Sunan Ibne-Majah 2393

صدقات کا بیان

2393Sunan Ibne-Majah

کوئی چیز صدقہ میں دی پھر دیکھا کہ وہ فروخت ہو رہی ہے تو کیا صدقہ کرنے والا وہ چیز خرید سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ: غَمْرٌ أَوْ غَمْرَةٌ فَرَأَى مُهْرًا أَوْ مُهْرَةً مِنْ أَفْلَائِهَا يُبَاعُ يُنْسَبُ إِلَى فَرَسِهِ فَنَهَى عَنْهَا.

زبیر بن عوام ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑی صدقہ میں دی جس کو غمر یا غمرۃ کہا جاتا تھا، پھر اسی کے بچوں میں ایک بچھیرا یا بچھیری کو بکتا دیکھا، جو ان کی گھوڑی کی نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو اس کو خریدنے سے روک دیا۔

It was narrated from Zubair bin Awwam that he gave a horse called Ghamr or Ghamrah to someone, then he saw one of its colts or fillies attributed to his horse being sold, but he refrained from (buying) it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٣٢، ومصباح الزجاجة: ٨٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عامر غیر معروف راوی ہیں، ان کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ وہ عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ غزی ثقہ راوی ہیں، یا کوئی اور، اس لئے اس احتمال کی وجہ سے حدیث ثابت نہیں )