Sunan Ibne-Majah 3682

آداب کا بیان۔

3682Sunan Ibne-Majah

رستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ عَلَى الطَّرِيقِ غُصْنُ شَجَرَةٍ يُؤْذِي النَّاسَ، فَأَمَاطَهَا رَجُلٌ، فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: راستے میں ایک درخت کی شاخ (ٹہنی) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا (تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کردیا گیا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "There was a branch of a tree on the road that annoyed the people. A man removed it, so he was admitted to Paradise."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٤٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٢ (٦٥٢)، المظالم ٢٨ (٢٤٧٢)، صحیح مسلم/البر الصلة ٣٦ (١٩١٤)، الإمارة ٥١ (١٩١٤)، سنن ابی داود/الأدب ١٧٢ (٥٢٤٥)، سنن الترمذی/البر والصلة ٣٨ (١٩٥٨)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٤٩٥) (صحیح )