فیصلوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 15 · 67 hadiths · Page 4 of 4

2368Sunan Ibne-Majah

ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدِينِيُّ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ اور (مدعی کی) قسم سے فیصلہ فرمایا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ passed judgment on the basis of an oath (from the claimant) along with a (single) witness. [This is in the absence of two witnesses.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو تو اس سے دوسرے گواہ کی جگہ قسم کو قبول کرلیا جائے گا، جمہور کا یہی مذہب ہے، ان کا کہنا ہے کہ مالی معاملات میں ایک گواہ اور ایک قسم جائز ہے البتہ غیر مالی معاملات میں دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک مالی معاملات ہوں یا غیر مالی معاملات دونوں صورتوں میں دو گواہوں کا ہونا لازمی ہے، اس باب کی ساری احادیث ان کے خلاف حجت ہیں ان کا استدلال: وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ (سورة الطلاق:2) اور وَاسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ من رِّجَالِكُمْ (سورة البقرة: 282) سے ہے لیکن ان کا استدلال کامل نہیں بالخصوص جبکہ وہ مفہوم مخالف کے قائل نہیں (تفصیل کے لیے دیکھئے اعلام الموقعین ج ١ ص ٣٢ ، ٢٨ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢١ (٣٦١٠، ٣٦١١)، سنن الترمذی/الأحکام ١٣ (١٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٤٠) (صحیح )
2369Sunan Ibne-Majah

ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور (مدعی کی) قسم سے فیصلہ فرمایا۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ passed judgment on the basis of an oath (from the claimant) along with a (single) witness.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ١٣ (١٣٤٤)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٥) (صحیح )
2370Sunan Ibne-Majah

ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ اور (مدعی کی) قسم سے فیصلہ فرمایا۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ passed judgment on the basis of a witness along with an oath (by the claimant)."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأقضیة ٢ (١٧١٢)، سنن ابی داود/الأقضیة ٢١ (٣٦٠٨)، (تحفة الأشراف: ٦٢٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٨، ٣١٥، ٣٢٣) (صحیح )
2371Sunan Ibne-Majah

ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، عَنْ سُرَّقٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجَازَ شَهَادَةَ الرَّجُلِ وَيَمِينَ الطَّالِبِ.

سرق (ابن اسد جہنی) ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مدعی کی قسم کے ساتھ ایک شخص کی گواہی کو جائز رکھا ١ ؎۔

It was narrated from Surraq that the Prophet ﷺ allowed the testimony of a man along with the oath of the claimant.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابن الجوزی نے التحقیق میں کہا کہ اس حدیث کے راوی بیس صحابہ کرام ؓ سے زیادہ ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ فرمایا اور جمہور صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے کہ مدعی سے قسم لی جائے، اگر وہ قسم کھالے تو اس کا دعوی ثابت ہوگیا، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اب مدعی علیہ سے قسم لیں گے، اگر اس نے قسم کھالی تو مدعی کا دعوی ساقط ہوگیا، اور اگر انکار کیا تو مدعی کا دعوی ثابت ہوگیا، اور پھر مدعی کا حق مدعی علیہ سے دلوایا جائے گا، الا یہ کہ وہ معاف کر دے، مگر یہ امر اموال کے دعوی میں ہوگا (یعنی ایک شاہد اور قسم پر فیصلہ) جب کہ حدود، نکاح، طلاق، عتاق، سرقہ اور قذف وغیرہ میں دو گواہ ضروری ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٢، ومصباح الزجاجة: ٨٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٢١) (صحیح) (سند میں مصری تابعی مبہم راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
2372Sunan Ibne-Majah

جھوٹی گواہی

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ 30 حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ سورة الحج آية 30-31.

خریم بن فاتک اسدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز فجر پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا، پھر آیت کریمہ: واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشرکين به جھوٹ بولنے سے بچو، اللہ کے لیے سیدھے چلو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو (سورة الحج: ٣٠ -٣١) کی تلاوت فرمائی۔

It was narrated that Khuraim bin Fatik Al-Asadi said that the, Prophet ﷺ prayed the Morning prayer, and when he had finished, he stood up and said: "Bearing false witness is equivalent to associating others with Allah," three times. Then he recited this Verse: And shun lying speech (false statements), Hunafa Lillah (i.e., worshiping none but Allah), not associating partners (in worship) to Him."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ١٥ (٣٥٩٩)، سنن الترمذی/الشہادات ٣ (٢٣١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٥) (ضعیف) (سند میں سفیان کے والد زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں مجہول ہیں )
2373Sunan Ibne-Majah

جھوٹی گواہی

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَنْ تَزُولَ قَدَمُ شَاهِدِ الزُّورِ حَتَّى يُوجِبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جھوٹی گواہی دینے والے کے پاؤں (قیامت کے دن) نہیں ٹلیں گے، جب تک اللہ اس کے لیے جہنم کو واجب نہ کر دے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: The one who bears false witness will not move away (on the Day of Resurrection) until Allah condemns him to Hell.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤١٧، ومصباح الزجاجة: ٨٣٢، ومصباح الزجاجة: ٨٣٢) (موضوع) (محمد بن الفرات کی امام احمد نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٥٩ )
2374Sunan Ibne-Majah

یہودونصاری کی گواہی ایک دوسرے کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجَازَ شَهَادَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب کی آپس میں ایک دوسرے کے خلاف گواہی کو جائز رکھا ہے۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ allowed the People of the Book to testify against one another.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٥٦، ومصباح الزجاجة: ٨٣٣) (ضعیف) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٦٦٨ )