لباس کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 33 · 107 hadiths · Page 4 of 6

3610Sunan Ibne-Majah

مردار کا چمڑا دباغت کے بعد پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ شَاةً لِمَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، مَرَّ بِهَا يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيْتَةً، فَقَالَ: هَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ: إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا.

ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی، نبی اکرم ﷺ کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے ١ ؎۔

It was narrated from Maimunah that he (meaning the Prophet ﷺ passed by a dead sheep belonging to the freed slave woman of Maimunah, that had been given to her in charity. He said: "Why dont they take its skin and tan it, and make use of it?" They said: "O Messenger of Allah, it is dead meat." He said: "It is only unlawful to eat it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مرے ہوئے ماکول اللحم جانور کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کے چمڑے سے دباغت کے بعد ہر طرح کا فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ بیچ کر ہو یا ذاتی استعمال میں لا کر۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٣)، سنن الترمذی/اللباس ٧ (١٧٢٧)، سنن ابی داود/اللباس ٤١ (١٤٢٠)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٣ (٤٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٦١ (١٤٩٢)، البیوع ١٠١ (٢٢٢١)، موطا امام مالک/الصید ٦ (١٦)، مسند احمد (٦/٣٢٩، ٢٣٦)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٣١) (صحیح )
3611Sunan Ibne-Majah

مردار کا چمڑا دباغت کے بعد پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: كَانَ لِبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَاةٌ فَمَاتَتْ، فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا.

سلمان ؓ کہتے ہیں کہ امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مرگئی، رسول اللہ ﷺ کا اس پر گزر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ۔

It was narrated that Salman said: "One of the Mothers of the Believers had a sheep that died. The Messenger of Allah ﷺ passed by it and said: It would not have harmed its owners if they had made use of its hide. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٩) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب دونوں ضعیف راوی ہیں )
3612Sunan Ibne-Majah

مردار کا چمڑا دباغت کے بعد پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا: جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded that use should be made of the skins of dead animals, if they were tanned." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٤)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٥ (٤٢٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید ٦ (١٨)، مسند احمد (٦/٧٣، ١٠٤، ١٤٨، ١٥٣)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٣٠) (صحیح لغیرہ) (نیز ملاحظہ ہو: صحیح موارد الظمآن: ١٢٢ وغایة المرام: ٢٦ )
3613Sunan Ibne-Majah

بعض کا قول کہ مردار کی کھال اور پٹھے نفع نہیں اٹھایا جاسکتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْالشَّيْبَانِيِّ . ح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ.

عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Ukaym said: "There came to us a letter from the Prophet ﷺ (saying): Do not make use of the untanned skin and sinew of dead animals." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں إِهَاب کا لفظ آیا ہے، اور نضر بن شمیل کہتے ہیں کہ إِهَاب اسی کھال کو کہا جاتا جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جس کی دباغت ہوجائے اسے إِهَاب نہیں کہتے، بلکہ اسے شن یا قربہ کہا جاتا ہے، لہذا اس حدیث میں إِهَاب یعنی بغیر دباغت والے چمڑے کا ذکر ہے، اس إِهَاب یعنی کچے چمڑے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں، لیکن دوسری صحیح حدیثوں میں مشروط طریقے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ یہ کہ حلال مردہ جانوروں کے چمڑے کو پہلے دباغت دے دیں، پھر اس سے فائدہ اٹھائیں لفظ إِهَاب کی وضاحت کے بعد حدیث میں کسی طرح کا نہ کوئی تعارض ہے اور نہ ہی اشکال۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٢ (٤١٢٧، ٤١٢٨)، سنن الترمذی/اللباس ٧ (١٧٢٩)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٤ (٤٢٥٤)، (تحفة الأشراف: ٦٦٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٠، ٣١١) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٤٧٠ )
3614Sunan Ibne-Majah

بعض کا قول کہ مردار کی کھال اور پٹھے نفع نہیں اٹھایا جاسکتا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، قَالَ: كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِبَالَانِ مَثْنِيٌّ شِرَاكُهُمَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Abbas said: "The sandals of the Prophet ﷺ had two thongs doubled around their straps." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ چپل پہنتے تھے اور تسموں سے مراد یہ کہ ہر جوتی میں سامنے دو دو حلقے چمڑے کے تھے ایک میں انگوٹھا اور بیچ کی انگلی ڈالتے، اور دوسرے میں باقی انگلیاں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٧٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٠) (صحیح )
3615Sunan Ibne-Majah

بعض کا قول کہ مردار کی کھال اور پٹھے نفع نہیں اٹھایا جاسکتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی جوتیوں کے دو تسمے تھے۔

It was narrated that Anas said: "The sandals of the Prophet ﷺ had two thongs."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ٥ (١٠٧)، اللباس ٤١ (٥٨٥٧)، سنن ابی داود/اللباس ٤٤ (٤١٣٤)، سنن الترمذی/اللباس ٣٣ (١٧٧٢)، الشمائل ١٠ (٧١)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٦٢ (٥٣٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٢، ٢٠٣، ٢٤٥، ٢٦٩) (صحیح )
3616Sunan Ibne-Majah

جوتے پہننا اور اتارنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى، وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں پیر سے شروع کرے، اور اتارے تو پہلے بائیں پیر سے اتارے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you puts on his sandals, let him start with the right, and when he takes them off, let him start with the left."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٠٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٣٩ (٥٨٥٤)، صحیح مسلم/اللباس ١٩ (٢٠٩٧)، سنن ابی داود/اللباس ٤٤ (٤١٣٩)، سنن الترمذی/اللباس ٣٧ (١٧٧٩)، موطا امام مالک/اللباس ٧ (١٥)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٦٥، ٢٨٣، ٤٣٠) (صحیح )
3617Sunan Ibne-Majah

ایک جوتا پہن کر چلنے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ، وَلَا خُفٍّ وَاحِدٍ، لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيَمْشِ فِيهِمَا جَمِيعًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "None of you should walk in one sandal or in one leather sock. Let him take them both off or walk in both of them."

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم ادب کے طور پر ہے اگر کوئی عذر ہو مثلا ایک پاؤں میں پھوڑا یا درد ہو تو جوتا اس میں نہ پہنا جائے، تو بہتر یہ ہے کہ دوسرے پاؤں کا جوتا بھی اتار کر چلے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٦٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٦١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٤٠ (٥٨٥٥)، صحیح مسلم/اللباس ١٩ (٢٠٩٧)، سنن ابی داود/اللباس ٤٤ (٤١٣٦)، سنن الترمذی/اللباس ٣٤ (١٧٧٤)، موطا امام مالک/اللباس ٧ (١٤)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٥٣، ٣١٤، ٤٢٤، ٤٤٣، ٤٧٧) (حسن صحیح )
3618Sunan Ibne-Majah

کھڑے کھڑے جوتا پہننا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade putting on sandals whilst standing." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفةالأشراف: ١٢٥٤٦) (صحیح )
3619Sunan Ibne-Majah

کھڑے کھڑے جوتا پہننا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے کھڑے جوتا پہننے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Ibn timar said: “The Prophet ﷺ forbade putting on sandals whilst Standing.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧١٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٢) (صحیح )
3620Sunan Ibne-Majah

سیاہ موزے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ،أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُفَّيْنِ سَاذَجَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، فَلَبِسَهُمَا.

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دو کالے اور چمڑے کے سادہ موزے تحفہ میں بھیجے تو آپ ﷺ نے انہیں پہنا۔

It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that an-Najashi sent a pair of pure black Khuff as a gift to the Prophet ﷺ of, which he wore. (Daif)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٥٤٩) (حسن )
3621Sunan Ibne-Majah

مہندی کا خضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُخْبِرَانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى، لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، تو تم ان کی مخالفت کرو (یعنی خضاب لگاؤ) ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) attributed to the Prophet ﷺ "The Jews and the Christians do not dye (their hair),so differ from them." (Sahih)

Notes · وضاحت
بالکل سیاہ رنگ سے اجتناب کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٠ (٣٤٦٢)، اللباس ٦٧ (٥٨٩٩)، صحیح مسلم/اللباس ٢٥ (٢١٠٣)، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٣)، سنن النسائی/الزینة ١٤ (٥٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨٠، ١٥١٤٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٢)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٦٠، ٣٠٩، ٤٠١) (صحیح )
3622Sunan Ibne-Majah

مہندی کا خضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بالوں کی سفیدی بدلنے کے لیے سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best things with which you change gray hair are henna and Kaiam" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: كَتَمُ: ایک پودا ہے جس کی جڑ سے خضاب بنایا جاتا ہے، نیز اس کو جوش دے کر روشنائی تیار کی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٥)، سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٣)، سنن النسائی/الزینة ١٦ (٥٠٨١، ٥٠٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٧، ١٨٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٧، ١٥٠، ١٥٤، ١٥٦، ١٦٩) (صحیح )
3623Sunan Ibne-Majah

مہندی کا خضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَىأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ شَعَرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ.

عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ایک بال نکال کر مجھے دکھایا، جو مہندی اور کتم سے رنگا ہوا تھا۔

It was narrated that Uthman bin Mawhab said: "I entered upon Umm Salamah and she brought out for me a hair of the Messenger of Allah ﷺ which was dyed with henna and Katam. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٦ (٥٨٩٦، ٥٨٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٨١٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٦، ٣١٩، ٣٢٢) (صحیح )
3624Sunan Ibne-Majah

سیاہ خضاب کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ، يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ، وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے (یعنی خضاب لگا دے) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ١ ؎۔

