Sunan Ibne-Majah 3624

لباس کا بیان

3624Sunan Ibne-Majah

سیاہ خضاب کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ، يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ، وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے (یعنی خضاب لگا دے) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ١ ؎۔

It was narrated from Jâbir said: “Abu Quhâfah was brought to the Prophet ﷺ on the Day of the Conquest (of Makkah), and his head was all white. The Messenger of AlIah said: ‘Take him to some of his womenfolk and let them change this, but avoid black.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: خضاب لگانے کا مقصد یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، اہل کتاب کی مخالفت رسول اکرم ﷺ خود کرتے تھے، اور اس کا حکم بھی دیتے تھے، البتہ اس حدیث کی روشنی میں کالے خضاب سے بچنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢)، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٤)، سنن النسائی/الزینة ١٥ (٥٠٧٩)، الزینة من المجتبیٰ ١٠ (٥٢٤٤)، مسند احمد (٣/، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج )