کسی مرد کو جان کی امان دیدی پھر قتل بھی کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ، قَالَ: لَوْلَا كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی ؓ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کردیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا ۔
It was narrated that Rifaah bin Shaddad Al-Qitbani said: "Were it not for a word that I heard from Amr bin Hamiq Khuzai, I would have separated the head of Al-Mukhtar from his body. I heard him saying: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: If a man trusts someone with his life then he kills him, he will carry a banner of treachery on the Day of Resurrection.”