دنیا کی مثال۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: إِنِّي لَفِي الرَّكْبِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَى عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: أَتُرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا؟، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا أَوْ كَمَا قَالَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا.
مستورد بن شداد ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک قافلے میں تھا کہ آپ بکری کے ایک پڑے ہوئے مردہ بچے کے پاس آئے، اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بےوقعت ہے ؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس کی بےوقعتی ہی کی وجہ سے اس کو یہاں ڈالا گیا ہے، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بےوقعت ہے ۔
Mustawrid bin Shaddad said: "I was riding with the Messenger of Allah ﷺ when he came across a dead lamb that had been thrown out: He said: Dont you think that this is worthless to its owners? It was said: O Messenger of Allah, it is because It is worthless that they have thrown it out, - or words to that effect. He said: By the One in Whose Hand is my soul, this world is more worthless to Allah than this is to its owners:" (Hasan)