روزوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 9 · 145 hadiths · Page 3 of 8

1678Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کے لئے مسواک کرنا اور سرمہ لگانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو التَّقِيِّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اكْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سرمہ لگایا، اور آپ ﷺ روزے سے تھے ۔

It was narrated that , Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ applied kohl to his eyes while he was fasting." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٩٠٦، ومصباح الزجاجة: ٦٠٨) (ضعیف )
1679Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کو پچھنے لگانا

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ رَشِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ، عَنِالْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The cupper and the one for whom cupping is done both break their fast." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث تواتر کے درجے کو پہنچی ہوئی ہے، اور اس بارے میں نص ہے کہ پچھنا (سینگی) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اکثر فقہائے حدیث جیسے احمد، اسحاق بن راہویہ، ابن خزیمہ اور ابن المنذر کا یہی مذہب ہے، اور اسی کو محققین علماء جیسے شیخ الإسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم نے اختیار کیا ہے، اور یہ مذہب صحیح اور قیاس کے موافق ہے، حجامت قے کی طرح ہے، اور جب کوئی عمداً قے کرے تو قے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن مالک، ابوحنیفہ، شافعی اور جمہور علماء اس کے جواز کے قائل ہیں اور اس حدیث کی تاویل میں ان کے مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ أفطر الحاجم والمحجوم کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو افطار کے لیے پیش کردیا ہے بلکہ قریب پہنچ گئے ہیں، جسے سینگی لگائی گئی وہ ضعف و کمزوری کی وجہ سے اور سینگی لگانے والا اس لیے کہ اس سے بچنا مشکل ہے کہ جب وہ خون چوس رہا ہو تو خون کا قطرہ حلق میں چلا جائے اور روزہ ٹوٹ جائے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور ناسخ انس ؓ کی روایت ہے جسے دارقطنی نے روایت کیا ہے: رخص النبي بعد في الحجامة للصائم وکان أنس يحتجم وهو صائم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٤١٧، ومصباح الزجاجة: ٦٠٩) (صحیح) (عبد اللہ بن بشر کا سماع اعمش سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے )
1680Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کو پچھنے لگانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّأَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔

It was narrated that Thawban said: "I heard the Prophet ﷺ say: The cupper and the one for whom cupping is done both break their fast. (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٢٨ (٢٣٦٧)، (تحفة الأشراف: ٢١٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨٠، ٢٨٢، ٢٨٣)، سنن الدارمی/الصیام ٣٦ (١٧٧٤) (صحیح )
1681Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کو پچھنے لگانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ، فَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ.

ابوقلابہ سے روایت ہے کہ شداد بن اوس ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بقیع میں چل رہے تھے کہ اسی دوران آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چاند کی اٹھارہویں رات گزر جانے کے بعد پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔

It was narrated from Abu Qilabah that when Shaddad bin Aws was walking with the Messenger of Allah ﷺ in Al·Baqi, he passed by a man who was being cupped, after eighteen days of the month (of Ramadan) had passed. The Messenger of Allah ﷺ said: "The cupper and the one for whom cupping is done both break their fast." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٢٨ (٢٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ٤٨٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٣، ١٢٤، ١٢٥)، سنن الدارمی/الصوم ٢٦ (١٧٧١) (صحیح) (سند میں یحییٰ بن أبی کثیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن سابقہ حدیث تقویت پاکر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ /٦٨/٧٠ و صحیح أبی داود: ٢٠٥٠ - ٢٠٥١ )
1682Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کو پچھنے لگانا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا جب کہ آپ روزے سے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ had cupping done when he was fasting and in Ihram." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: صوم اور احرام دونوں حالتوں میں نبی اکرم ﷺ سے بچھنا لگوانا ثابت ہے، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ وَاحْتَجَمَ وَ هُوَ محْرِمٌ (نبی اکرم ﷺ نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٣٦ (١٨٣٥)، سنن الترمذی/الحج ٢٢ (٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٥)، الصوم ٣٢ (١٩٣٨)، الطب ١٢ (٥٦٩٥)، ١٥ (٥٧٠٠)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٢)، سنن النسائی/الحج ٩٢ (٢٨٤٩)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٣٦، ٢٤٨، ٢٤٩، ٢٦٠، ٢٨٣، ٢٨٦، ٢٩٢، ٣٠٦، ٣١٥، ٣٣٣، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٧٢، ٣٧٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٠ (١٨٦٠)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٠٨١) (صحیح )
1683Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کے لئے بوسہ لینے کا حکم

