Sunan Ibne-Majah 3693

آداب کا بیان۔

3693Sunan Ibne-Majah

سلام کو رواج دینا (پھیلانا)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ نُفْشِيَ السَّلَامَ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سلام کو عام کریں اور پھیلائیں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Umamah said: "Our Prophet ﷺ commanded us to spread (the greeting of) peace." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپس میں جب ایک دوسرے سے ملو تو السلام علیکم کہو خواہ اس سے تعارف ہو یا نہ ہو، تعارف کا سب سے پہلا ذریعہ سلام ہے، اور محبت کی کنجی ہے، اور ہر مسلمان کو ضروری ہے کہ جب دوسرے مسلمان سے ملے تو اس کے سلام کا منتظر نہ رہے بلکہ خود پہلے سلام کرے خواہ وہ ادنی ہو یا اعلی یا ہمسر، کمال ایمان کا یہی تعارف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٢٨، ومصباح الزجاجة: ١٢٩٠) (صحیح )