فیصلوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 15 · 67 hadiths · Page 3 of 4

2348Sunan Ibne-Majah

قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلَاثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ؓ جب یمن میں تھے، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ ان دونوں نے کہا: نہیں، پھر دو کو الگ کیا، اور ان سے پوچھا: کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو؟ تو وہ انکار کرتے، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کردی، اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہوگئے ١ ؎۔

It was narrated that Zaid bin Arqam said: "A case was brought to Ali bin Abu Talib when he was in Yemen, concerning three men who had had intercourse with a woman during one period of being free from menses. He asked two of them: "Do you affirm that this child belongs to (the third man)?" And they said: "No." He asked another two of them: "Do you affirm that this child belongs to (the third man)?" And they said: "No." Every time he asked two of them whether they affirmed that the child belonged to the third, they would say no. So he cast lots between them, and attributed the child to the one whose name was chosen in this manner, and obliged him to pay two thirds of the Diyah. The Prophet ﷺ was told of this, and he smiled so broadly that his back teeth became visible.

Notes · وضاحت
١ ؎: ہنسی کی وجہ یہ تھی کہ یہ فیصلہ عجیب طور کا تھا، اور دو تہائی دیت کی اس سے اس لئے دلوائی کہ دعوی کے مطابق اس لڑکے میں تینوں شریک تھے، اب قرعہ جھگڑا ختم کرنے کے لئے کیا، نہ نسب ثابت کرنے کے لئے، تو اس شخص کو بچہ کا دو تہائی کا بدلہ دوسرے دعویداروں کو دینا پڑا اور یہ علی ؓ کی اپنی رائے تھی، لیکن ابوداود نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایسی صورت میں یہ حکم فرمایا: وہ بچہ اپنی ماں کے پاس رہے گا، اور کسی سے اس کا نسب ثابت نہ ہوگا، نہ وہ ان دعویداروں میں سے کسی مرد کا وارث ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٣٢ (٢٢٧٠)، سنن النسائی/الطلاق ٥٠ (٣٥١٨)، (تحفة الأشراف: ٣٦٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٣، ٤٧٤) (صحیح )
2349Sunan Ibne-Majah

قیافہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا وَهُوَ يَقُولُ: يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَقَدْ بَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے: عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے، اور دونوں کے پیر کھلے تھے، تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ came in one day looking happy, and said: O Aisha (RA) , did you not see that Mujazziz Al- Mudliji entered upon me and saw Usamah and Zaid. There was a blanket over them and their faces were covered but their feet were exposed, and he said: These feet belong to one another.

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی کریم ﷺ کے متبنی زید بن حارثہ ؓ گورے رنگ کے تھے، اور ان کے بیٹے اسامہ سانولے رنگ کے تھے، منافقوں نے یہ طوفان اٹھایا کہ اسامہ زید کے بیٹے نہیں ہیں، اس سے نبی کریم ﷺ کو بڑا رنج ہوا، جب قیافہ شناس نے دونوں کے پاؤں دیکھ کر ایک طرح کے بتلائے تو مزید اطمینان ہوا کہ اسامہ زید ہی کے بیٹے ہیں، ہرچند پہلے بھی اس کا یقین تھا مگر قیافہ شناس کے کہنے پر اور زیادہ یقین ہوا، منافقوں کا منہ بند ہوا اور نبی کریم ﷺ کو خوشی حاصل ہوئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٣٥٥)، فضائل الصحابہ ١٧ (٣٧٣١)، الفرائض ٣١ (٦٧٧١)، صحیح مسلم/الرضاع ١١ (١٤٥٩)، سنن ابی داود/الطلاق ٣١ (٢٢٦٧)، سنن الترمذی/الولاء ٥ (٢١٢٩)، سنن النسائی/الطلاق ٥١ (٣٤٢٣، ٣٥٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٢، ٢٢٦) (صحیح )
2350Sunan Ibne-Majah

قیافہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا امْرَأَةً كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ، قَالَ: فَجَرُّوا كِسَاءً ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آ کر کہا: ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب (ابراہیم علیہ السلام) سے زیادہ مشابہ ہے؟، وہ بولی: اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں، ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا (تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں) پھر لوگ اس پر چلے، اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کے نشانات دیکھے، تو بولی: یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا گزرے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو نبوت عطا کی۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Quraish went to a Sorceress and they said to her: "Tell us whose footprints most resemble those of the owner of Al- Maqam (the station of Ibrahim)." She said: "If you spread a piece of cloth over this soft earth and walk Over it, I will tell you." So they spread out a piece of cloth and the people walked over it. She saw the footprints of the Messenger of Allah ﷺ and said: "This one most closely resembles him among you." After that twenty years passed, or as long as Allah willed, then Allah sent Muhammad (i.e., missioned him as the Prophet).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماحہ، (تحفة الأشراف: ٦١٣٠، ومصباح الزجاجة: ٨٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٣٢) (منکر ضعیف) ط (سماک بن حرب کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے )
2351Sunan Ibne-Majah

بچہ کو اختیار دینا کہ ماں باپ میں سے جس کے پاس چاہے رہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَقَالَ: يَا غُلَامُ هَذِهِ أُمُّكَ وَهَذَا أَبُوكَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے پاس رہے یا ماں کے پاس اور فرمایا: بچے! یہ تیری ماں ہے اور یہ تیرا باپ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ gave a child the choice between his father and his mother (i.e., which parent to live with). He said: "O boy, this is your mother and this is your father."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تو جس کے ساتھ چاہے جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٣٥ (٢٢٧٧)، سنن الترمذی/الأحکام ٢١ (١٣٥٧)، سنن النسائی/الطلاق ٥ (٣٥٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٧)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٩) (صحیح )
2352Sunan Ibne-Majah

بچہ کو اختیار دینا کہ ماں باپ میں سے جس کے پاس چاہے رہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالْآخَرُ مُسْلِمٌ، فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِهِ. فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ.

رافع بن سنان ؓ کہتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم ﷺ نے ان (رافع) کو اختیار دیا (کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جاسکتے ہیں) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ہدایت دے ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے اسی (مسلمان) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔

It was narrated from Abdul-Hamid bin Salamah, from his father, from his grandfather, that his parents referred their dispute to the Prophet, and one of them was a disbeliever while the other a Muslim. He gave him the choice and he turned towards the disbeliever. He (the Prophet) said: "O Allah, guide him," and he turned towards the Muslim, and he ruled that he should go with that parent.

Takhrij · تخریج
حدیث عبد الحمید بن سلمة عن أبیہ عن جدہ، علی أن إسم أبویہ لایعرفان تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشرا ف: ١٥٥٨٦، مصباح الزجاجة: ٨٥٢)، وحدیث عبد الحمید بن سملة عن جدہ رافع بن سنان أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ٢٦ (٢٢٤٤)، سنن النسائی/الطلاق ٥٢ (٣٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٤) (صحیح) (سند میں عبدالحمید بن سلمہ عن أبیہ عن جدہ تینوں مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٤١ ١٩ )
2353Sunan Ibne-Majah

صلح کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا.

عمرو بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ١ ؎۔

Kathir bin Abdullah bin Amr bin Awf narrated from his father that his grandfather said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خلاف شرع صلح جائز نہیں، باقی جس میں شرع کی مخالفت نہ ہو وہ صلح ہر طرح سے جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ١٧ (١٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٥) (صحیح )
2354Sunan Ibne-Majah

اپنا مال برباد کرنے والے پر پابندی لگانا

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَال: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَا وَلَا خِلَابَةَ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا، اور وہ خریدو فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے، نبی اکرم ﷺ نے اس کو بلایا، اور اس کو خریدو فروخت کرنے سے منع کیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ خریدو فروخت نہ کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا جب خریدو فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that there was a man at the time of the Messenger of Allah ﷺ whose mental faculties were lacking, and he used to buy and sell. His family came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, stop him." So the Prophet ﷺ called him, and told him not to do that. He said: "O Messenger of Allah, I cannot bear to be away from business," He said, "If you engage in a transaction, then say: Take it (i.e. the goods) and dont cheat (me).”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مجھ کو دھوکہ مت دو، اگر فریب ثابت ہوگا تو معاملہ فسخ کرنے کا مجھ کو اختیار ہوگا، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مجھ کو تین دن تک اختیار ہے (طبرانی اور بیہقی)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٦٨ (٣٥٠١)، سنن الترمذی/البیوع ٢٨ (١٢٥٠)، سنن النسائی/البیوع ١٠ (٤٤٩٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٧) (صحیح )
2355Sunan Ibne-Majah

