عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: کان بیکار ہے اور کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور عجماء چوپائے وغیرہ حیوانات کو کہتے ہیں، اور جبار ایسے نقصان کو کہتے ہیں جس میں جرمانہ اور تاوان نہیں ہوتا، کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور بےزبان (جانور) کا زخم بیکار و رائیگاں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ubadahh bin Samit said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that there is no liability for injuries caused by falling into a mine or a well, nor those caused by a beast."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس میں تاوان اور جرمانہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٥٠٦٣، ومصباح الزجاجة: ٩٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٢٦، ٣٢٧) (صحیح) (سند میں اسحاق بن یحییٰ اور عبادہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگ بیکار ہے، اور کنواں بیکار ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "(The injuries caused by) a fire are without liability and by falling into well.”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی نقصان کی صورت میں ان کا مالک ذمہ دار نہ ہوگا۔
سہل بن ابی حثمہ ؓ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ ؓ دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی (روزگار کی تلاش میں) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ ؓ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن سہل ؓ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان (عبداللہ بن سہل) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ ؓ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ، اور عبدالرحمٰن بن سہل ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور محیصہ ؓ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے بڑھے تو آپ ﷺ نے محیصہ ؓ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو آپ ﷺ کی مراد عمر میں بڑے سے تھی چناچہ حویصہ ؓ نے گفتگو کی، اور اس کے بعد محیصہ ؓ نے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: یا تو یہود تمہارے آدمی کی دیت ادا کریں ورنہ اس کو اعلان جنگ سمجھیں اور یہود کو یہ بات لکھ کر بھیج دی، انہوں نے بھی جواب لکھ بھیجا کہ اللہ کی قسم، ہم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے، تو آپ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن ؓ سے کہا: تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہوسکتے ہو ، انہوں نے انکار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر یہود قسم کھا کر بری ہوجائیں گے وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، (کیا ان کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا) آخر کار رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے عبداللہ بن سہل ؓ کی دیت ادا کی، اور ان کے لیے سو اونٹنیاں بھیجیں جنہیں ان کے گھر میں داخل کردیا گیا۔ سہل ؓ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لال اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
It was narrated from Sahl bin Abu Hathmah from the elders of his people that Abdullah bin Sahl and Muhayyisah set out for Khaibar because of some problem that had arisen. Someone came to Muhayyisah, and he told him that AbdUllah bin Sahl had been killed and thrown into a pit or well in Khaibar. He came to the Jews and said: "By Allah, you killed him." They said: "By Allah, we did not kill him." Then he went back to his people and told them about that. Then he and his brother Huwayyisah, who was older than him, and Abdur- Rahman bin Sahl, came (to the Prophet). Muhayyisah, who was the one who had been at Khaibar, went and he began to speak, but the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the elder speak first." So Huwayyisah spoke, then Muhayyisah spoke. The Messenger of Allah ﷺ said: "Either (the Jews) will pay the blood money for your companion, or war will be declared on them." The Messenger of Allah ﷺ sent a letter to that effect (to the Jews) and they wrote back saying: "By Allah, we did not kill him." The Messenger of Allah ﷺ said to Huwayyisah, Muhayyisah and "Abdur-Rahman: "Will you swear an oath establishing your claim to the blood money of your companion?" They said: "No." He said: "Should the Jews swear an oath for you?" They said: "They are not Muslims." So the Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself, and he sent one hundred she-camels to them and some of them entered the house. Sahl said: "A red she-camel from among them kicked me."