مقدام ابوکریمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کسی کے یہاں رات کو کوئی مہمان آئے تو اس رات اس مہمان کی ضیافت کرنی واجب ہے، اور اگر وہ صبح تک میزبان کے مکان پر رہے تو یہ مہمان نوازی میزبان کے اوپر مہمان کا ایک قرض ہے، اب مہمان کی مرضی ہے چاہے اپنا قرض وصول کرے، چاہے چھوڑ دے ۔
It was narrated that Miqdam Abu Karimah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Putting up a guest for one night is obligatory. If you find a guest at your door in the morning, then this (hospitality) is (like) a debt that you (the host) owe him. If he (the guest) wants, he may request it, and if he wants, he may leave it."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں ایک یتیم اور ایک عورت کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "O Allah, bear witness that I have issued a warning concerning (failure to fulfill) the rights of the two weak ones: Orphans and women."
Notes · وضاحت
١ ؎: بیوہ اور یتیم دونوں کا مال کھا جانا اور اس میں الٹ پھیر کرنا سخت گناہ ہے، اگرچہ اور کسی کا مال کھا جانا حرام اور گناہ ہے، مگر ان دونوں کا مال ناجائز طور پر کھانا نہایت سخت گناہ ہے، اس لئے کہ یہ دونوں ناتواں اور کمزور ہیں، روزی کمانے کی ان میں قدرت نہیں ہے، تو ان کو اور دینا چاہیے نہ کہ انہی کا مال لے لینا، بہت بدبخت ہیں وہ لوگ جو یتیم اور بیوہ کا مال ناحق کھا لیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣٩) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم (پرورش پاتا) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٠٩، ومصباح الزجاجة: ٢٨٢) (ضعیف) (سند میں یحییٰ بن سلیمان لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا، دن میں روزے رکھتا رہا، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں، اور آپ ﷺ نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا (اور دکھایا) ۔
It was narrated from Abdullah bin Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever raises three orphans, is like one who spends his nights in prayer and fasts during the day, and goes out morning and evening drawing his sword in the cause of Allah. In Paradise, he and I will be brothers like these two sisters, and he held up his forefinger and middle finger together"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٨٠، ومصباح الزجاجة: ١٢٨٣) (ضعیف) (سند میں اسماعیل بن ابراہیم مجہول اور حماد کلبی ضعیف راوی ہے )
ابوبرزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami said: "I said: O Messenger of Allah ﷺ Tell me of an action by which I may benefit. He said: Remove harmful things from the path of the Muslims’”
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے کانٹا اور کوڑا کرکٹ وغیرہ، اگر راستہ میں گڑھا ہو تو اس کو برابر کر دے یا اس پر روک لگا دے تاکہ کوئی آدمی اندھیرے میں اس میں گر نہ جائے، مفید عام کاموں کے ثواب میں یہ حدیث اصل ہے جیسے سڑک کا بنانا، سڑک پر روشنی کرنا، سرائے بنانا، کنواں بنانا، یہ سب اعمال اس قسم کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٩٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ٣٦ (٢٦١٨)، مسند احمد (٤/٤٢٠، ٤٢٢، ٤٢٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: راستے میں ایک درخت کی شاخ (ٹہنی) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا (تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کردیا گیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "There was a branch of a tree on the road that annoyed the people. A man removed it, so he was admitted to Paradise."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٤٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٢ (٦٥٢)، المظالم ٢٨ (٢٤٧٢)، صحیح مسلم/البر الصلة ٣٦ (١٩١٤)، الإمارة ٥١ (١٩١٤)، سنن ابی داود/الأدب ١٧٢ (٥٢٤٥)، سنن الترمذی/البر والصلة ٣٨ (١٩٥٨)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٤٩٥) (صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا ۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ said: "My nation was shown to me with their good deeds and bad deeds. Among their good deeds I saw a harmful thing being removed from the road. And among their bad deeds I saw sputum in the Masjid that had not been removed."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٥٣)، مسند احمد (٥/١٧٨) (صحیح )
سعد بن عبادہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پلانا ١ ؎۔
It was narrated that Sad bin Ubadahh said: "I said: O Messenger of Allah, what charity is best? He said: Giving water to drink."
