سحری دیر سے کرنا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟، قَالَ: قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً.
زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زید ؓ سے پوچھا: سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ کہا: پچاس آیتیں پڑھنے کی مقدار ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Zaid bin Thabit said: "We ate Suhur with the Messenger of Allah ﷺ then we got up to perform prayer." I said: "How long was there between the two?" He said: As long as it takes to recite fifty Verses." (Sahih)