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب قاتل کا پتہ نہ لگے تو مقتول کی دیت بیت المال سے دی جائے گی، اور مسلم نے ایک صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قسامت کی دیت کو باقی رکھا اسی طریقہ پر جیسے جاہلیت کے زمانہ میں رائج تھی، اور جاہلیت میں یہی طریقہ تھا کہ مقتول کے اولیاء مدعی علیہم میں سے لوگوں کو چنتے، پھر ان کو اختیار دیتے، چاہیں وہ قسم کھا لیں چاہیں دیت ادا کریں، جیسے اس قسامت میں ہوا جو بنی ہاشم میں ہوئی، علماء نے قسامت کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جب قاتل ایک معین جماعت میں سے ہو تو اس میں سے مقتول کا ولی قاتل کی جماعت سے لوگوں کو چن کر پچاس قسمیں کھلوائے، اگر وہ حلف اٹھا لیں تو بری ہوں گئے ورنہ ان کو دیت دینی ہوگی۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیہ ٣ /٣٨٨)۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ ؓ اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن ؓ خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کردیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: قسم کھاؤ اور (دیت کے) مستحق ہوجاؤ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو یہود (قسم کھا کر) تم سے بری ہوجائیں گے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کردی۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that Huwayyisah and Muhayyisah, the sons of Masud, and Abdullah and Abdur-Rahman the sons of Sahl went out to search for food Khaibar. Abdullah was attacked and killed, and mention of that was made to the Messenger of Allah. He said: "Will you swear an oath and establish your right to blood money?" They said: "O Messenger of Allah, how can we swear an oath when we did not witness anything?" He said: "Do you want the Jews to swear that they are innocent?" They said: "O Messenger of Allah, then they will kill us too." So the Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٨٦٧٨، ومصباح الزجاجة: ٩٤٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة ٢ (٤٧١٨) (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)۔ لیکن شاہد کی بنا پر صحیح ہے
سلمہ بن روح بن زنباع ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کردیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے غلام کو مثلہ (ناک کان یا کوئی عضو کاٹ دینا) کئے جانے کی بناء پر آزاد کردیا۔
It was narrated from Salamah bin Rawh bin Zinba, that his grandfather came to the Prophet ﷺ and he had castrated a slave of his. The Prophet ﷺ manumitted the slave in compensation for having been mutilated.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٣٦٥٠، ومصباح الزجاجة: ٩٤٧) (حسن) (سند میں اسحاق بن عبد اللہ ضعیف ہے، اور سلمہ بن روح مجہول، لیکن عبداللہ بن عمرو ؓ کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر اور دوسرے شواہد سے حسن ہے )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے ؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے ١ ؎۔
Amr bin Shuaib narrated from his father that his grandfather said: "A man came to the Prophet ﷺ screaming. The Messenger of Allah ﷺ said to him: What is the matter with you? He said: ‘My master saw me kissing a slave woman of his, so he cut off my penis. The Prophet ﷺ said: Take me to the man. He was sought but could not be found, so the Messenger of Allah ﷺ said: Go, for you are free. He said: Who will protect me, O Messenger of Allah? ﷺ What if my master enslaves me again? The Messenger of Allah ﷺ said: Your protection will be (incumbent upon) every believer or Muslim.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی اپنے غلام یا لونڈی کو سخت ایذا دے مثلاً اس کا کوئی عضو کاٹے یا اس کا بدن جلائے تو حاکم اس کو آزاد کرسکتا ہے، اور اس کے مالک کو جو سزا مناسب سمجھے وہ دے سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٧ (٤٥١٩)، (تحفة الأ شراف: ٨٧١٦)، و قد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٢، ٢٢٥) (حسن )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہیں ١ ؎۔
Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said: "The most decent of the people in killing are the people of faith."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ وہ ناحق اور بےجا قتل نہیں کرتے، اور وہ انسان ہی نہیں بلکہ جانور کو بھی بری طرح تکلیف دے کر نہیں مارتے، اور وہ تیز چھری سے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٤١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ١٢٠ (٢٦٦٦)، مسند احمد (١/٣٩٣) (ضعیف) (ہشیم بن بشیر اور شباک دونوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز سند میں اضطراب ہے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٣٢ )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے پاکیزہ لوگ ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The most decent of the people in killing are the people of faith."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ بےجا قتل نہیں کرتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٢٠ (٢٦٦٦)، (تحفة الأ شراف: ٩٤٧٦) (ضعیف) (ہنی بن نویرہ مقبول عند المتابعہ ہیں، اور سند میں اضطراب ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٣٢ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے خون برابر ہیں، اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان میں سے ادنی شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہوگی، اور (لشکر میں) سب سے دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "The blood of the Muslims is equal, they are one hand against others. The asylum offered by the lowest of them in status applies to them (all), and the return is granted to the farthest of them.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً ایک لشکر لڑائی کے لئے نکلا کچھ آگے کچھ پیچھے اب آگے والوں کو کچھ مال ملا تو پیچھے والے بھی گو ان سے دور ہوں اس میں شریک ہوں گے، اس لئے کہ وہ ان کی مدد کے لئے آ رہے تھے تو گویا انہی کے ساتھ تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٦٠٢٩، ومصباح الزجاجة: ٩٤٨) وقد مضی تمامہ برقم: (٢٦٦٠) (صحیح) (سند میں حنش (حسین بن قیس) ضعیف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٣٤٧٥ )
