قرض کی وجہ سے قید کرنا اور قرض دار کا پیچھا نہ چھوڑنا اس کے ساتھ رہنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا فَنَادَى كَعْبًا فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: دَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَاوَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّطْرِ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: قُمْ فَاقْضِهِ.
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہوگئیں، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے، اور کعب ؓ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو ، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا، تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپ ﷺ نے ابن ابی حدرد ؓ سے فرمایا: اٹھو، جاؤ ان کا قرض ادا کرو ۔
It was narrated from Abdullah bin Kab bin Malik from his father that he demanded payment owed by Ibn Abi Hadrad in the Masjid. Their voices became so loud that the Messenger of Allah ﷺ heard them when he was in his house. He came out and called Kab who said: "Here I am, Messenger of Allah ﷺ " He said: "Waive this much of your loan," and gestured with his hand to indicate half. He said: "I will do that," and he said: "Get up and repay it.”