسواک کرنا مکروہ سمجھا ہے اس وجہ سے کہ اس کے ذریعہ منہ کی بو ختم ہوجائے گی، جس کی فضیلت حدیث میں آئی ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ اس بو کا تعلق منہ سے نہیں، بلکہ معدہ سے ہے، جو معدہ کے خالی ہونے کی حالت میں پیدا ہوتی ہے اسی کو عربی میں خلوف کہتے ہیں جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٠، ومصباح الزجاجة: ٦٠٧) (ضعیف) (اس کی سند میں مجالد ضعیف ہیں )