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ روزوں کے مہینے میں بوسہ لیتے تھے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ used to kiss during the month of fasting." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے لیکن یہ ایسے شخص کے لیے ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو اور جسے اپنے نفس پر قابو نہ ہو اس کے لیے یہ رعایت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٢ (١١٠٦)، سنن ابی داود/الصوم ٣٣ (٢٣٨٣)، سنن الترمذی/الصوم ٣١ (٧٢٧)، الصوم ٢١ (١٧٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٤ (١٩٢٨)، موطا امام مالک/الصیام ٦ (١٨)، مسند احمد (٦/٣٠)، سنن الدارمی/المقدمة ٥٣ (٦٩٨) (صحیح )
1684Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کے لئے بوسہ لینے کا حکم

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پہ ایسا اختیار رکھتا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ رکھتے تھے؟

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to kiss when he was fasting, and who among you can control his desire as the Messenger of Allah ﷺ used to control his desire?" (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٢ (١١٠٦)، الصوم ٢١ (١٧٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٤٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٣ (١٩٢٧)، سنن ابی داود/الصوم ٣٣ (٢٣٨٣)، سنن الترمذی/الصوم ٣٢ (٧٢٩)، موطا امام مالک/الصیام ٦ (١٨)، مسند احمد (٦/٤٤)، سنن الدارمی/المقدمہ ٥٣ (٦٩٨) (صحیح )
1685Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کے لئے بوسہ لینے کا حکم

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ.

ام المؤمنین حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔

It was narrated from Hafsah that the Messenger of Allah ﷺ used to kiss when he was fasting. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٢ (١١٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٦) (صحیح )
1686Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کے لئے بوسہ لینے کا حکم

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضِّنِّيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا صَائِمَانِ؟، قَالَ: قَدْ أَفْطَرَا.

نبی اکرم ﷺ کی لونڈی میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا اس حال میں کہ دونوں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔

It was narrated that Maimunah, the freed (female) slave of the Messenger of Allah ﷺ said: "The Prophet ﷺ was asked about a man who kissed his wife when they were both fasting. He said: They have broken their fast." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٠، ومصباح الزجاجة: ٦١٠) وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦٣) (ضعیف جدا) (سند میں زید بن جبیر ضعیف اور ان کے شیخ ابو یزید الضنی مجہول ہیں )
1687Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کے لئے بیوی کے ساتھ لیٹنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: دَخَلَ الْأَسْوَدُ، وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟، قَالَتْ: كَانَ يَفْعَلُ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ.

اسود اور مسروق ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گئے، اور پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں مباشرت کرتے (ساتھ سوتے) تھے؟، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ایسا کرتے تھے، اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے آدمی تھے۔

It Was narrated that Ibrahim said: "Al-Aswad and Masruq entered upon Aisha (RA) and said: Did the Messenger of Allah ﷺ touch (his wife) when he was fasting? She said: He used to do that, and he was the strongest of all of you in controlling his if desire:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٢ (١١٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٣ (١٩٢٧)، سنن الترمذی/الصوم ٣٢ (٧٢٨)، سنن الدارمی/الطہارة ٨١ (٧٩٦) (صحیح )
1688Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کے لئے بیوی کے ساتھ لیٹنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رُخِّصَ لِلْكَبِيرِ الصَّائِمِ فِي الْمُبَاشَرَةِ، وَكُرِهَ لِلشَّابِّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ١ ؎۔

