وصیتوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 24 · 25 hadiths · Page 2 of 2

2715Sunan Ibne-Majah

قرض وصیت پر مقدم ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَهَا مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 11 وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ لَيَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وصیت سے پہلے قرض (کی ادائیگی) کا فیصلہ فرمایا، حالانکہ تم اس کو قرآن میں پڑھتے ہو: من بعد وصية يوصي بها أو دين یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو، یا ادائے قرض کے بعد (سورۃ النساء: ١١ ) ١ ؎ اور حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی نہیں۔

It was narrated that Ali said. "The Messenger of Allah ﷺ ruled that the debts should be paid off before the execution of the will. You recite: (The distribution in all cases is) after the payment of legacies he may have bequeathed or debts. The sons of one mother (from the same father) inherit from one another, but not the sons from different mothers (but the same father)."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب کوئی مرجائے اور سگے بہن بھائی چھوڑ جائے اور علاتی یعنی سوتیلے بھی جن کی ماں جدا ہو، لیکن باپ ایک ہی ہو تو سگوں کو ترکہ ملے گا اور سوتیلے محروم رہیں گے، اس مسئلہ کی پوری تفصیل علم الفرائض میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفرائض ٥ (٢٠٩٤، ٢٠٩٥)، (تحفة الأ شراف: ١٠٠٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٩، ١٣١، ١٤٤)، سنن الدارمی/الفرائض ٢٨ (٣٠٢٧) (حسن) (سند میں الحارث الاعور ضعیف ہے، لیکن سعد بن الاطول کے شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر ٢٤٣٣ ، و الإرواء: ١٦٦٧ )
2716Sunan Ibne-Majah

جو وصیت کیے بغیر مرجائے اس کی طرف سے صدقہ کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهُ، قَالَ: نَعَمْ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور وہ مال چھوڑ گئے ہیں، انہوں نے وصیت نہیں کی ہے، کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کر دوں تو ان کے گناہ معاف ہوجائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man asked the Messenger of Allah: "My father died and left behind wealth, but he did not make a will. Will it expiate for him if give charity on his behalf?" He said: "Yes."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٤٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الوصیة ٢ (١٦٣٠) (صحیح )
2717Sunan Ibne-Majah

جو وصیت کیے بغیر مرجائے اس کی طرف سے صدقہ کرنا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَمْ تُوصِ وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ لَتَصَدَّقَتْ فَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا وَلِيَ أَجْرٌ قَالَ: نَعَمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا، اور وہ وصیت نہیں کرسکیں، میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات چیت کر پاتیں تو صدقہ ضرور کرتیں، تو کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو انہیں اور مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں (ملے گا) ۔

It was narrated from Aisha (RA) that a man came to the Prophet ﷺ and said: "My mother died unexpectedly and she had not made a will. I think that if she could have spoken, she would have given in charity. Will she have a reward if give in charity on her behalf, and will have a reward?" He said: "Yes.”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ١٥ (١٠٠٤)، الوصیة ٢ (١٦٣٠)، (تحفة الأ شراف: ١٦٨١٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا ١٩ (٢٩٦٠)، سنن ابی داود/الوصیة ١٥ (٢٨٨١)، سنن النسائی/الوصیة ٧ (٣٦٧٩)، موطا امام مالک/الأقضیة ٤١ (٥٣)، مسند احمد (٦/٥١) (صحیح )
2718Sunan Ibne-Majah

اللہ کے ارشاد اور جو نادار ہو تو وہ یتیم کا مال دستور کے موافق کھاسکتا ہے کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا أَجِدُ شَيْئًا وَلَيْسَ لِي مَالٌ وَلِي يَتِيمٌ لَهُ مَالٌ، قَالَ: كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ مَالًا قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلَا تَقِي مَالَكَ بِمَالِهِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: میرے پاس کچھ بھی نہیں اور نہ مال ہی ہے، البتہ میری پرورش میں ایک یتیم ہے جس کے پاس مال ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: یتیم کے مال میں سے فضول خرچی کئے اور بغیر اپنے لیے پونجی بنائے کھاؤ میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا مال بچانے کے لیے اس کا مال اپنے مصرف میں نہ خرچ کرو ۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: I do not have anything and have no wealth, but have an orphan (under my care) who has wealth." He said: "Eat from the wealth of your orphan, without being extravagant or use it for trade." He (the narrator) said: "And think he said: Do not preserve your wealth using his instead:’"

Notes · وضاحت
مثلاً کسی نے آپ سے قرض مانگا تو یتیم کا مال دے دیا، اور اپنے مال کو رکھ چھوڑا یہ جائز نہیں، مقصد یہ ہے کہ یتیم کے مال میں اس شخص کو اس قدر تصرف کی اجازت ہے جو یتیم کی پرورش کرتا ہو اور بالکل محتاج ہو کہ ضرورت کے مطابق اس میں سے کھالے، لیکن مال برباد کرنا اور اسراف کرنا یا ضرورت سے زیادہ خرچ کردینا یہ کسی طرح صحیح نہیں ہے، ہر حال میں بہتر یہی ہے کہ اگر محتاج بھی ہو تو محنت کر کے اس میں سے کھائے، اور یتیم کے مال کو محفوظ رکھے، صرف یتیم پر ضرورت کے مطابق خرچ کرے، قرآن شریف میں ہے کہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الوصایا ٨ (٢٨٧٢)، سنن النسائی/الوصایا ١٠ (٣٦٩٨)، (تحفة الأ شراف: ٨٦٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٦، ٢١٦) (حسن صحیح )