لباس کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 33 · 107 hadiths · Page 5 of 6

3630Sunan Ibne-Majah

خضاب ترک کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ عِشْرِينَ شَعَرَةً.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا بڑھاپا تقریباً ً بیس بال کا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The white hair of the Prophet ﷺ numbered approximately twenty." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ کے تقریباً بیس بال سفید تھے۔
Takhrij · تخریج
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٩١٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٠) (صحیح )
3631Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ،دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ، تَعْنِي ضَفَائِرَ.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں (فتح کے روز) داخل ہوئے، تو آپ کے سر میں چار چوٹیاں تھیں ١ ؎۔

It was narrated that Mujahid said: "Umm Hani said: When the Messenger of Allah ﷺ entered Makkah he had four braids.": (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے کہ گرد و غبار سے بچنے کے لئے آپ نے بالوں کو گوندھ کر چوٹیاں بنا لی ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١٢ (٤١٩١)، سنن الترمذی/اللباس ٣٩ (١٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤١، ٤٢٥) (صحیح )
3632Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدُلُونَ أَشْعَارَهُمْ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکائے رکھتے تھے، اور مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے تو آپ ﷺ بھی اپنی پیشانی پر بال لٹکائے رکھتے، پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: The People of the nook used to let their hair hang down, and the i used to part their hair. The Messenger of Allah ﷺ liked to e more like the People of the Book. So the Messenger of Allah ﷺ let his forelock hang down, then after that he parted it.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٨)، مناقب الأنصار ٥٢ (٣٩٤٤)، اللباس ٧٠ (٥٩١٧)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٤ (٢٣٣٦)، سنن ابی داود/الترجل ١٠ (٤١٨٨)، سنن الترمذی/الشمائل ٣ (٢٩)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٧ (٥٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٦، ٢٦١، ٢٨٧، ٣٢٠) (صحیح )
3633Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرِقُ خَلْفَ يَافُوخِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَسْدِلُ نَاصِيَتَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سر پر چندیا کے پچھلے حصے میں مانگ نکالتی تھی اور سامنے کے بال پیشانی پر لٹکتے چھوڑ دیتی تھی۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I used to part the hair of the Messenger of Allah ﷺ behind his crown, and let his forelock hang down." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٧٧ ألف)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الترجل ١٠ (٤١٨٩)، مسند احمد (٦/٩٠، ٢٧٥) (حسن )
3634Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعَرًا رَجِلًا، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال دونوں کانوں اور مونڈھوں کے درمیان سیدھے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "The hair of the Messenger of Allah ﷺ was wavy. and (hung down) between his ears and his shoulders." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اسی واسطے سر کے بال دونوں کانوں سے لے کر مونڈوں تک رکھ سکتا ہے اور مونڈوں سے زیادہ لٹکانا مرد کے لئے بعضوں نے مکروہ رکھا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٨ (٦٩٠٥، ٦٠٩٠٦)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٦ (٢٣٣٨)، سنن الترمذی/الشمائل ٣ (٢٦)، سنن النسائی/الزینة ٦ (٥٠٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠٣) (صحیح )
3635Sunan Ibne-Majah

جوڑے اور چوٹیاں بنانا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعَرٌ دُونَ الْجُمَّةِ، وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال مونڈھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے ہوتے تھے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ had hair that came between his earlobes and his shoulders." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٩ (٤١٨٧)، سنن الترمذی/اللباس ٢١ (١٧٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٠١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٨، ١١٨) (حسن صحیح )
3636Sunan Ibne-Majah

زیادہ (لمبے) بال رکھنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعَرٌ طَوِيلٌ، فَقَالَ: ذُبَابٌ ذُبَابٌ، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُهُ، فَرَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے بال لمبے ہیں تو فرمایا: منحوس ہے منحوس ، یہ سن کر میں چلا آیا، اور میں نے بالوں کو چھوٹا کیا، پھر جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: میں نے تم کو نہیں کہا تھا، ویسے یہ بال زیادہ اچھے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that wru bin Hujr said: "The Prophet ﷺ saw me when I had long hair. He said: Bad news, bad news! So I went away and cut it short. Then the Prophet ﷺ saw me and said: I did not mean you, but this is better."

