لباس کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 33 · 107 hadiths · Page 6 of 6

3650Sunan Ibne-Majah

گھر میں تصاویر (رکھنے سے ممانعت)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ١ ؎۔

It was narrated from Ali bin Abu Tâlib that the Prophet ﷺ Said: “The angels do not enter house in which there is a dog or an image." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رحمت کے فرشتے جو مسلمان اور سچے مومنوں کے پاس شوق اور محبت کی وجہ سے آتے ہیں وہ اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں کتا یا مورت ہو، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو ان چیزوں سے نفرت ہے اور اس کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ جہاں کتا یا مورت ہو وہاں فرشتہ مطلق داخل ہی نہیں ہوتا، اگرچہ اس کو حکم دے دیا گیا ہو، ورنہ لازم آتا ہے جس کوٹھری میں کتا یا تصویر ہو وہاں کوئی نہ مرے کیونکہ موت کا فرشتہ اس کوٹھری کے اندر نہ آسکے گا، واضح رہے یہ فرشتوں کے شوق و محبت سے اور اللہ کی رحمت لے کر گھر میں داخل ہونے کی بات ہے ورنہ جب ان کو حکم الہی ہوتا ہے تو کتا اور مورت کیا پاخانہ اور غلاظت خانہ میں بھی جا کر روح قبض کرلیتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٠ (٢٢٧)، اللباس ٤٨ (٤١٥٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٦٨ (٢٦٢)، الصید ١١ (٤٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٣، ١٠٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٣٤ (٢٧٠٥) (صحیح )
3651Sunan Ibne-Majah

گھر میں تصاویر (رکھنے سے ممانعت)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا فَرَاثَ عَلَيْهِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ بِجِبْرِيلَ قَائِمٌ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ، قَالَ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا، وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ایسے وقت میں آنے کا وعدہ کیا جس میں وہ آیا کرتے تھے، لیکن آنے میں دیر کی تو نبی اکرم ﷺ باہر نکلے، دیکھا تو جبرائیل (علیہ السلام) دروازے پر کھڑے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: آپ کو اندر آنے سے کس چیز نے باز رکھا؟ فرمایا: گھر میں کتا ہے، اور ہم لوگ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے اور تصویریں ہوں ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "Jibril (A.S) promised the Messenger of Allah ﷺ that he would corne to him at a certain hour, but he was late. The Prophet ﷺ went out and there was Jibril standing at the door. He said: What kept you from entering? He said: There is a dog in the house, and we do not enter a house in which there is a dog or an image:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦١، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٢) (صحیح )
3652Sunan Ibne-Majah

گھر میں تصاویر (رکھنے سے ممانعت)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ، أَنَّ زَوْجَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي،فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تُصَوِّرَ فِي بَيْتِهَا نَخْلَ، فَمَنَعَهَا أَوْ نَهَاهَا.

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ اس کا شوہر کسی جنگ میں گیا ہوا ہے، اور اپنے گھر میں کھجور کے درخت کی تصویر بنانے کی اجازت طلب کی، تو آپ ﷺ نے اسے منع فرما دیا یا روک دیا۔

It was narrated from Abu Umâmah that a woman came to the Prophet ﷺ and told him that her husband was away on some military campaign. She asked him for permission to make an image of a palm tree in her house, and he did not let her, or he forbade her.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٧٣) (ضعیف) (سند میں عفیر بن معدان ضعیف راوی ہیں )
3653Sunan Ibne-Majah

تصاویر پامال جگہ میں ہوں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي تَعْنِي: الدَّاخِلَ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَتَكَهُ، فَجَعَلْتُ مِنْهُ مَنْبُوذَتَيْنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے، پردے میں تصویریں تھیں، جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I covered a small room closet of mine, meaning, from the inside, with a curtain on which there were images. When the Prophet ﷺ came, he tore it down, so I made two pillows from it, and I saw the Prophet ﷺ reclining on one of them." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے نقشی تصویر کی بھی حرمت نکلتی ہے، اور بعضوں نے کہا آپ کا یہ فعل حرمت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ آپ ﷺ نے نبوت کے خاندان میں دنیا کی زیب و زینت اور آرائستگی کو برا سمجھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم ٣٢ (٢٤٧٩، ٢٤٧٦)، اللباس ٩١ (٥٩٥٤، ٥٩٥٥)، الأدب ٧٥ (٦١٠٩)، (بدون ذکرالصلاة في المواضع الثلاثة) صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٧)، سنن النسائی/القبلة ١٢ (٧٦٢)، الزینة من المجتبیٰ ٥٧ (٥٣٥٦)، مسند احمد (٦/١٧٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٣٣ (٢٧٠٤) (حسن صحیح) (سند میں اسامہ بن زید ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق سے صحیح ہے، کمافی التخریج )
3654Sunan Ibne-Majah

سرخ زین پوش (کی ممانعت )

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْمِيثَرَةِ، يَعْنِي: الْحَمْرَاءَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہننے اور گدے استعمال کرنے سے منع فرمایا یعنی سرخ ریشمی گدے زین پوش۔

It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade rings of gold and AI-Matharah," meaning the red Ones.(Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١١ (٤٠٥١)، سنن الترمذی/الأدب ٤٥ (٢٨٠٨)، سنن النسائی/الزینة ٤٣ (٥١٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٣، ١٠٤، ١٢٧، ١٣٢، ١٣٣، ١٣٧) (صحیح )
3655Sunan Ibne-Majah

چیتوں کی کھال پر سواری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْحِمْيَرِيُّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ الْحَجْرِيِّ الْهَيْثَمِ، عَنْ عَامِرٍ الْحَجْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُور.

ابوریحانہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے۔

It Was narrated that Amir Al-Hajri said: "I heard Abu Raihanah, the Companion of the Prophet ﷺ say: The Prophet ﷺ used to forbid riding on leopard skins:" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١١ (٤٠٤٩)، سنن النسائی/الزینة ٢٠ (٥٠٩٤)، ٢٧ (٥١١٣، ٥١١٤، ٥١١٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٠ (٢٦٩٠) (حسن صحیح) (بعد کی حدیث معاویہ ؓ سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3656Sunan Ibne-Majah

چیتوں کی کھال پر سواری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ.

معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Mu awiyah said: "The Messenger of Allah ﷺ used to forbid riding on leopard skins: (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ زینت اور فخر کی چیز ہے، اور اس لئے بھی کہ یہ غیر مسلموں کا لباس ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٣ (٤١٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٤٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٣، ٩٤) (صحیح )