Sunan Ibne-Majah 4114

زہد کا بیان

4114Sunan Ibne-Majah

دنیا کی مثال۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ كَأَنَّكَ عَابِرُ سَبِيلٍ، وَعُدَّ نَفْسَكَ مِنْ أَهْلِ الْقُبُورِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے جسم کا بعض حصہ (کندھا) تھاما اور فرمایا: عبداللہ! دنیا میں ایسے رہو گویا تم اجنبی ہو یا مسافر، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ took hold of some part of my body and said: O Abdullah, be in this world like a stranger, or one who is passing through, and consider yourself as one of the people of the graves." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزھد ١٥ (٢٣٣٣)، (تحفة الأشراف: ٧٣٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٣ (٦٤١٨)، من طریق محمد بن عبد الرحمن الطفاوی عن الأعمش عن مجاہد بن جبر ابن عمر، مسند احمد (٢/٢٤، ١٣٢) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں، اسے لئے وعد نفسک من أهل القبور کا جملہ ضعیف ہے، لیکن بقیہ حدیث صحیح ہے، کمافی التخریج )