Notes · وضاحت
١ ؎: بال زیادہ لمبا رکھنے سے ایک تو عورت سے مشابہت ہوتی ہے، دوسرے ان کے دھونے اور کنگھی کرنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس لئے آپ نے لمبے بالوں کو مکروہ اور منحوس جانا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١١ (٤١٩٠)، سنن النسائی/الزینة ٦ (٥٠٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٢) (صحیح الإسناد )
3637Sunan Ibne-Majah

کہیں سے بال کترنا اور کہیں سے چھوڑنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،عَنِ الْقَزَعِ، قَالَ: وَمَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: أَنْ يُحْلَقَ مِنْ رَأْسِ الصَّبِيِّ مَكَانٌ، وَيُتْرَكَ مَكَانٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا: قزع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے قزع کہتے ہیں۔

It was narrated from Nafi that Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Qaza." He (Nafi) said: "What is Qaza?" He said: "It means shaving part of a childs head and leaving another part." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٢ (٥٩٢٠)، صحیح مسلم/اللباس ٣١ (٢١٢٠)، سنن ابی داود/الترجل ١٤ (٤١٩٣)، سنن النسائی/الزینة ٥ (٥٠٥٣)، (تحفة الأشراف: ٨٢٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤، ٣٩، ٥٥، ٦٧، ٨٢، ٨٣، ١٠١، ١٠٦، ١١٨، ١٣٧، ١٤٣، ١٥٤) (صحیح )
3638Sunan Ibne-Majah

کہیں سے بال کترنا اور کہیں سے چھوڑنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ،، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ الْقَزَعِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade Qaza’.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧١٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٧، ٨٣، ١١٨، ١٥٤) (صحیح )
3639Sunan Ibne-Majah

انگشتری کا نقش۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، ثُمَّ نَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: لَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اس میں محمد رسول الله نقش کرایا، اور فرمایا: میری انگوٹھی کا یہ نقش کوئی اور نہ کرائے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ wore a ring of silver, then he had engraved on it (the words) Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah) ﷺ . And he said: No one should have his ring engraved like this ring of mine." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: وہ انگوٹھی آپ کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر ؓ کے پاس پھر عمر ؓ کے پاس، پھر عثمان ؓ کے پاس ان کی اخیر خلافت میں اریس کے کنوئیں میں گرگئی، ہرچند تلاش کی گئی مگر نہ ملی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠٩١)، سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٩)، سنن الترمذی/الشمائل ١١ (٩٥)، سنن النسائی/الزینة من المجتبيٰ ٢٦ (٥٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ٧٥٩٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٤٦ (٥٨٦٦)، مسند احمد (٢/٢٢) (صحیح )
3640Sunan Ibne-Majah

انگشتری کا نقش۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا، فَقَالَ: إِنَّا قَدِ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا، وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشَنَّ عَلَيْهِ أَحَدٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی، اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں نقش کرایا ہے، لہٰذا اب اس طرح کوئی اور نقش نہ کرائے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ had a ring made for him. and he said: I have had a ring made for me and had it engraved, and no one should make a ring with similar engraving.": (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ آپ کی علامت تھی آپ خطوط پر اس کو ثبت فرماتے، اب بھی اس طرح کا انگوٹھی پر نقش کرانا منع ہے، اور بعضوں نے کہا مکروہ نہیں کیونکہ التباس کا ڈر اب باقی نہیں ہے، اور ہم کہتے ہیں کہ ممانعت عام اور شامل ہے ہمیشہ ہمیش کے لیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٧ (٥٨٦٦)، ٥٠ (٥٨٧٢)، ٥٢ (٥٨٧٥)، ٥٤ (٥٨٧٧)، صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠٩٢)، ١٣ (٢٠٩٢)، سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٤)، سنن الترمذی/اللباس ١٤ (١٧٣٩)، الشمائل ١١ (٩٢)، سنن النسائی/الزینة ٤٥ (٥٢٠٤)، الزینة من المجتبی ٢٤ (٥٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦١، ١٧٠، ١٨١، ١٩٨، ٢٠٩، ٢٢٣) (صحیح )
3641Sunan Ibne-Majah

انگشتری کا نقش۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ لَهُ فَصٌّ حَبَشِيٌّ وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ایک حبشی نگینہ تھا، اور اس میں محمد رسول الله کا نقش تھا۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ wore a ring of silver, in which was an Ethiopian gemstone and the inscription: Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah) ﷺ ." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٧ (٥٨٦٨)، صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠١٢)، سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٦)، سنن الترمذی/اللباس ١٤ (١٧٣٩)، سنن النسائی/الزینة ٤٥ (٥١٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠٩، ٢٢٥) (صحیح )
3642Sunan Ibne-Majah

(مردوں کیلئے) سونے کی انگشتری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ بْنِ جُبَيْرٍ مَوْلَى عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade wearing gold rings."

