کلمات اقامت ایک ایک بارکہنا
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَمَّارُ بْنُ سَعْدٍ، مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّأَذَانَ بِلَالٍ كَانَ مَثْنَى مَثْنَى، وَإِقَامَتَهُ مُفْرَدَةٌ.
رسول اللہ ﷺ کے مؤذن سعد ؓ سے روایت ہے کہ بلال ؓ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہتے تھے۔
‘Abdur-Rahmân bin Sa’d bin ‘Ammâr bin Sa’d narrated (from his great-grandfather who was the Mu ‘adhdhin of the Messenger of Allah ﷺ that in the Adhân of Bilál, the phrases were two by two, and in his Iqamah they were said once. (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٦، ومصباح الزجاجة: ٢٧١) (صحیح) (اسناد میں ضعف ہے کیونکہ اولاد سعد مجاہیل ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، اور اس کا معنی صحیح بخاری میں ہے )