اپنا مال برباد کرنے والے پر پابندی لگانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ، قَالَ: هُوَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أَصَابَتْهُ آمَّةٌ فِي رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ، وَكَانَ لَا يَدَعُ عَلَى ذَلِكَ التِّجَارَةَ، وَكَانَ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ: إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ، ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا.

محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ میرے دادا منقذ بن عمرو ہیں، ان کے سر میں ایک زخم لگا تھا جس سے ان کی زبان بگڑ گئی تھی، اس پر بھی وہ تجارت کرنا نہیں چھوڑتے تھے، اور ہمیشہ ٹھگے جاتے تھے، بالآخر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: جب تم کوئی چیز بیچو تو یوں کہہ دیا کرو: دھوکا دھڑی نہیں چلے گی، پھر تمہیں ہر اس سامان میں جسے تم خریدتے ہو تین دن کا اختیار ہوگا، اگر تمہیں پسند ہو تو رکھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دو ١ ؎۔

It was narrated that Muhammad bin Yahya bin Habban said: "My grandfather was Munqidh bin Amr. He was a man who had suffered a head wound and lost the power of speech, but that did not stop him from engaging in trade. He was always being cheated, so he went to the Prophet ﷺ and told him about that. He said to him: When you buy something, say: "There should be no intention of cheating," and for every product you buy, you have the choice for three nights. If you are pleased with it, keep it, and if you are displeased then return it.

Notes · وضاحت
١ ؎: پس یہ اختیار خاص کر کے آپ ﷺ نے منقذ کو دیا تھا، اگر کسی کے عقل میں فتور ہو تو حاکم ایسا اختیار دے سکتا ہے، نیز مسرف اور بیوقوف پر حجر کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٤٢٨، ومصباح الزجاجة: ٨٢٦) (حسن) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، کما تقدم، تراجع الألبانی: رقم: ١٠٢ )
2356Sunan Ibne-Majah

جس کے پاس مال نہ رہے اسے مفلس قرار دینا اور قرض خواہوں کی خاطر اس کا مال فروخت کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْعِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَيَعْنِي الْغُرَمَاءَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک شخص کو اس کے خریدے ہوئے پھلوں میں گھاٹا ہوا، اور وہ بہت زیادہ مقروض ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اسے صدقہ دو چناچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، لیکن اس سے اس کا قرض پورا ادا نہ ہوسکا، بالآخر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مل گیا وہ لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ہے یعنی قرض خواہوں کے لیے۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ a man suffered loss of some fruit that he had purchased, and his debts increased. The Messenger of Allah ﷺ said: Give him charity. So the people gave him charity, but that was not enough to pay off his debts. The Messenger of Allah ﷺ said: Take what you find, but you have no right to more than that, meaning his creditors."

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اب وہ مفلس ہوگیا تو قرض خواہوں کو اس سے زیادہ کچھ نہیں پہنچتا کہ اس کے پاس جو مال ہو وہ لے لیں، مگر مکان رہنے کا اور ضروری کپڑا اور سردی کا کپڑا، اور سد رمق کے موافق خوراک اس کی اور اس کے گھر والوں کی یہ چیزیں قرض میں نہیں لی جائیں گی۔ (الروضۃ الندیۃ)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٤ (١٥٥٦)، سنن ابی داود/البیوع ٦٠ (٣٤٦٩)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٤ (٦٥٥)، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٣٤)، ٩٣ (٤٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦، ٥٦، ٥٨) (صحیح )
2357Sunan Ibne-Majah