معقل بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان اپنے علاوہ (دوسرے مذہب) والوں کے مقابلہ میں ایک ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے خون برابر ہیں ۔
It was narrated from Maqil bin Yasar that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Muslims are one hand against others, and their blood is equal."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ١١٤٧٠، ومصباح الزجاجة: ٩٤٩) (صحیح) (عبدالسلام بن أبی الجنوب ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کا ہاتھ اپنے علاوہ دوسری قوم والوں پر ہے (یعنی ان سب سے لڑیں، آپس میں نہ لڑیں) ان کے خون اور ان کے مال برابر ہیں، مسلمانوں کا ادنی شخص کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور لشکر میں دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہوگا ۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ said: "The hand of the Muslims is over others, and their blood and wealth is equal in value. The (asylum granted by) the lowest of them applies to the Muslims and the Muslims return (the spoils of war) to the farthest of them.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٨٧٣٩، ومصباح الزجاجة: ٩٥٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ١٥٩ (٢٧٥١)، مسند احمد (٢/٢٠٥، ٢١٥، ٢١٦) (حسن صحیح) (یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، کماتقدم )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی ذمی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever kills a Mujahid, will not smell the fragrance of Paradise even though its fragrance may be detected from a distance of forty years."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا: جس نے کسی ایسے ذمی کو قتل کردیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever kills a Mujahid who has the protection of Allah and the protection of His Messenger, will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of seventy years."
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی ؓ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کردیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا ۔
It was narrated that Rifaah bin Shaddad Al-Qitbani said: "Were it not for a word that I heard from Amr bin Hamiq Khuzai, I would have separated the head of Al-Mukhtar from his body. I heard him saying: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: If a man trusts someone with his life then he kills him, he will carry a banner of treachery on the Day of Resurrection.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٣٠، ومصباح الزجاجة: ٩٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٣، ٢٢٤، ٤٣٦، ٤٣٧) (صحیح )
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ١ ؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد ؓ سے سنی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا ۔
It was narrated that Rifaah said: “I entered upon Mukhtar in his palace and he said: ‘Jibril has just left me. Nothing stopped me from striking his neck (i.e., killing him) but a Hadith that I heard from Sulaiman bin Surad, according to which the Prophet ﷺ said: If a man trusts you with his life, then do not kill him. That is what stopped me."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ رسالت کا دعوی کر رہا تھا۔
Takhrij · تخریج
حدیث رفاعة تقدم تخریجہ بمثل الحدیث السابق (٢٦٨٨)، وحدیث سلیمان بن صرد، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٠ (الف)، ومصباح الزجاجة: ٩٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٤) (ضعیف) (سند میں ابولیلیٰ اور أبوعکاشہ مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٢٠٠ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قتل کردیا تو اس کا مقدمہ آپ کے پاس لایا گیا، چناچہ آپ ﷺ نے قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالے کردیا، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میرا اس کو قتل کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا، آپ ﷺ نے ولی سے کہا: اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے، اور تم نے اس کو قتل کردیا تو تم جہنم میں جاؤ گے تو مقتول کے ولی نے اس کو چھوڑ دیا، قاتل پٹے سے بندھا ہوا تھا، وہ پٹا گھسیٹتا ہوا نکلا، اور اس کا نام ہی پٹے والا پڑگیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A man killed (another) during the time of the Messenger of Allah, and that was referred to the Prophet ﷺ . He handed him over to the victims next of kin, but the killer said: O Messenger of Allah, by Allah I did not mean to kill him. The Messenger of Allah ﷺ said to the next of kin: If he is telling the truth and you kill him, you will go to Hell. So he let him go. He had been tied with a rope, and he went out dragging his rope, so he became known as Dhan-Nisah (the one with the rope).
