Sunan Ibne-Majah 713

اذان کا بیان

713Sunan Ibne-Majah

اذان کا مسنون طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ لَا يُؤَخِّرُ الْأَذَانَ عَنِ الْوَقْتِ، وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کردیتے ١ ؎۔

it was narvated that Jâbir bin samurah said: “BilaI did not delay the Adhan from its proper time, but he sometimes delayed the Iqãmah a little.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اقامت اس وقت تک نہ ہوتی جب تک نبی اکرم ﷺ حجرہ مبارکہ سے باہر نہ آجاتے، اور آپ کو دیکھ کر بلال ؓ اقامت شروع کرتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢١٧٨، ومصباح الزجاجة:)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٤٤ (٥٣٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٤ (٢٠٢) (حسن) (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٢٧ )