It Was narrated that Ibn Abbas (RA) said·. "A concession was granted to those who are older with regard to touching while fasting, but it was disliked on the part of those who are younger."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں خطرہ ہے کہ کہیں وہ جماع نہ کر بیٹھیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥٧٨، ومصباح الزجاجة: ٦١١) (صحیح) (محمد بن خالد ضعیف ہے، اور عطاء بن سائب اختلاط کا شکار ہوگئے تھے، خالد واسطی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٢٠٦٥ )
1689Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کا غیبت اور بیہودہ گوئی میں مبتلا ہونا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْجَهْلَ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَا حَاجَةَ لِلَّهِ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا، جہالت کی باتیں کرنا، اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever does not give up evil and ignorant speech, and acting in accordance with that, Allah has no need of his giving up his food and drink." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ روزہ صرف اسی کو مت سمجھو کہ کھانا پانی چھوڑ دیا تو روزہ ادا ہوگیا، بلکہ روزہ کی غرض وغایت اور مقصد یہ ہے کہ خواہشات نفس کو قابو میں رکھے، ہر طرح کے چھوٹے بڑے گناہوں سے بچے، اور جھوٹ، غیبت، برے کام اور گالی گلوچ سے دور رہے، ورنہ خطرہ ہے کہ روزہ قبول نہ ہو اور یہ سب محنت بےکار ہوجائے، اگرچہ یہ سب باتیں یوں بھی منع ہیں خواہ روزہ ہو یا نہ ہو لیکن روزہ میں اور زیادہ سخت گناہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٨ (١٩٠٣)، سنن ابی داود/الصوم ٢٥ (٢٣٦٢)، سنن الترمذی/الصوم ١٦ (٧٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٥٢، ٥٠٥) (صحیح )
1690Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کا غیبت اور بیہودہ گوئی میں مبتلا ہونا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ، وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are people who fast and get nothing from their fast except hunger, and there are those who pray and get nothing from their prayer but a sleepless night." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کو روزہ اور عبادت کا نور حاصل نہیں ہوتا، اور نہ اس میں لذت و برکت ہوتی ہے بلکہ صوم و صلاۃ ان پر ایک بوجھ اور تکلیف ہے، دن میں بھوکا رہنا اور رات کو جاگنا بس اسی کو وہ کافی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کی غلطی ہے، اگر آداب و شروط کے مطابق عبادت کریں تو وہ قبول ہوگی اور اس سے نور و لذت کی نعمت بھی حاصل ہوگی، اور اس وقت ان کو معلوم ہوجائے گا کہ صوم و صلاۃ کا مقصد صرف بھوکا رہنا اور جاگنا نہیں ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایسے لوگ بہت ہوگئے ہیں جو صوم و صلاۃ کو ظاہری طور سے ادا کرلیتے ہیں، اور خضوع و خشوع مطلق حاصل نہیں کرتے، اگرچہ عوام کے لئے یہ بھی کافی ہے، اور امید ہے کہ اللہ اپنی مہربانی سے قبول کرلے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٤٧، ومصباح الزجاجة: ٦١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٣)، سنن الدارمی/الرقاق ١٢ (٢٧٦٢) (حسن صحیح )
1691Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کا غیبت اور بیہودہ گوئی میں مبتلا ہونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، وَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو گندی اور فحش باتیں اور جماع نہ کرے، اور نہ ہی جہالت اور نادانی کا کام کرے، اگر کوئی اس کے ساتھ جہالت اور نادانی کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you is fasting, let him not utter evil or ignorant speech. If anyone speaks to him in an ignorant manner, let him say: I am fasting:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٣٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢ (١٨٩٤)، ٩ (١٩٠٤)، صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥١)، سنن ابی داود/الصوم ٢٥ (٢٣٦٣)، سنن الترمذی/الصوم ٥٥ (٧٦٤)، سنن النسائی/الصوم ٢٣ (٢٢١٨)، موطا امام مالک/الصیام ٢٢ (٥٧)، مسند احمد (٢/٢٣٢)، سنن الدارمی/الصوم ٥٠ (١٨١٢) (صحیح )
1692Sunan Ibne-Majah

سحری کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، سحری میں برکت ہے ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin, Malik that the Messenger of Allah ﷺ said: "Eat Suhur, for in uhur there is a blessing." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سحری کھانا مسنون ہے، اور اس میں برکت ہے کیونکہ سحری کھانے سے آدمی کی قوت و توانائی برقرار رہتی ہے، اور وہ پورے دن چاق و چوبند رہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٠ (١٩٢٣)، صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٥)، سنن الترمذی/الصوم ١٧ (٧٠٨)، سنن النسائی/الصوم ٩ (٢١٤٨)، مسند احمد (٣/٩٩، ٢١٥، ٢٢٩، ٢٤٣)، سنن الدارمی/الصوم ٩ (١٧٣٨) (صحیح )
1693Sunan Ibne-Majah

سحری کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اسْتَعِينُوا بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَى صِيَامِ النَّهَارِ، وَبِالْقَيْلُولَةِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دن کے روزے میں سحری کھانے سے مدد لو، اور قیلولہ سے رات کی عبادت میں مدد لو ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Seek help by eating Suhur for fasting that day, and by taking a brief rest (at midday) for praying at night." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: دوپہر کے آرام کو قیلولہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٩٧، ومصباح الزجاجة: ٦١٣) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٧٥٨ )
1694Sunan Ibne-Majah

