سلام کو رواج دینا (پھیلانا)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، اور سلام کو عام کرو ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: Worship the Most Merciful and spread (the greeting of) peace. "
Notes · وضاحت
١ ؎: عمار ؓ نے کہا کہ جس نے تین باتیں کیں اس نے ایمان اکٹھا کرلیا: ایک تو اپنے نفس سے انصاف، دوسرے ہر شخص کو سلام کرنا، تیسرے تنگی کے وقت خرچ کرنا۔ (صحیح بخاری تعلیقاً )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٤٥ (١٨٥٥)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٠، ١٩٦)، سنن الدارمی/الأطعمة ٣٩ (٢١٢٦) (صحیح )