والدین کی فرمانبرداری اور ان کے ساتھ حسن سلوک۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: أُمَّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمَّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أَبَاكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک (اچھے برتاؤ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک (اچھے برتاؤ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "They said: O Messenger of Allah, whom should I treat kindly? He said: Your mother. He said: Then who? He said: Your mother." He said: Then who? He said: Your father: He said: Then who? He said: The next closest and the next closest"(sahih)