لوٹ مار کی ممانعت
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: أَصَبْنَا غَنَمًا لِلْعَدُوِّ، فَانْتَهَبْنَاهَا، فَنَصَبْنَا قُدُورَنَا، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ النُّهْبَةَ لَا تَحِلُّ.
ثعلبہ بن حکم ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں دشمن کی کچھ بکریاں ملیں تو ہم نے انہیں لوٹ لیا، اور انہیں ذبح کر کے ہانڈیوں میں چڑھا دیا، پھر نبی اکرم ﷺ کا گزر ان ہانڈیوں کے پاس ہوا، تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ الٹ دی جائیں، چناچہ وہ ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: لوٹ مار حلال نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Thalabah bin Hakam said: "We came across some of the enemys sheep and plundered them, and set up our cooking pots. The Prophet ﷺ passed by the pots and ordered that they be overturned, then he said: Plunder is not permissible."(Hasan)