لباس کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 33 · 107 hadiths · Page 3 of 6

3590Sunan Ibne-Majah

ریشم پہننے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ، وَقَالَ: هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مردوں کے لیے) ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا، اور فرمایا: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہے ۔

It was narrated that Hudhaifah said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade wearing silk and gold. He said: ‘They are for them in this world and for us in the Hereafter.”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٩ (٥٤٢٦)، الأشربة ٢٧ (٥٦٣٢)، ٢٨ (٥٦٣٣)، اللباس ٢٥ (٥٨٣١)، ٢٧ (٥٨٣٧)، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٧)، سنن ابی داود/الأشربة ١٧ (٣٧٢٣)، سنن الترمذی/الأشربة ١٠ (١٨٧٨)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٣ (٥٣٠٣)، (تحفة الأشراف: ٣٣٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٩٠، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠٨)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٥ (٢١٧٦) (صحیح )
3591Sunan Ibne-Majah

ریشم پہننے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ لِلْوَفْدِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ریشم کا ایک سرخ جوڑا دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس جوڑے کو وفود سے ملنے کے لیے اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیتے تو اچھا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that Umar bin Khattab saw a silken two piece suit (being offered for sale). He said: "O Messenger of Allah, why dont you buy this two piece suit (to wear for meeting) the delegations, and on Fridays?" The Messenger of Allah ﷺ said: "This is only worn by one who has no share in the Hereafter: (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٧ (٨٨٦)، العیدین ١ (٩٤٨) الھبة ٢٧ (٢٦١٢)، ٢٩ (٢٦١٩)، الجہاد ١٧٧ (٣٠٥٤)، اللباس ٣٠ (٥٨٤١)، الأدب ٩ (٥٩٨١)، ٦٦ (٦٠٨١)، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٢١٩ (١٠٧٦)، اللباس ١٠ (٤٠٤٠)، سنن النسائی/الجمعة ١١ (١٣٨٣)، العیدین ٤ (١٥٦١)، الزینة في المجتبیٰ ٢٩ (٥٢٩٧)، ٣١ (٥٣٠١)، موطا امام مالک/اللباس ٨ (١٨)، مسند احمد (٢/٢٠، ٣٩، ٤٩) (صحیح )
3592Sunan Ibne-Majah

جس کو ریشم پہننے کی اجازت ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، نَبَّأَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَلِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فِي قَمِيصَيْنِ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا حِكَّةٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ granted a concession to Zubair bin Awwam and Abdur-Rahman bin Awf, allowing them to wear silk shirts, because of a rash they were suffering from. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٩١ (٢٩١٩)، اللباس ٢٩ (٥٨٣٩)، صحیح مسلم/اللباس ٣ (٢٠٧٦)، سنن ابی داود/اللباس ١٣ (٤٠٥٦)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٨ (٥٣١٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٢ (١٧٢٢)، مسند احمد (٣/١٢٧، ١٨٠، ٢١٥، ٢٥٥، ٢٧٣) (صحیح )
3593Sunan Ibne-Majah

ریشم کی گوٹ لگانا جائز ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا، ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ، ثُمَّ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ الرَّابِعَةِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنْهُ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ خالص ریشمی کپڑے (حریر و دیباج) کے استعمال سے منع فرماتے تھے سوائے اس کے جو اس قدر ریشمی ہوتا، پھر انہوں نے اپنی ایک انگلی، پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی انگلی سے اشارہ کیا ١ ؎ پھر کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیں اس سے منع کرتے تھے۔

It was narrated from Umar that he used to forbid silk and brocade, except for what was like this: Then he gestured with his finger, then a second, and a third, and a fourth (i.e., the width of four fingers), and he said: "The Messenger of Allah ﷺ used to forbid it: (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چار انگل ریشم اگر کسی کپڑے میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٨٢٠) (صحیح )
3594Sunan Ibne-Majah

ریشم کی گوٹ لگانا جائز ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: رَأَيْتُ بْنَ عُمَرَ اشْتَرَى عِمَامَةً لَهَا عَلَمٌ، فَدَعَا بِالْجَلَمَيْنِ فَقَصَّهُ، فَدَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: بُؤْسًا لِعَبْدِ اللَّهِ، يَا جَارِيَةُ، هَاتِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْ بِجُبَّةٍ مَكْفُوفَةِ الْكُمَّيْنِ، وَالْجَيْبِ، وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ.