It was narrated from Jâbir said: “Abu Quhâfah was brought to the Prophet ﷺ on the Day of the Conquest (of Makkah), and his head was all white. The Messenger of AlIah said: ‘Take him to some of his womenfolk and let them change this, but avoid black.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: خضاب لگانے کا مقصد یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، اہل کتاب کی مخالفت رسول اکرم ﷺ خود کرتے تھے، اور اس کا حکم بھی دیتے تھے، البتہ اس حدیث کی روشنی میں کالے خضاب سے بچنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢)، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٤)، سنن النسائی/الزینة ١٥ (٥٠٧٩)، الزینة من المجتبیٰ ١٠ (٥٢٤٤)، مسند احمد (٣/، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج )
3625Sunan Ibne-Majah

سیاہ خضاب کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ زَكَرِيَّا الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا دَفَّاعُ بْنُ دَغْفَلٍ السَّدُوسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبِ الْخَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا اخْتَضَبْتُمْ بِهِ لَهَذَا السَّوَادُ أَرْغَبُ لِنِسَائِكُمْ فِيكُمْ، وَأَهْيَبُ لَكُمْ فِي صُدُورِ عَدُوِّكُمْ.

صہیب الخیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو خضاب تم لگاتے ہو ان میں بہترین کالا خضاب ہے، اس سے عورتیں تمہاری طرف زیادہ راغب ہوتی ہیں، اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری ہیبت زیادہ بیٹھتی ہے ۔

It was narrated that Suhaib AI-Khair said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The best thing with which you can dye your hair is this black (dye). It makes your women desire you and creates fear in the hearts of your enemies:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٥، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٤) (ضعیف) (عمر بن خطاب بن زکریا راسبی اور دفاع سدوسی دونوں ضعیف راوی ہیں )
3626Sunan Ibne-Majah

زردخضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ جُرَيْجٍ، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْوَرْسِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ.

عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد (پیلی) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر ؓ نے کہا: میں اس لیے زرد (پیلی) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے دیکھا۔

It was narrated from Sa’eed bin Abu Sa’eed that ‘Ubaid bin Juraij asked Ibn ‘Umar (RA) : “I see that you dye your beard yellow with Wars.” Ibn ‘Umar said: “As for my dyeing of my beard yellow with Wars, I saw the Messenger of Allah ﷺ dyeing his beard yellow.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الوضوء ٣٠ (١٦٦)، اللباس ٣٧ (٥٨٥١)، صحیح مسلم/الحج ٥ (١١٨٧)، سنن ابی داود/المناسک ٢١ (١٧٧٢)، اللباس ١٨ (٤٠٦٤)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ١١ (٥٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٧٣١٦) (صحیح )
3627Sunan Ibne-Majah

زردخضاب۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا، ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا، ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَةِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ، قَالَ: وَكَانَ طَاوُسٌ يُصَفِّرُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے ، پھر آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور کتم (وسمہ) کا خضاب لگایا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس سے اچھا ہے ! پھر آپ کا گزر ایک دوسرے کے پاس ہوا جس نے زرد خضاب لگا رکھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا اور بہتر ہے ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ اسی لیے طاؤس بالوں کو زرد خضاب کیا کرتے تھے۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet ﷺ passed by a man who had dyed his hair with henna and said: How handsome this is! Then he passed by another who had dyed his hair with henna and Katam, and said: This one is more handsome that that one: Then he passed by another who had dyed his hair yellow and said: This one is more handsome than all of them:" (Daif) He (one of the narrators) said: Tawus used to dye his hair yellow.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١٩ (٤٢١١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٢٠) (ضعیف) (سند میں حمید بن وہب لین الحدیث راوی ہیں )
3628Sunan Ibne-Majah

خضاب ترک کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءُ، يَعْنِي عَنْفَقَتَهُ.

ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے یہ بال یعنی داڑھی بچہ سفید دیکھی۔

It was narrated that Abu Juhaifah said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ and this part of his hair was white" - meaning the tuft of hair between the lower lip and the chin. (Sahih)

Notes · وضاحت
ان کا اشارہ نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان کے بالوں کی طرف تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٤٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٩ (٢٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٠٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٦٠ (٢٨٢٦)، مسند احمد (٤/٣٠٨، ٣٠٩) (صحیح )
3629Sunan Ibne-Majah

خضاب ترک کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ، إِلَّا نَحْوَ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرِينَ شَعَرَةً فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ.

حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ سے سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے خضاب لگایا ہے؟ کہا: میں نے آپ کی داڑھی میں سفید بال دیکھے ہی نہیں سوائے ان سترہ یا بیس بالوں کے جو آپ کی داڑھی کے سامنے والے حصے میں تھے۔

It was narrated that Humaid said: "Arias bin Malik was asked: Did the Messenger of Allah ﷺ dye his halr? He said: He did not have any white hair apart from approximately seventeen or twenty hairs at the front of his beard." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٣، ٧٦١، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٤٧)، اللباس ٦٦ (٥٨٩٤)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٩ (٢٣٤١)، سنن الترمذی/المناقب ٤ (٣٦٢٣)، موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ١ (١)، مسند احمد (١/١٠٨، ١٧٨، ١٨٨، ٢٠١) (صحیح )