جس کے پاس مال نہ رہے اسے مفلس قرار دینا اور قرض خواہوں کی خاطر اس کا مال فروخت کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ سَلَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ مِنْ غُرَمَائِهِ ثُمَّ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْيَمَنِ فَقَالَ مُعَاذٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَصَنِي بِمَالِي ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو ان کے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، اور پھر آپ ﷺ نے انہیں یمن کا عامل بنادیا، معاذ ؓ نے کہا: دیکھو! رسول اللہ ﷺ نے میرے مال کے ذریعہ مجھے میرے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، پھر مجھے آپ ﷺ نے عامل بھی بنادیا۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ rid Muadh bin Jabal of his creditors, then he appointed him governor of Yemen. Muadh said: "The Messenger of Allah ﷺ settled my debts with my creditors using what wealth I had, then he appointed me as governor."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٦٨، ومصباح الزجاجة: ٨٢٧) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن مسلم بن ہرمز ضعیف اور سلمہ المکی مجہول الحال ہیں )
2358Sunan Ibne-Majah

ایک شخص مفلس ہوگیا اور کسی نے اپنا مال بعینہ اسکے پاس پالیا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بعینہ اپنا مال اس شخص کے پاس پا لیا جو مفلس (دیوالیہ) ہوگیا ہو، تو وہ دوسرے قرض خواہوں سے اس مال کا زیادہ حقدار ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever finds his exact property with a man who has become bankrupt, then he has more right to it than anyone else."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستقراض ١٤ (٢٤٠٢)، صحیح مسلم/المساقاة ٥ (١٥٥٩)، سنن ابی داود/البیوع ٧٦ (٣٥١٩، ٣٥٢٠)، سنن الترمذی/البیوع ٢٦ (١٢٦٢)، سنن النسائی/البیوع ٩٣ (٤٦٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٤٢ (٨٨، مسند احمد (٢/٢٢٨، ٢٥٨، ٤١٠، ٤٦٨، ٤٧٤، ٥٠٨)، سنن الدارمی/البیوع ٥١ (٢٦٣٢) (صحیح )
2359Sunan Ibne-Majah

ایک شخص مفلس ہوگیا اور کسی نے اپنا مال بعینہ اسکے پاس پالیا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ وَقَدْ أَفْلَسَ وَلَمْ يَكُنْ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا، فَهِيَ لَهُ وَإِنْ كَانَ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کوئی سامان بیچا پھر اس نے اس کو بعینہ اس (مشتری) کے پاس پایا جو دیوالیہ ہوگیا ہے، اور بائع کو ابھی تک اس کی قیمت میں سے کچھ نہیں ملا تھا، تو وہ سامان بائع کو ملے گا، اور اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ لے چکا ہے تو وہ دیگر قرض خواہوں کے مانند ہوگا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Any man who sells a product, then he finds the exact product with the man who has become bankrupt, and he has not taken any of its price, it belongs to him, but if he had taken any of its price, then he is like any other creditor."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کو بیچ کر قرض خواہوں کا قرضہ حصے کے طور پر اس سے ١ دا کریں گے، بائع کو بھی اپنے حصہ کے موافق ملے گا، حدیث سے یہ نکلا کہ اگر مشتری نے اسباب میں کچھ تصرف کیا ہو یعنی اس حال پر باقی نہ رہا جو بائع کے وقت پر تھا تب بھی وہ بائع کو نہ ملے گا بلکہ اس کو بیچ کر سب قرض خواہوں کو حصہ ادا کریں گے، بائع بھی اپنے حصہ کے موافق لے گا۔
Takhrij · تخریج
وانظر ما قبلہ (صحیح )
2360Sunan Ibne-Majah

ایک شخص مفلس ہوگیا اور کسی نے اپنا مال بعینہ اسکے پاس پالیا

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ وَكَانَ قَاضِيًا بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَفْلَسَ، فَقَالَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ.