اسماء ؓ کے غلام ابوعمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک عمامہ خریدا جس میں گوٹے بنے تھے، پھر قینچی منگا کر انہیں کتر دیا ١ ؎، میں اسماء ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تعجب ہے عبداللہ پر، (ایک اپنی خادمہ کو پکار کر کہا:) اے لڑکی! رسول اللہ ﷺ کا جبہ لے آ، چناچہ وہ ایک ایسا جبہ لے کر آئی جس کی دونوں آستینوں، گریبان اور کلیوں کے دامن پر ریشمی گوٹے تھے۔

It was narrated that Abu ‘Umar, the freed slave of Asmâ’, said: “I saw Ibn ‘Umar buying a turban that had some markings, then he called for a pair of scissors and cut that off. I entered upon Asmâ’ and mentioned that to her, and she said: ‘May ‘Abdullâh perish, O girl Give me the garment of the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H.’ A garment was brought that was hemmed with brocade on the sleeves, necklines and openings (at the front and back).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: شاید ابن عمر ؓ اس رخصت کی خبر نہ ہوگی، اور شاید ان کے عمامہ کا حاشیہ چار انگل سے زیادہ ہوگا، اس لئے انہوں نے کاٹ ڈالا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٩)، سنن ابی داود/اللباس ١٢ (٤٠٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٨، ٣٥٣، ٣٥٤، ٣٥٥) (صحیح )
3595Sunan Ibne-Majah

عورتوں کے لئے ریشم اور سونا پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ أَبِي الْأَفْلَحِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِيرًا بِشِمَالِهِ، وَذَهَبًا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔

Ali bin Abu Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ took hold of some silk in his left hand and some gold in his right. Then he raised his hands and said: These two are forbidden for the males of my nation, and permitted to the females " (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٤ (٤٠٥٧)، سنن النسائی/الزینة ٤٠ (٥١٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٦، ١١٥) (صحیح )
3596Sunan Ibne-Majah

عورتوں کے لئے ریشم اور سونا پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، حَدَّثَنِيهُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ مَكْفُوفَةٌ بِحَرِيرٍ، إِمَّا سَدَاهَا، وَإِمَّا لَحْمَتُهَا فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِهَا أَلْبَسُهَا، قَالَ: لَا وَلَكِنْ اجْعَلْهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی (جوڑا) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اسے پہنوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنادو ١ ؎۔

It was narrated from Ali that a two-piece suit hemmed with silk. either on the warp or the weft.! I was given to the Messenger of Allah ﷺ . and he sent them to me (Ali). I came to him and said: O Messenger of Allah. what should I do with these? Shall I wear them?" He said: "No, rather make them into head-eloths and give them to the Fatimahs.· (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک فاطمہ بنت اسد علی ؓ کی ماں، دوسری فاطمہ بنت حمزہ ؓ، تیسری سیدۃ النسا، فاطمہ ؓ صاحبزادی رسول اللہ ﷺ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٣٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٣٠ (٥٨٤٠)، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٧١)، سنن ابی داود/اللباس ١٠ (٤٠٤٣)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٠ (٥٣٠٠)، مسند احمد (١/٩٠، ١٣٠، ١٥٣) (صحیح )
3597Sunan Ibne-Majah

عورتوں کے لئے ریشم اور سونا پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِحْدَى يَدَيْهِ ثَوْبٌ مِنْ حَرِيرٍ، وَفِي الْأُخْرَى ذَهَبٌ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ مُحَرَّمٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس گھر سے نکل کر آئے، آپ کے ایک ہاتھ میں ریشم کا کپڑا، اور دوسرے میں سونا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us, and in one of his hands was a garment of silk and in the other was some gold. He said: These are forbidden to the males of my nation and permitted to the females." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٤) (صحیح) (سند میں افریقی اور ابن رافع ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث (نمبر ٣٥٩٥ ) سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3598Sunan Ibne-Majah

عورتوں کے لئے ریشم اور سونا پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی صاحب زادی زینب ؓ کو سرخ دھاری دار ریشمی کرتا پہنے دیکھا۔

It was narrated that Anas said: "I saw Zainab the daughter of the Messenger of Allah ﷺ wearing a shirt of Siyard silk.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٠ (٥٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٠) (شاذ) (حدیث میں زینب کا ذکر شاذ ہے، محفوظ حدیث میں ام کلثوم کا ذکر ہے )
3599Sunan Ibne-Majah

مردوں کا سرخ لباس پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَاضِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَجْمَلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَرَجِّلًا فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت بال جھاڑے اور سنوارے ہوئے سرخ جوڑے میں ملبوس کسی کو نہیں دیکھا۔

It was narrated that Bara said: "I never saw anyone more handsome than the Messenger of Allah ﷺ with his hair combed, wearing a red two-piece suit." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٦٨، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥١)، اللباس ٣٥ (٥٨٤٨)، ٦٨ (٥٩٠١)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٥ (٢٣٣٧)، سنن ابی داود/اللباس ٢١ (٤٠٧٢)، الترجل ٩ (٤١٨٥)، سنن الترمذی/اللباس ٤ (١٧٢٤)، الأدب ٤٧ (٢٨١١)، المناقب ٨ (٣٦٣٥)، الشمائل ١ (٦٢)، ٣ (٦٤)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٥ (٥٢٣٤)، مسند احمد (٤/٢٨١، ٢٩٥) (صحیح )
3600Sunan Ibne-Majah

