Sunan Ibne-Majah 728

اذان کا بیان

728Sunan Ibne-Majah

اذان کی فضیلت اور اذازن دینے والوں کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَذَّنَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ سِتُّونَ حَسَنَةً، وَلِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے بارہ سال اذان دی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور اس کے لیے ہر روز کی اذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں، اور ہر اقامت پہ تیس نیکیاں لکھ دی گئیں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever calls the Adhãn for twelve years, he will be guaranteed Paradise, arid for each day sixty Hasanat (good deeds) will be recorded for him by virtue of his Adhan, and thirty Hasanãt by virtue of his Iqdmah.” (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر حدیث میں سات برس کا ذکر ہے، اور اس میں بارہ برس کا یہ تعارض نہیں ہے، کیونکہ سات برس کی اذان دینے میں جب جہنم سے برأت حاصل ہوگئی، تو بارہ برس کی اذان دینے میں جنت ضرور حاصل ہوگی، انشاء اللہ اور بعضوں نے کہا سات برس خلوص نیت کے ساتھ کافی ہیں، اور بارہ برس ہر طرح کافی ہیں، اگرچہ نیت میں صفائی کامل نہ ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٨٨، ومصباح الزجاجة: ٢٧٠) (صحیح )