Sunan Ibne-Majah 3605

لباس کا بیان

3605Sunan Ibne-Majah

جو چاہو پہنو بشرطیکہ اسراف یا تکبر نہ ہو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَالْبَسُوا، مَا لَمْ يُخَالِطْهُ إِسْرَافٌ، أَوْ مَخِيلَةٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ پیو، صدقہ و خیرات کرو، اور پہنو ہر وہ لباس جس میں اسراف و تکبر (فضول خرچی اور گھمنڈ) کی ملاوٹ نہ ہو ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Eat and drink, give charity and wear clothesl as long as that does not Inv?lve any extravagance or vatuty." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ضرورت سے زیادہ مال خرچ کرنے کو اسراف کہتے ہیں، جو حرا م ہے، قرآن میں ہے: ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين (سورة الأعراف: 31) اسراف نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا دوسری جگہ ہے: إن المبذرين کانوا إخوان الشياطين وکان الشيطان لربه کفورا (سورة الإسراء: 27) بےجا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے اور خلاف شرع کام میں ایک پیسہ بھی صرف کرنا اسراف میں داخل ہے جیسے پتنگ بازی، کبوتر بازی اور آتش بازی وغیرہ وغیرہ
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ١ (تعلیقا) سنن النسائی/الزکاة ٦٦ (٢٥٦٠)، مسند احمد (٢/١٨١، ١٨٢) (حسن )