مردوں کا سرخ لباس پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ بَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَاضِي مَرْوَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَأَقْبَلَ حَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمَا السَّلَام، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهُمَا فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15، رَأَيْتُ هَذَيْنِ، فَلَمْ أَصْبِرْ، ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین ؓ دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آگئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم ﷺ (منبر سے) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: إنما أموالکم وأولادکم فتنة بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کرسکا، پھر آپ ﷺ نے خطبہ شروع کردیا ١ ؎۔

Abdullah bin Buraidah narrated that his father told him: I saw the Messenger of Allah ﷺ delivering a sermon, and Hasan and Husain came forward, wearing red shirts, stumbling and getting up again. The Prophet ﷺ stepped down, picked them up and put them in his lap. Then he said: "Allah and His Messenger have spoken the truth. Your wealth and your children are only a trial. I saw these two and I could not be patient. Then he resumed his sermon." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ خطبہ کے درمیان بات کرنا اور بچوں کا اٹھا لینا اور کسی کام کے لئے منبر پر سے اترنا اور تھوڑی دیر کے لئے خطبہ روک دینا جائز ہے، دوسرے حسن و حسین ؓ کی فضیلت و منقبت، تیسرے یہ کہ نبی اکرم ﷺ کی ان دونوں سے غایت درجہ محبت اور قلبی لگاؤ، چوتھے چیز لال رنگ کا جواز کیونکہ یہ دونوں صاحبزادے لال رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھے، اگر یہ ناجائز ہوتا تو آپ ﷺ اس سے منع فرماتے یا اسے اتارنے کا حکم دیتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٣ (١١٠٩)، سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٤)، سنن النسائی/الجمعة ٣٠ (١٤١٤)، العیدین ٢٧ (١٥٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٤) (صحیح )
3601Sunan Ibne-Majah

کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مردوں کے لئے صحیح نہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ الْمُفَدَّمِ، قَالَ يَزِيدُ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا الْمُفَدَّمُ؟ قَالَ: الْمُشْبَعُ بِالْعُصْفُرِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مفدم سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: مفدم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا کسم میں رنگنے سے خوب پیلا ہوجائے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade AI-Mufaddam." (Hasan) (One of the narrators) Yazid said: "I said to Hasan: What is AI-Mufaddam? He said: (Clothes) that are dyed with safflower (i.e., a red dyestuff prepared from its flower heads)."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہلکا سرخ رنگ کسم کا بھی جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٩١، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٩) (صحیح )
3602Sunan Ibne-Majah

کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مردوں کے لئے صحیح نہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ، عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔

It was narrated that Abdullah bin Hunain said: "I heard Ali say: The Messenger of Allah ﷺ forbade me - and I do not say that he forbade you -from wearing clothes dyed with safflower." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤١ (٤٧٩)، اللباس ٤ (٢٠٧٨)، سنن ابی داود/اللباس ١١ (٤٠٤٤، ٤٠٤٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٠ (٢٦٤)، اللباس ٥ (١٧٢٥)، ١٣ (١٧٣٧)، سنن النسائی/التطبیق ٧ (١٠٤٤، ١٠٤٥)، ٦١ (١١١٩)، الزینة من المجتبیٰ ٢٣ (٥١٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٧٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٦ (٢٨)، مسند احمد (١/٨٠، ٨١، ٩٢، ١٠٤، ١٠٥، ١١٤، ١١٩، ١٢١، ١٢٣، ١٢٦، ١٢٧، ١٣٢، ١٣٣، ١٣٤، ١٣٧، ١٣٨، ١٤٦) (صحیح )
3603Sunan Ibne-Majah

کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مردوں کے لئے صحیح نہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟، فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَقَذَفْتُهَا فِيهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ، فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ لِلنِّسَاءِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم اذاخر ١ ؎ کے موڑ سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے، آپ میری طرف متوجہ ہوئے، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا، چناچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے، میں نے اسے اس میں ڈال دیا، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: عبداللہ! چادر کیا ہوئی ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دی؟ اس لیے کہ اسے پہننے میں عورتوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "We came with the Messenger of Allah ﷺ from Thaniyyat Adhakhir. He turned to me, and I was wearing a thin cloak dyed with safflower, and said: What is this? And I realized that he disliked it. I came to my family when they were heating their oven and threw it (in the oven). Then I came to him the following day and he said: 0 Abdullah, what happened to the thin cloak? I told him (what I had done) and he said: Why did you not give it to some of your family to wear, for there is nothing wrong with it for women. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اذاخر: مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٢٠ (٤٠٦٦)، (تحفة الأشراف: ٨٨١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٦) (حسن )
3604Sunan Ibne-Majah

مردوں کے لئے زرد لباس۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْنَا لَهُ مَاءً يَتَبَرَّدُ بِهِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَاءَ، فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ.