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: دیت لے لو اس نے انکار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ ١ ؎ چناچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ تو اس نے اسے چھوڑ دیا، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا، گویا کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھ رکھا تھا ١ ؎۔ ابوعمیر اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن شوذب نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے یہ قول نقل کیا ہے، نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی کے لئے اقتله فإنک مثله کہنا درست نہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل رملہ کی حدیث ہے، ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ہے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “A man brought the killer of his relative to The Messenger of Allah, and The Messenger of Allah ﷺ said: “Pardon him”, but he refusesaid: Take the blood money: but he refused. He said: Go and kill him, but then you will be like him. Someone caught up with him and reminded him that the Messenger of Allah ﷺ had said: ‘Go and kill him, but then you will be like him. So he let him go.
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے حدیث کے اس ٹکڑے کی توضیح یوں کی ہے کہ قاتل قتل کی وجہ سے خیر سے محروم ہوا، تم بھی اس کو قصاصاً قتل کر کے خیر سے محروم ہوجاؤ گے، کیونکہ اس کو قتل کرنے سے مقتول زندہ نہیں ہوگا، ایسی صورت میں اس پر رحم کرنا ہی بہتر ہے، بعض علماء کہتے ہیں کہ اس نے قتل کی نیت سے اسے نہیں مارا تھا، اس لئے دیانۃ اس پر قصاص لازم نہیں تھا، اگرچہ قضاءاً لازم تھا، اور بعض کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق اس آدمی کو عمل کرنا چاہیے، گرچہ آپ کا فرمان بطور سفارش تھا، نہ کہ بطور حکم، اگر وہ آپ کے اس ارشاد کے خلاف کرتا تو اپنے آپ کو محرومی اور بدنصیبی کا مستحق بنا لیتا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آتا تو آپ اس کو معاف کردینے کا حکم دیتے (یعنی سفارش کرتے) ۔
It was narrated that Ata bin Abu Maimunah said: "I only know it from Anas bin Malik (RA) who said: No case involving retaliation was referred to the Messenger of Allah ﷺ but he enjoined forgiveness.
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: کوئی بھی شخص جس کے جسم کو صدمہ پہنچے پھر وہ ثواب کی نیت سے معاف کر دے، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیتا ہے، یہ میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا۔
Abu Darda said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no man who suffers some (injury) on his body and forgives (the perpetrator), but Allah will raise him one degree in status thereby, or erase from him one sin. My own ears heard it and my heart memorized it."ears heard it and my heart memorized it."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ٥ (١٣٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٤٨) (ضعیف) (سند میں ابوالسفر سعید بن أحمد ابوالدرداء سے سنا نہیں ہے، اس لئے یہ انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، ترمذی نے حدیث پر غریب کا حکم لگایا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٤٨٢ )
معاذ بن جبل، عبیدہ بن جراح، عبادہ بن صامت اور شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت جب جان بوجھ کر قتل کا ارتکاب کرے اور وہ حاملہ ہو، تو اس وقت تک قتل نہیں کی جائے گی جب تک وہ بچہ کو جن نہ دے، اور کسی کو اس کا کفیل نہ بنا دے، اور اگر اس نے زنا کا ارتکاب کیا تو اس وقت تک رجم نہیں کی جائے گی جب تک وہ زچگی (بچہ کی ولادت) سے فارغ نہ ہوجائے، اور کسی کو اپنے بچے کا کفیل نہ بنا دے ١ ؎۔
Muadh bin Jabal, Abu Ubaidah bin Jarrah, Ubadahh bin Samit and Shaddad bin Aws narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a woman kills someone deliberately, she should not be killed until she delivers what is in her womb, if she is pregnant, and until the childs sponsorship is guaranteed. And if a woman commits illegal sex, she should not be stoned until she delivers what is in her womb and until her childs sponsorship is guaranteed."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بچے کے پلنے کی صورت پیدا نہ ہوجائے مثلاً اور کوئی اس کا رشتہ دار بچے کی پرورش اپنے ذمہ لے لے، یا کوئی اور شخص یا بچہ اس لائق ہوجائے کہ آپ کھانے پینے لگے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کا کچھ قصور نہیں ہے، پھر اگر حاملہ عورت کو ماریں یا سنگسار کریں تو بچے کا مفت خون ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٤٨٢٤، ٥٠٤٨، ٥١٠٣، ١١٣٤١، ومصباح الزجاجة: ٩٥٣) (ضعیف) (عبد الرحمن بن انعم افریقی، اور عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٢٢٥ )