والد کو اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرنا خصوصاً بیٹیوں سے اچھا برتاؤ کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ.
سراقہ بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتادوں؟ اپنی بیٹی کو صدقہ دو، جو تمہارے پاس آگئی ہو ١ ؎، اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا بھی نہ ہو ۔
It was narrated from Suraqah bin Malik that the Prophet ﷺ said: "Shall I not tell you of the best charity? A daughter who comes back to you and has no other breadwinner apart from you."