قیس بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، تو ہم نے آپ کے لیے پانی رکھا تاکہ آپ اس سے ٹھنڈے ہوں، آپ نے اس سے غسل فرمایا، پھر میں آپ کے پاس ایک پیلی چادر لے کر آیا، (اس کو آپ نے پہنا) تو میں نے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس کا نشان دیکھا ١ ؎۔

It was narrated that Qais bin Sad said: "The Prophet ﷺ came to us and we gave him some water with which to cool down. He bathed, then I brought him a yellow blanket, and I saw the traces of Wars (the yellow dye) on the folds of his stomach." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک پیلا، خوشبودار پودا ہے جو یمن میں پایا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٤٦٦)، (تحفة الأشراف: ١١٠٩٥) (ضعیف) (سند میں محمد بن شر حبیل مجہول، اور محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں )
3605Sunan Ibne-Majah

جو چاہو پہنو بشرطیکہ اسراف یا تکبر نہ ہو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَالْبَسُوا، مَا لَمْ يُخَالِطْهُ إِسْرَافٌ، أَوْ مَخِيلَةٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ پیو، صدقہ و خیرات کرو، اور پہنو ہر وہ لباس جس میں اسراف و تکبر (فضول خرچی اور گھمنڈ) کی ملاوٹ نہ ہو ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Eat and drink, give charity and wear clothesl as long as that does not Inv?lve any extravagance or vatuty." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ضرورت سے زیادہ مال خرچ کرنے کو اسراف کہتے ہیں، جو حرا م ہے، قرآن میں ہے: ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين (سورة الأعراف: 31) اسراف نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا دوسری جگہ ہے: إن المبذرين کانوا إخوان الشياطين وکان الشيطان لربه کفورا (سورة الإسراء: 27) بےجا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے اور خلاف شرع کام میں ایک پیسہ بھی صرف کرنا اسراف میں داخل ہے جیسے پتنگ بازی، کبوتر بازی اور آتش بازی وغیرہ وغیرہ
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ١ (تعلیقا) سنن النسائی/الزکاة ٦٦ (٢٥٦٠)، مسند احمد (٢/١٨١، ١٨٢) (حسن )
3606Sunan Ibne-Majah

شہرت کی خاطر کپڑے پہننا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ مُهَاجِرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ، أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever wears a garment of pride and vanity, Allah will clothe him, on the Day of Resurrection, in a garment of humiliation." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٥ (٤٠٢٩، ٤٠٣٠)، (تحفة الأشراف: ٧٤٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٢، ١٣٩) (حسن )
3607Sunan Ibne-Majah

شہرت کی خاطر کپڑے پہننا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا، أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ أَلْهَبَ فِيهِ نَارًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکائے گا۔

It was narrated that Abdullah bin "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever wears a garment of pride and vanity in this world, Allah will clothe him in a garment of humiliation on the Day of Resurrection, then set it ablaze." (Hasan)

Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (حسن )
3608Sunan Ibne-Majah

شہرت کی خاطر کپڑے پہننا۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ مُحْرِزٍ النَّاجِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَهْمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ، أَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى يَضَعَهُ مَتَى وَضَعَهُ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کی خاطر لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے گا یہاں تک کہ اسے اس جگہ رکھے گا جہاں اسے رکھنا ہے (یعنی جہنم میں) ۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever wears a garment of pride and vanity, Allah will turn away from him until he takes it off" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١١٩١٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٨) (ضعیف) (سند میں وکیع بن محرز کے پاس عجیب و غریب احادیث ہیں، اور عباس بن یزید مختلف فیہ راوی ہیں، لیکن سابقہ احادیث میں جیسا گزرا متن حدیث ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٦٥٠ )
3609Sunan Ibne-Majah

مردار کا چمڑا دباغت کے بعد پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ، فَقَدْ طَهُرَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ہر وہ کھال جسے دباغت دے دی گئی ہو پاک ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Any skin that has been tanned has been purified.": (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جو حلال جانور ہیں ان کی کھال دباغت سے پاک ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٦)، سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٣)، سنن الترمذی/اللباس ٧ (١٧٢٨)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٣ (٤٢٤٦)، (تحفة الأشراف: ٥٨٢٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید ٦ (١٧)، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٣٧، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٣٤٣، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٣١) (صحیح )