انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں، اور اہل جنت کے سردار ہیں، یعنی: میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: We, the sons of Abdul-Muttalib, will be the leaders of the people of Paradise: Myself, Hazmah. Ali, [aTar , Hasan, Husain and Mahdi." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٥، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٤) (موضوع) (علی بن زیاد ضعیف اور سعد بن عبد الحمید صدوق ہیں، لیکن ان کے یہاں غلط احادیث ہیں، اور عکرمہ بن عمار صدوق ہیں غلطی کرتے ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٦٨٨ )
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کچھ لوگ مشرق (پورب) کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے ۔
It is narrated from Abdullah bin Harith bin jaz Az-zabidi that the Messenger of Allah ﷺ said :People will come from the east,c paving the way pf Mehdi , meaning for his rule. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٥) (ضعیف) (سند میں عمرو بن جابر الحضرمی اور ابن لہیعہ ضعیف ہیں )
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا، خالد بن معدان کی طرف مڑے، اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا، خالد نے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا کہ جبیر نے مجھ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ ذی مخمر ؓ کے پاس چلو، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، چناچہ میں ان دونوں کے ہمراہ چلا، ان سے صلح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: عنقریب ہی روم والے تم سے ایک پر امن صلح کریں گے، اور تمہارے ساتھ مل کر دشمن سے لڑیں گے، پھر تم فتح حاصل کرو گے، اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آئے گا، اور تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنگ سے لوٹو گے یہاں تک کہ تم ایک تروتازہ اور سرسبز مقام پر جہاں ٹیلے وغیرہ ہوں گے، اترو گے، وہاں صلیب والوں یعنی رومیوں میں سے ایک شخص صلیب بلند کرے گا، اور کہے گا: صلیب غالب آگئی، مسلمانوں میں سے ایک شخص غصے میں آئے گا، اور اس کے پاس جا کر صلیب توڑ دے گا، اس وقت رومی عہد توڑ دیں گے، اور سب جنگ کے لیے جمع ہوجائیں گے ۔
It was narrated that Jubair bin Nufair said: Zubair said to me: Lets go to Dhu Mikhmar, who was a man from among the Companions of the Prophet ﷺ : SoI went with them and he asked him about the peace treaty (with !heRomans). He said: I heard the Prophet ﷺ i/i! say: "The Romans will enter into a peace treaty with you, then you and they will fight one anotheras enemies, and you will be victorious; you will collect the spoils of war and be safe. Then you will come back until you will stop in a meadow with many hillocks. A man from among the people of the Cross will raise the Cross and will say: The Cross has prevailed: Then a man among the muslims will become angry and will go and break the Cross. Then the Romans will prove treacherous (breaking the treaty) (and will gather) for the fierce battle." (Sahih) Another chain with a similar report to which he added: "They will gather for the fierce battle, and at that time they will come with eighty banners, under each of which will be twelve thousand troops."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نصاریٰ کی شان و شوکت اور سلطنت قیامت تک باقی رہے گی یعنی مہدی (علیہ السلام) کے وقت تک، دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت نہیں قائم ہوگی یہاں تک کہ اکثر لوگ دنیا کے نصاریٰ ہوں گے، یہ حدیث بڑی دلیل ہے آپ کی نبوت کی کیونکہ یہ پیشین گوئی آپ کی بالکل سچی نکلی، کئی سو برس سے نصاریٰ کا برابر عروج ہو رہا ہے، اور ہر ایک ملک میں ان کا مذہب پھیلتا جاتا ہے، دنیا کے چاروں حصوں میں یا ان کی حکومت قائم ہوگئی ہے، یا ان کے زیر اثر سلطنتیں قائم ہیں، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت کے قریب مسلمانوں کا بادشاہ نصاریٰ کی ایک قوم کے ساتھ مل کر تیسری سلطنت سے لڑے گا اور فتح پائے گا، پھر صلیب پر تکرار ہو کر سب نصاریٰ مل جائیں گے اور متفق ہو کر مسلمانوں سے مقابلہ کریں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ١٦٨ (٢٧٦٧)، والملاحم ٢ (٤٢٩٣) (صحیح )
اس سند سے بھی حسان بن عطیہ سے اسی طرح مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: وہ (نصاریٰ مسلمانوں سے) لڑنے کے لیے اکٹھے ہوجائیں گے، اس وقت اسی جھنڈوں کی سر کردگی میں آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی ١ ؎۔
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٧ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بڑی بڑی جنگیں ہونے لگیں گی، تو اللہ تعالیٰ موالی (جن کو عربوں نے آزاد کیا ہے) میں سے ایک لشکر اٹھائے گا، جو عربوں سے زیادہ اچھے سوار ہوں گے اور ان سے بہتر ہتھیار رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the fierce battles take place, Allah will send a troop of freed slaves who will be the best Arab horsemen and the best armed, with whom Allah will support His religion." (Hasan)
جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نافع بن عتبہ بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم عنقریب جزیرہ عرب والوں سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، ان پر بھی اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا ۔ جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب تک روم فتح نہ ہوگا، دجال کا ظہور نہ ہوگا۔