سحری دیر سے کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟، قَالَ: قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زید ؓ سے پوچھا: سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ کہا: پچاس آیتیں پڑھنے کی مقدار ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Zaid bin Thabit said: "We ate Suhur with the Messenger of Allah ﷺ then we got up to perform prayer." I said: "How long was there between the two?" He said: As long as it takes to recite fifty Verses." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جتنی دیر میں پچاس آیتیں پڑھی جائیں، اس حدیث سے صاف نکلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ سحری صبح صادق کے قریب کھاتے تھے اتنا کہ سحری سے فارغ ہو کر نماز فجر کو کھڑے ہوتے، جس کو صبح صادق کی پہچان ہو، اس کے لیے ایسا ہی کرنا سنت ہے، اگر یہ نہ ہو تو صبح سے پاؤ گھنٹہ یا آدھا گھنٹہ پہلے سحری سے فارغ ہو، یہ نہیں کہ آدھی رات کو یا ایک بجے یا دو بجے سحری کرے جیسے ہمارے زمانہ کے عوام کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٧ (٥٧٥)، الصوم ١٩ (١٩٢١)، صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٧)، سنن الترمذی/الصوم ١٤ (٧٠٣، ٧٠٤)، سنن النسائی/الصوم ١١ (٢١٥٧)، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٥، ٨٦ ا، ١٨٨، ١٩٢، سنن الدارمی/الصوم ٨ (١٧٣٧) (صحیح )
1695Sunan Ibne-Majah

سحری دیر سے کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ النَّهَارُ، إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری فجر کے طلوع ہوجانے کے وقت کھائی، لیکن ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی۔

It was narrated that Hudhaifah said: "I ate Suhur with the Messenger of Allah ﷺ when it was daybreak but the sun had not yet risen." [(One of the narrators) Abu Ishaq said: "The Hadith of Hudhaifah is abrogated and does not mean anything." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصوم ١٠ (٢١٥٤)، (تحفة الأشراف: ٣٣٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٩٦، ٤٠٠) (حسن الإسناد )
1696Sunan Ibne-Majah

سحری دیر سے کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ لِيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَلِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَلَكِنْ هَكَذَا يَعْتَرِضُ فِي أسْفَلِ َالسَّمَاءِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے، وہ اذان اس لیے دیتے ہیں کہ تم میں سونے والا (سحری کھانے کے لیے) جاگ جائے، اور قیام (یعنی تہجد پڑھنے) والا اپنے گھر چلا جائے، اور فجر اس طرح سے نہیں ہے، بلکہ اس طرح سے ہے کہ وہ آسمان کے کنارے عرض (چوڑان) میں ظاہر ہوتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Adhan of Bilal (RA) should not prevent anyone of you from eating Suhur, for he gives the Adhan to alert those among you who are asleep, and so that anyone who is praying can prepare himself for fasting. the Fajr does not come in this manner, rather it comes in this manner and it appears along the horizon." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور جو لمبی دھاری بھیڑئے کی دم کی طرح آسمان پر ظاہر ہوتی ہے وہ صبح کاذب ہے اس کا اعتبار نہیں ہے، اس وقت کھانا پینا جائز ہے، یہاں تک کہ صبح صادق ظاہر ہوجائے جو مشرق (پورب) کی طرف آسمان کے کنارے عرض (لمبائی) میں ظاہر ہوتی ہے، یہ سورج کی روشنی ہے اسی کو پو پھٹنا کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٣ (٦٢١)، الطلاق ٢٤ (٥٢٩٨)، أخبارالآحاد ١ (٧٢٤٧)، صحیح مسلم/الصوم ٨ (١٠٩٢)، سنن ابی داود/الصوم ١٧ (٢٣٤٧)، سنن النسائی/الأذان ١١ (٦٤٢)، (تحفة الأشراف: ٩٣٧٥)، مسند احمد (١/٣٨٦، ٣٩٢، ٤٣٥) (صحیح )
1697Sunan Ibne-Majah

جلد افطار کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ.

سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، ہمیشہ خیر میں رہیں گے ١ ؎۔

It was narrated from Sahl bin Sad that the Prophet ﷺ said: "The people will remain upon goodness so long as they hasten to break the fast." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سورج ڈوبنے کے بعد روزہ کھولنے میں دیر نہ کریں گے تو ہمیشہ خیر میں رہیں گے، یہ مطلب نہیں ہے کہ وقت سے پہلے ہی روزہ کھول دیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٨)، (تحفة الأشراف: ٤٧٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٤٥ (١٩٥٧)، سنن الترمذی/الصوم ١٣ (٦٩٩)، موطا امام مالک/الصیام ٣ (٦)، سنن الدارمی/الصوم ١١ (١٧٤١) (صحیح )