اذان کی فضیلت اور اذازن دینے والوں کا ثواب
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَ صَوْتِهِ، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کردی جاتی ہے، اور ہر خشک و تر اس کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے، اور اذان سن کر نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس ( ٢٥ ) نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور دو نمازوں کے درمیان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ himself say: ‘The Mu’adh-dhin’s sins will be forgiven as far as his voice reaches, and every wet and dry thing will pray for forgiveness for him. For the one who attends the prayer, twenty-five Hasanât (good deeds) will be recorded, and it will be an expiation (for sins committed) between them (the two prayers).’”