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٠٢ (صحیح )
3643Sunan Ibne-Majah

(مردوں کیلئے) سونے کی انگشتری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی (پہننے) سے منع فرمایا۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade gold rings," (Hasan)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٠١ (تحفة الأشراف: ٦٦٩١) (صحیح )
3644Sunan Ibne-Majah

(مردوں کیلئے) سونے کی انگشتری۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: أَهْدَى النَّجَاشِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَةً، فِيهَا خَاتَمُ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ، وَإِنَّهُ لَمُعْرِضٌ عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ دَعَا ابْنَةِ ابْنَتِهِ أُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَاصِ، فَقَالَ: تَحَلِّي بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: بیٹی! اسے تم پہن لو ۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) the Mother of the Believers said: “Najashi sent some jewelry as a gift to the Messenger of Allah ﷺ . Among that was a gold ring with an Ethiopian gemstone. The Messenger of Allah ﷺ li picked it up with a stick - as if he found it distasteful — or with one of his fingers, then he called has daughter’s daughter, Umâmah bint AbulAs, and said: ‘Wear this, O my daughter.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٨ (٤٢٣٥) (تحفة الأشراف: ١٦١٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠١، ١١٩) (حسن )
3645Sunan Ibne-Majah

انگشتری پہننے میں نگینہ ہتھیلی کی طرف کی رکھنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَيَجْعَلُ فَصَّ خَاتَمِهِ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ used to wear (his ring) with the stone nearest his palm. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١١ (٢٠٩٢)، سنن ابی داود/الخاتم ١ (٤٢١٨)، (تحفة الأشراف: ٧٥٩٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٤٥ (٥٨٦٥)، ٤٦ (٥٨٦٦)، ٤٧ (٥٨٦٧)، ٥٣ (٥٨٦٧)، الأیمان ٦ (٦٦٥١)، الاعتصام ٤ (٧٢٩٨)، سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤١)، الشمائل ١٢ (٨٤)، سنن النسائی/الزینة ٤٥ (٥١٩٩)، مسند احمد (٢/١٨، ٦٨، ٩٦، ١٢٧) (صحیح )
3646Sunan Ibne-Majah

انگشتری پہننے میں نگینہ ہتھیلی کی طرف کی رکھنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی پہنی، اس میں حبشی نگینہ تھا، آپ اپنے نگینے کو اپنی ہتھیلی کے اندر کی جانب رکھتے تھے۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ wore a silver ring with an Ethiopian gemstone, and he used to wear the stone in towards his palm. (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٤١، (صحیح )
3647Sunan Ibne-Majah

دائیں ہاتھ میں انگشتری پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ.

عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Jafar that the Prophet ﷺ used to wear a ring on his right hand. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور صحیح مسلم میں ہے کہ بائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں یعنی سب سے چھوٹی انگلی میں پہنتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٢١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤٤)، الشمائل ١٣ (٩٨)، سنن النسائی/الزینة ٤٦ (٥٢٠٧)، مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥) (صحیح )
3648Sunan Ibne-Majah

انگوٹھے میں انگشتری پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ أَتَخَتَّمَ فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ، يَعْنِي: الْخِنْصَرَ، وَالْإِبْهَامَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے منع فرمایا کہ میں اس میں اور اس میں انگوٹھی پہنوں، یعنی چھنگلی اور انگوٹھے میں ١ ؎۔

It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade me to wear a ring on this and on this," meaning the little finger and the thumb. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تخریج حدیث سے ظاہر ہوا کہ اصل حدیث: درمیانی انگلی اور اس سے ملی انگلی میں پہننے سے متعلق ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٢٨ (٥٨٣٨ تعلیقاً ) صحیح مسلم/اللباس ١٦ (٢٠٨٧)، سنن ابی داود/الخاتم ٤ (٤٢٢٥)، سنن الترمذی/اللباس ٤٤ (١٧٨٦)، سنن النسائی/الزینة ٥٠ (٥٢١٤)، الزینة من المجتبيٰ ٥٢ (٥٢٨٨، ٥٢٨٩) (تحفة الأشراف: ١٠٣١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٨، ١٣٤، ١٣٨) (شاذ) (يَعني الخنصر والإبهام کا لفظ منکر ہے، محفوظ و ثابت لفظ یہ ہے: في هذه وفي هذه ۔ شک عاصم قال: فأوما إلي الوسطى والتي اس میں یا اس میں، عاصم کو شک ہے، پھر درمیان انگلی کی طرف اشارہ کیا، اور جو اس سے ملی ہوئی ہے )
3649Sunan Ibne-Majah

گھر میں تصاویر (رکھنے سے ممانعت)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے نہیں داخل ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Talhah that the Prophet ﷺ said: "The angels do not enter a house in which there is a dog or an image." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: وہ کتے جو کھیت اور جائداد کی رکھوالی، یا شکار کے لئے ہوں اس ممانعت کے حکم سے مستثنیٰ ہیں، اور تصویر سے بےجان چیزوں کی تصویریں مستثنیٰ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٢٥)، ١٧ (٣٣٢٢)، المغازي ١٢ (٤٠٠٢)، اللباس ٨٨ (٥٩٤٩)، ٩٢ (٥٩٥٨)، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦)، سنن ابی داود/اللباس ٤٨ (٤١٥٣)، سنن الترمذی/الأدب ٤٤ (٢٨٠٤)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١١ (٤٢٨٧)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٥٧ (٥٣٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٧٧٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ٣ (٦)، مسند احمد (٤/٢٨، ٢٩، ٣٠) (صحیح )