ابن خلدہ زرقی (وہ مدینہ کے قاضی تھے) کہتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے سلسلے میں جس کا دیوالیہ ہوگیا تھا ابوہریرہ ؓ کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ایسے ہی شخص کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا تھا: جو شخص مرجائے یا جس کا دیوالیہ ہوجائے، تو سامان کا مالک ہی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے، جب وہ اس کو بعینہ اس کے پاس پائے ۔

It was narrated that Ibn Khaldah, who was a judge in Al- Madinah, said: We came to Abu Hurairah (RA) and asked him about a companion of ours who had become bankrupt. He said: "This is what the Prophet ﷺ ruled: ‘Any man who dies or becomes bankrupt, the owner of the product has more right to it, if he finds the exact thing.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٦ (٣٥٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٩) (ضعیف) (سند میں ابو المعتمر بن عمرو بن رافع مجہول ہیں )
2361Sunan Ibne-Majah

ایک شخص مفلس ہوگیا اور کسی نے اپنا مال بعینہ اسکے پاس پالیا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرِئٍ مَاتَ وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مرجائے، اور اس کے پاس کسی کا مال بعینہ موجود ہو، خواہ اس کی قیمت سے کچھ وصول کیا ہو یا نہیں، وہ ہر حال میں دوسرے قرض خواہوں کے مانند ہوگا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Any man who dies and has the property of another man, whether he paid something towards it or not, (the owner of those goods) is like any other creditor."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٢٦٨) (صحیح )
2362Sunan Ibne-Majah

جس سے گواہی طلب نہیں کی گئی اس کے لئے گواہی دینا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے زمانہ والے، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی ١ ؎۔

Abdullah bin Masud said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked, Which of the people are best? He said: My generation, then those that follow them, then those that follow them. Then there will come people whose testimony precedes their oath and whose oath precedes their testimony.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت اس کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٩ (٢٦٥٢)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٢ (٢٥٣٣)، سنن الترمذی/المناقب ٥٧ (٣٨٥٩)، (تحفة الأشراف: ٩٤٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٣٧٨، ٤١٧، ٤٣٤، ٤٣٨، ٤٤٢) (صحیح )
2363Sunan Ibne-Majah

جس سے گواہی طلب نہیں کی گئی اس کے لئے گواہی دینا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا مِثْلَ مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ: احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا، اس خطبہ میں انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمارے بیچ کھڑے ہوئے جیسے میں تمہارے بیچ کھڑا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی شان کے سلسلے میں میرا خیال رکھو پھر ان لوگوں کی شان کے سلسلے میں جو ان کے بعد ہوں، پھر جو ان کے بعد ہوں، پھر جھوٹ عام ہوجائے گا یہاں تک کہ ایک شخص گواہی دے گا اور کوئی اس سے گواہی نہ چاہے گا، اور قسم کھائے گا اور کوئی اس سے قسم نہ چاہے گا ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "Umar bin Khattab addressed us at Jabiyah and said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up among us as I stand among you, and said: Honor my Companions for my sake, then those who come after them, then those who come after them. Then lying will prevail until a man will give testimony without being asked to do so, and he will swear an oath without being asked to do so

Notes · وضاحت
١ ؎: مقام جابیہ شام کی ایک بستی کا نام ہے۔ میرا خیال رکھو یعنی کم از کم میری رعایت کرتے ہوئے انہیں کوئی ایذا نہ پہنچاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٤١٨، ومصباح الزجاجة: ٨٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦) (صحیح) (سند میں عبد الملک بن عمیر مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، الصحیحة: ٤٣١ ، ١١١٦ )
2364Sunan Ibne-Majah

کسی کو معاملہ کا علم ہولیکن صاحب معاملہ کو اس کے گواہ ہونے کا علم نہ ہو۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْجُعْفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب: الْعُكْلِيُّ، أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: خَيْرُ الشُّهُودِ مَنْ أَدَّى شَهَادَتَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بہتر گواہ وہ ہے جو پوچھے جانے سے پہلے گواہی دیدے ١ ؎۔

Zaid bin Khalid Al-juhani said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The best of witnesses is the one who gives his testimony before he is asked for it."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گواہ نہ ہونے کے سبب جب کسی مسلمان کا حق مارا جا رہا ہو، یا اس کے مال یا جان کو نقصان لاحق ہو رہا ہو، تو ایسی صورت میں بغیر بلائے قاضی کے پاس جا کر گواہی دے دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأقضیة ٩ (١٧١٩)، سنن ابی داود/الأقضیة ١٣ (٣٥٩٦)، سنن الترمذی/الشہادات ١ (٢٢٩٥، ٢٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٢ (٣) (صحیح )
2365Sunan Ibne-Majah