It was narrated from Jabir bin Samrah, that Nafi bin Utbah bin Abu Waqqas narrated that the Prophet ﷺ said: You will fight the Arabian Peninsula and victory will be granted by Allah. Then you will fight the Romans and victory will be granted (by Allah). Then you will fight DajjaI and victory will be granted (by Allah)." Jabir said: "DajjaI will not appear until you have fought the Romans." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٢ (٢٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٧٨، ٤/٣٤٧) (صحیح )
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنگ عظیم، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا خروج تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی ۔
It was narrated from Muodh bin Jabal that the Prophet ﷺ said: "The great fierce battle, the conquest of Constantinople and the emergence of Dajjal, will all happen within seven months " (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الملاحم ٤ (٤٢٩٥)، سنن الترمذی/الفتن ٥٨ (٢٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٤) (ضعیف) (سند میں ابوبکر ضعیف اور ولید بن سفیان ضعیف ہیں )
عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنگ عظیم اور فتح مدینہ (قسطنطنیہ) کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہے، اور دجال کا ظہور ساتویں سال میں ہوگا ۔
It was narrated from b Abdullah bin Busr that the Messenger of Allah ﷺ said: "Between the fierce battle and the conquest of Al-Madinah will be six years, and the appearance? Dajjal Will come m the seventh.(Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الملاحم ٤ (٤٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ٥١٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٩) (ضعیف) (سند میں سوید بن سعید اور بقیہ میں ضعف ہے )
عمرو بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں (فرمائیے) ، آپ ﷺ نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر (اہل روم) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے (یعنی اہل حجاز) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کرلیں گے، اور انہیں (وہاں) اس قدر مال غنیمت حاصل ہوگا کہ اتنا کبھی حاصل نہ ہوا تھا، یہاں تک کہ وہ ڈھا لیں بھربھر کر تقسیم کریں گے، اور ایک آنے والا آ کر کہے گا: مسیح (دجال) تمہارے ملک میں ظاہر ہوگیا ہے، سن لو! یہ خبر جھوٹی ہوگی، تو مال لینے والا بھی شرمندہ ہوگا، اور نہ لینے والا بھی ۔
It was narrated from Kathir bin AbdullahbinAmrbinAwf from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The Hour will not begin until the closest Muslim "outpost will be at Baula. Then he said: O Ali, O Ali, O Ali. He (Ali) said: May my father and mother be ransomed for you. He said: You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by the shieldful. Someone will come and say: "Masih has appeared in your land!" But he will be lying, so the one who takes (some of the spoils) will regret it, and the one who leaves it behind will regret it too.":(Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٤٩) (موضوع) (سند میں کثیر بن عبد اللہ ہیں، جن کے بارے میں ابن حبان کہتے ہیں کہ اپنے والد کے حوالہ سے انہوں نے اپنے دادا سے ایک موضوع نسخہ روایت کیا ہے، جس کا تذکرہ کتابوں میں حلال نہیں ہے، اور نہ اس کی روایت جائز ہے، الا یہ کہ تعجب و استغراب کے نقطئہ نظر سے ہو )
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے اور بنی اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہوگی، پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے، اور تمہارے مقابلے کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی ۔
It was narrated from Awf bin Malik AI-Ashra that the Messenger of Allah ﷺ said: "Tere will be a treaty between ou and Banu Asfar (The komans), but they will betray you and will march against you with eighty banners, under each of which there will be twelve thousand troops." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) h, conveying it from the Prophet ﷺ "The Hour will not begin until you fight people with shoes of hair, and the Hour will not begin until you fight people with small eyes." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناکیں چپٹی ہوں گی اور ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے، اور قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The Hour will not begin until you fight people with small eyes smaII,even noses, and if there faces were hammered sheilds. And the Hour will not begin until you fight people whose shoes are made of hair, (Sahih)
عمرو بن تغلب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، گویا وہ چپٹی ڈھال ہیں، اور قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے ۔
It was narrated that Amr bin Taghlib said: "I heard the Prophet ﷺ say: One of the portents of the Hour is that you fight people with broad faces, as if their faces are hammered shields, And one of the portents of the Hour is that you will fight people who wear shoes of hair:" (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٩٥ (٢٩٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٠) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے ۔
It was narrated from Abu Saeed AI-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Hour will not begin until you fight people with small eyes and wide faces, as if their eyes are the pupils of locusts and as if their faces are hammered shields, They will be wearing shoes of hair,using leather shields and tying their horses to date-palm trees."(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٢٣، ومصباح الزجاجة: ١٤٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١) (حسن صحیح )