اذان کا مسنون طریقہ
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، فَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ، وَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ.
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ایک سرخ خیمہ میں قیام پذیر تھے، بلال ؓ باہر نکلے اور اذان دی، تو اپنی اذان میں گھوم گئے (جس وقت انہوں نے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے کلمات کہے) ، اور اپنی (شہادت کی) دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں ١ ؎۔
It was narrated from ‘Awn bin Abu Juhaifah that his father said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ in Abtah, when he was in a red tent. Bilâl came out and gave the call to prayer, turning around and putting his fingers in his ears.” (Hasan)