ایک جوتا پہن کر چلنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ، وَلَا خُفٍّ وَاحِدٍ، لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيَمْشِ فِيهِمَا جَمِيعًا.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "None of you should walk in one sandal or in one leather sock. Let him take them both off or walk in both of them."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم ادب کے طور پر ہے اگر کوئی عذر ہو مثلا ایک پاؤں میں پھوڑا یا درد ہو تو جوتا اس میں نہ پہنا جائے، تو بہتر یہ ہے کہ دوسرے پاؤں کا جوتا بھی اتار کر چلے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٦٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٦١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٤٠ (٥٨٥٥)، صحیح مسلم/اللباس ١٩ (٢٠٩٧)، سنن ابی داود/اللباس ٤٤ (٤١٣٦)، سنن الترمذی/اللباس ٣٤ (١٧٧٤)، موطا امام مالک/اللباس ٧ (١٤)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٥٣، ٣١٤، ٤٢٤، ٤٤٣، ٤٧٧) (حسن صحیح )