عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکائے رکھتے تھے، اور مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے تو آپ ﷺ بھی اپنی پیشانی پر بال لٹکائے رکھتے، پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: The People of the nook used to let their hair hang down, and the i used to part their hair. The Messenger of Allah ﷺ liked to e more like the People of the Book. So the Messenger of Allah ﷺ let his forelock hang down, then after that he parted it.” (Sahih)
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے بال لمبے ہیں تو فرمایا: منحوس ہے منحوس ، یہ سن کر میں چلا آیا، اور میں نے بالوں کو چھوٹا کیا، پھر جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: میں نے تم کو نہیں کہا تھا، ویسے یہ بال زیادہ اچھے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that wru bin Hujr said: "The Prophet ﷺ saw me when I had long hair. He said: Bad news, bad news! So I went away and cut it short. Then the Prophet ﷺ saw me and said: I did not mean you, but this is better."
Notes · وضاحت
١ ؎: بال زیادہ لمبا رکھنے سے ایک تو عورت سے مشابہت ہوتی ہے، دوسرے ان کے دھونے اور کنگھی کرنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس لئے آپ نے لمبے بالوں کو مکروہ اور منحوس جانا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا: قزع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے قزع کہتے ہیں۔
It was narrated from Nafi that Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Qaza." He (Nafi) said: "What is Qaza?" He said: "It means shaving part of a childs head and leaving another part." (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اس میں محمد رسول الله نقش کرایا، اور فرمایا: میری انگوٹھی کا یہ نقش کوئی اور نہ کرائے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ wore a ring of silver, then he had engraved on it (the words) Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah) ﷺ . And he said: No one should have his ring engraved like this ring of mine." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ انگوٹھی آپ کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر ؓ کے پاس پھر عمر ؓ کے پاس، پھر عثمان ؓ کے پاس ان کی اخیر خلافت میں اریس کے کنوئیں میں گرگئی، ہرچند تلاش کی گئی مگر نہ ملی۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی، اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں نقش کرایا ہے، لہٰذا اب اس طرح کوئی اور نقش نہ کرائے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ had a ring made for him. and he said: I have had a ring made for me and had it engraved, and no one should make a ring with similar engraving.": (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ آپ کی علامت تھی آپ خطوط پر اس کو ثبت فرماتے، اب بھی اس طرح کا انگوٹھی پر نقش کرانا منع ہے، اور بعضوں نے کہا مکروہ نہیں کیونکہ التباس کا ڈر اب باقی نہیں ہے، اور ہم کہتے ہیں کہ ممانعت عام اور شامل ہے ہمیشہ ہمیش کے لیے۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ایک حبشی نگینہ تھا، اور اس میں محمد رسول الله کا نقش تھا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ wore a ring of silver, in which was an Ethiopian gemstone and the inscription: Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah) ﷺ ." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: بیٹی! اسے تم پہن لو ۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) the Mother of the Believers said: “Najashi sent some jewelry as a gift to the Messenger of Allah ﷺ . Among that was a gold ring with an Ethiopian gemstone. The Messenger of Allah ﷺ li picked it up with a stick - as if he found it distasteful — or with one of his fingers, then he called has daughter’s daughter, Umâmah bint AbulAs, and said: ‘Wear this, O my daughter.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٨ (٤٢٣٥) (تحفة الأشراف: ١٦١٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠١، ١١٩) (حسن )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی پہنی، اس میں حبشی نگینہ تھا، آپ اپنے نگینے کو اپنی ہتھیلی کے اندر کی جانب رکھتے تھے۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ wore a silver ring with an Ethiopian gemstone, and he used to wear the stone in towards his palm. (Sahih)
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے منع فرمایا کہ میں اس میں اور اس میں انگوٹھی پہنوں، یعنی چھنگلی اور انگوٹھے میں ١ ؎۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade me to wear a ring on this and on this," meaning the little finger and the thumb. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تخریج حدیث سے ظاہر ہوا کہ اصل حدیث: درمیانی انگلی اور اس سے ملی انگلی میں پہننے سے متعلق ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٢٨ (٥٨٣٨ تعلیقاً ) صحیح مسلم/اللباس ١٦ (٢٠٨٧)، سنن ابی داود/الخاتم ٤ (٤٢٢٥)، سنن الترمذی/اللباس ٤٤ (١٧٨٦)، سنن النسائی/الزینة ٥٠ (٥٢١٤)، الزینة من المجتبيٰ ٥٢ (٥٢٨٨، ٥٢٨٩) (تحفة الأشراف: ١٠٣١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٨، ١٣٤، ١٣٨) (شاذ) (يَعني الخنصر والإبهام کا لفظ منکر ہے، محفوظ و ثابت لفظ یہ ہے: في هذه وفي هذه ۔ شک عاصم قال: فأوما إلي الوسطى والتي اس میں یا اس میں، عاصم کو شک ہے، پھر درمیان انگلی کی طرف اشارہ کیا، اور جو اس سے ملی ہوئی ہے )