Sunan Ibne-Majah 711

اذان کا بیان

711Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، فَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ، وَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ.

ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ایک سرخ خیمہ میں قیام پذیر تھے، بلال ؓ باہر نکلے اور اذان دی، تو اپنی اذان میں گھوم گئے (جس وقت انہوں نے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے کلمات کہے) ، اور اپنی (شہادت کی) دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں ١ ؎۔

It was narrated from ‘Awn bin Abu Juhaifah that his father said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ in Abtah, when he was in a red tent. Bilâl came out and gave the call to prayer, turning around and putting his fingers in his ears.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: موذن جب حي على الصلاة کہے، تو دائیں طرف منہ پھیرے، اور جب حي الفلاح کہے تو بائیں طرف منہ پھیرے، اگر اذان کے منارے میں منہ پھیرنے کی گنجائش نہ ہو تو صرف گھوم جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٣٤)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤ (٥٢٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠ (١٩٧)، سنن النسائی/الأذان ١٣ (٦٤٤)، الزینة من المجتبیٰ ٦٩ (٥٣٨٠)، مسند احمد (٤/٣٠٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨ (١٢٣٤) (صحیح) (اس سند میں حجاج ضعیف ہیں، لیکن متن دوسرے طرق سے صحیح ہے كما في التخريج من طرق سفيان الثوري، و شعبة وغيرهما عن عون به )