Notes · وضاحت
١ ؎: جہاں پر لوگوں کو پانی کی حاجت ہو، وہاں سبیل لگانا، یا کنواں یا حوض بنادینا، اسی طرح جہاں جس چیز کی ضرورت ہو، وہاں اسی کا صدقہ افضل ہوگا، حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو راحت پہنچانے سے زیادہ ثواب کسی چیز میں نہیں، یہاں تک کہ جانوروں کو راحت پہنچانے میں بڑا اجر ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی صف بندی ہوگی (ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ اہل جنت کی صف بندی ہوگی) پھر ایک جہنمی ایک جنتی کے پاس گزرے گا اور اس سے کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے پانی مانگا تھا اور میں نے تم کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا؟ (وہ کہے گا: ہاں، یاد ہے) وہ جنتی اس بات پر اس کی سفارش کرے گا، پھر دوسرا جہنمی ادھر سے گزرے گا، اور اہل جنت میں سے ایک شخص سے کہے گا: تمہیں یاد نہیں کہ میں نے ایک دن تمہیں طہارت و وضو کے لیے پانی دیا تھا؟ تو وہ بھی اس کی سفارش کرے گا۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ وہ شخص کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ تم نے مجھے فلاں اور فلاں کام کے لیے بھیجا تھا، اور میں نے اسے پورا کیا تھا؟ تو وہ اس بات پر اس کی سفارش کرے گا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "On the Day of Resurrection, people will be lined up in rows, (one of the narrators) Ibn Numair said: i.e., the people of Paradise, and a man from among the people of Hell will pass by a man (from the people of Paradise) and say: "O so-and-so! Do you not remember the day when you asked for water and I gave you water to drink?" So he will intercede for him. And another man will come and say: Do you not remember the day when I gave you water with which to purify yourself?" and he will intercede for him." (In his narration, one of the narrators) Ibn Numair said: "And he will say: O so-and-so, do you not remember the day when you sent me to do such and such for you, and I went and did it for you? and he will intercede for him."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٨٦) (ضعیف) (سند میں یزید بن أبان الرقاشی، ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩٣ -٥١٨٦ )
سراقہ بن جعشم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے گمشدہ اونٹوں کے متعلق پوچھا کہ وہ میرے حوض پر آتے ہیں جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے تیار کیا ہے، اگر میں ان اونٹوں کو پانی پینے دوں تو کیا اس کا بھی اجر مجھے ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! ہر کلیجہ والے جانور کے جس کو پیاس لگتی ہے، پانی پلانے میں ثواب ہے ۔
It was narrated that Suraqah bin Jushum said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about a lost camel that comes to my cisterns that I have prepared for my own camels - will I be rewarded if I give it some water to drink? He said: Yes , in every living being there is reward."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٠، ومصباح الزجاجة: ١٢٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٥) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢١٥٢ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اور مہربانی اور نرمی کرنے کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ ثواب دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Allah is Gentle and loves gentleness, and He grants reward for it that He does not grant for harshness."
Notes · وضاحت
١ ؎: نرمی یہ ہے کہ اپنے نوکروں، خادموں، بال بچوں اور دوستوں سے آہستگی اور لطف و مہربانی کے ساتھ گفتگو کرے، ان پر غصہ نہ ہو جیسے نبی اکرم ﷺ کا حال تھا کہ انس ؓ نے آپ کی دس برس خدمت کی لیکن آپ ﷺ نے کبھی نہ ان کو سخت لفظ کہا، نہ گھورا، نہ جھڑکا۔
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (حقیقت میں لونڈی اور غلام) تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، اس لیے جو تم کھاتے ہو وہ انہیں بھی کھلاؤ، اور جو تم پہنتے ہو وہ انہیں بھی پہناؤ، اور انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان کی قوت و طاقت سے باہر ہو، اور اگر کبھی ایسا کام ان پر ڈالو تو تم بھی اس میں شریک رہ کر ان کی مدد کرو ۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: (Slaves are) your brothers whom Allah has put under your control, so feed them With the same food that you eat, clothe them with the same clothes that you wear, and do not burden them with so much that they are overwhelmed; if you do burden them, then help them."
ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدخلق شخص جو اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ بدخلقی سے پیش آتا ہو، جنت میں داخل نہ ہوگا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت کے اکثر افراد غلام اور یتیم ہوں گے؟ ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں؟ لیکن تم ان کی ایسی ہی عزت و تکریم کرو جیسی اپنی اولاد کی کرتے ہو، اور ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو ، پھر لوگوں نے عرض کیا: ہمارے لیے دنیا میں کون سی چیز نفع بخش ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: گھوڑا جسے تم جہاد کے لیے باندھ کر رکھتے ہو، پھر اس پر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہو (اس کی جگہ) تمہارا غلام تمہارے لیے کافی ہے، اور جب نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔
It was narrated from Abu Bakr Siddiq (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "No person who mistreats his slaves will enter Paradise." They said: "O Messenger of Allah, did you not tell us that this nation will have more slaves and orphans than any other nation?" He said: "Yes, so be as kind to them as you are to your own children, and feed them with the same food that you eat." They said: "What will benefit us in this world?" He said: A horse that is kept ready for fighting in the cause of Allah, and your slave to take care of you, and if he performs prayer, then he is your brother (in Islam)."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦١٨)، ومصباح الزجاجة: ١٢٨٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة ٢٩ (١٩٤٦ مختصراً )، مسند احمد (١/١٢) (ضعیف) (سند میں فرقد السبخي ضعیف ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم مومن نہ بن جاؤ، اور اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے ہو جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہوجائے (وہ یہ کہ) آپس میں سلام کو عام کرو اور پھیلاؤ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "By the One in Whose Hand is my soul, you will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another. Shall I not tell you of something which, if you do it, you will love one another? Spread (the greeting of) peace among yourselves.
Takhrij · تخریج
حدیث أبي معاویة تقد م تخریجہ في السنة برقم: (٦٨)، حدیث عبداللہ بن نمیر تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٤٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٢/٣٩١، ٤٩٥) (صحیح )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سلام کو عام کریں اور پھیلائیں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Umamah said: "Our Prophet ﷺ commanded us to spread (the greeting of) peace." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپس میں جب ایک دوسرے سے ملو تو السلام علیکم کہو خواہ اس سے تعارف ہو یا نہ ہو، تعارف کا سب سے پہلا ذریعہ سلام ہے، اور محبت کی کنجی ہے، اور ہر مسلمان کو ضروری ہے کہ جب دوسرے مسلمان سے ملے تو اس کے سلام کا منتظر نہ رہے بلکہ خود پہلے سلام کرے خواہ وہ ادنی ہو یا اعلی یا ہمسر، کمال ایمان کا یہی تعارف ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، اور سلام کو عام کرو ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: Worship the Most Merciful and spread (the greeting of) peace. "
Notes · وضاحت
١ ؎: عمار ؓ نے کہا کہ جس نے تین باتیں کیں اس نے ایمان اکٹھا کرلیا: ایک تو اپنے نفس سے انصاف، دوسرے ہر شخص کو سلام کرنا، تیسرے تنگی کے وقت خرچ کرنا۔ (صحیح بخاری تعلیقاً )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٤٥ (١٨٥٥)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٠، ١٩٦)، سنن الدارمی/الأطعمة ٣٩ (٢١٢٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آ کر سلام کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وعلیک السلام (اور تم پر بھی سلامتی ہو) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man entered the Masjid, and the Messenger of Allah ﷺ was sitting in a comer of the Masjid. He prayed, then he came and greeted him with Salam (peace), and he said: "Wa alaikassalam (and to you be peace)."
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: جبرائیل (علیہ السلام) تمہیں سلام کہتے ہیں (یہ سن کر) انہوں نے جواب میں کہا: وعليه السلام ورحمة الله (اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو) ۔
It was narrated from Abu Salamah that ‘ Aisha (RA) told him that the Messenger of Allah ﷺ said to her: Jibra’il sends (greetings of) Salam to you." She said: "Wa ‘alaihis-salam wa rahmatullah (and upon him be peace and the mercy of Allah.) "
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں غائبانہ سلام کے جواب دینے کے طریقے کا بیان ہے کہ جواب میں وعلیکم کے بجائے علیہ السلام ضمیر غائب کے ساتھ کہا جائے، یہاں اس حدیث سے ام المؤمنین عائشہ بنت ابی بکر صدیق ؓ کی عظمت شان بھی معلوم ہوئی کہ سیدالملائ کہ جبریل (علیہ السلام) نے ان کو سلام پیش کیا۔