قرضوں پر گواہ بنانا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ، وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى حَتَّى بَلَغَ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا سورة البقرة آية 282 ـ 283 فَقَالَ: هَذِهِ نَسَخَتْ مَا قَبْلَهَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے آیت کریمہ: يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى کی تلاوت کی، یہاں تک کہ فإن أمن بعضکم بعضا یعنی اے ایمان والو! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور لکھنے والے کو چاہیئے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے، کاتب کو چاہیئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے، پس اسے بھی لکھ دینا چاہیئے اور جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے، اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں، ہاں جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے، اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرلو، تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے، اور گواہوں کو چاہیئے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں، خریدو فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کرلیا کرو، اور (یاد رکھو کہ) نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو اور اگر تم یہ کرو گے تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے، اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو، ہاں اگر آپس میں ایک دوسرے سے مطمئن ہو تو جیسے امانت دی گئی ہے وہ اسے ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے، اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وہ گنہگار دل والا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (سورۃ البقرہ: ٢٨٢ ، ٢٨٣ ) تک پہنچے تو فرمایا: اس آیت نے اس پہلی والی آیت کو منسوخ کردیا ہے۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri recited this Verse: "O you who believe! When you contract a debt for a fixed period ..." until: "then if one of you entrusts the other." Then he said: "This abrogates what came before”.

Notes · وضاحت
١ ؎: اور بعض علماء نے کہا کہ سابقہ آیت منسوخ نہیں ہے اس لئے کہ وہ استحبابی حکم تھا، واجب نہ تھا اور مستحب یہی ہے کہ جب قرض لیا جائے تو اس کو لکھیں اور گواہ بنالیں کیونکہ زندگی کا اعتبار نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ دائن (قرض خواہ) یا مدیون (مقروض) مرجائے اور ان کے وارثوں میں جھگڑا ہو یا مدیون کے ذمہ قرض رہ جائے اس کے وارث ادا نہ کریں تو عاقبت کا مواخذہ رہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٣٦٤، ومصباح الزجاجة: ٨٢٩) (حسن )
2366Sunan Ibne-Majah

جس کی گواہی جائز نہیں

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا مَحْدُودٍ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ خائن مرد کی گواہی جائز ہے اور نہ خائن عورت کی، اور نہ اس کی جس پر اسلام میں حد نافذ ہوئی ہو، اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ و عداوت رکھے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib from his father that his grandfather said that the Messenger of Allah ﷺ said: "The testimony of a man or woman who is treacherous, or of one who has been subjected to one of the Hadd punishments of Islam, or of one who bears a grudge against his brother, is not permissible."

Notes · وضاحت
١ ؎: جس سے وہ کینہ رکھتا ہو اس کی گواہی جائز نہیں ہے، البتہ اگر اس کے فائدہ کے لئے گواہی دے تو قبول ہوگی، اہل حدیث کے نزدیک اس شخص کی شہادت جو عادل نہ ہو مقبول نہیں ہے، اس لئے کہ قرآن میں ہے: وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ (سورة الطلاق:2)، اور اپنے میں سے دو عادل کو گواہ کرلو غرض یہ کہ شہادت میں ضروری ہے کہ شاہد مسلمان ہو، آزاد ہو، مکلف ہو، یعنی عاقل بالغ ہو، عادل ہو، صاحب مروت ہو متہم نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٤)، ومصباح الزجاجة: ٨٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨١، ٢٠٣، ٢٠٨) (حسن) (سند میں حجاج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن ترمذی میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٦٦٩ )
2367Sunan Ibne-Majah

جس کی گواہی جائز نہیں

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بدوی (دیہات میں رہنے والے) کی گواہی شہری (بستی میں رہنے والے) کے خلاف جائز نہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The testimony of a Bedouin against a town-dweller is not permissible."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ١٧ (٣٦٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٣١) (صحیح )