اذان کی فضیلت اور اذازن دینے والوں کا ثواب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْعِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی ہوں گی ١ ؎۔
It was narrated that ‘Esa bin iathafl said: “I heard Mu’âwiyah bin Abu Sufyân say that Messenger of Allah ﷺ said: “The Mu’adhdhins will have the longest necks of all people on the Day of Resurrection.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ ان کے شرف و اعزاز اور بلند رتبہ کی دلیل ہوگی، اور گردن لمبی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان کے اعمال زیادہ ہوں گے، یا حقیقت میں گردنیں لمبی ہوں گی، اور وہ جنت کو دیکھتے ہوں گے، یا وہ لوگوں کے سردار ہوں گے، عرب لوگ سردار کو لمبی گردن والا کہتے ہیں، یا وہ پیاسے نہ ہوں گے، اس وجہ سے کہ گردن اٹھی ہوگی، اور لوگ پیاس کے مارے گردن موڑے ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٤٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٥، ٩٨) (صحیح )